جنگ میں اپنی فتح کو مستحکم کرنا ہوگا/ ایران، دشمنوں کی من مانی کا مقام نہیں، میجر جنرل حاتمی

ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف نے کہا: ایران، دشمنوں کی من مانی اور تسلط پسندی کی جگہ نہیں اور اگر خطہ غیر محفوظ ہوگا تو اس کے اثرات تمام ممالک پر مرتب ہوں گے۔
خبر کا کوڈ: 6286
تاریخ اشاعت: 28 September 2026 - 09:45 - 19December 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایران، دشمنوں کی من مانی اور تسلط پسندی کی جگہ نہیں اور اگر خطہ غیر محفوظ ہوگا تو اس کے اثرات تمام ممالک پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مسلط کردہ جنگ اگرچہ ایران کی فتح پر منتج ہوئی، تاہم جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور ایران کو اپنی فتح مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ دشمن کی جانب سے مزید سخت حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

میجر جنرل حاتمی

امام علی آفیسرز یونیورسٹی میں پہلے قومی ایرانی سپاہی فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل حاتمی نے شہداء کے خاندانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہداء کے خاندان پوری قوم پر حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہفتۂ دفاعِ مقدس کے مختلف ایام اور بالخصوص ’’ایرانی سپاہی کے یوم‘‘ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ شہید لیفٹیننٹ جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے متعدد اعلیٰ عہدوں کے باوجود خود کو ’’ایرانی سپاہی‘‘ کہلانا پسند کیا۔ ان کے بقول سپاہی وہ شخص ہے جو قوم، وطن، عقائد اور مقدس اقدار کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہو۔

انہوں نے اسلام میں جہاد اور دفاع کو مقدس قرار دیتے ہوئے کہا کہ وطن کی خدمت اور دفاع اس وقت حقیقی قدر بنتا ہے جب وہ آزادی، عزت اور قومی خود مختاری کے پرچم تلے انجام دیا جائے۔ انہوں نے شہید حاج قاسم سلیمانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی اپنی وصیت میں قبر پر ’’سپاہی‘‘ لکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

میجر جنرل حاتمی نے اگست 1941ء اور اگست 1980ء کے حالات کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ ۱۳۲۰ میں ایران پر بیرونی طاقتوں کے حملے کے باوجود وسیع پیمانے پر مزاحمت سامنے نہیں آئی جبکہ ۱۳۵۹ میں بعثی عراق کے حملے کے وقت پوری ایرانی قوم، فوج، سپاہ، بسیج، قبائل، غیر منظم جنگی گروہوں اور سرحدی باشندوں نے مزاحمت کا پرچم بلند کیا اور آٹھ سال تک جنگ لڑی جس کے نتیجے میں ملک کی ایک بالشت زمین بھی دشمن کے حوالے نہیں کی گئی۔

انہوں نے حالیہ جنگ کے دوران دشمن کے اندازوں کو بھی غلط قرار دیا اور کہا کہ دشمن سمجھتا تھا کہ اعلیٰ کمانڈرز اور اہم شخصیات کی شہادت کے بعد ایران میں انتشار اور انہدام پیدا ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ایرانی کمانڈرز نے خطرات کے باوجود اپنی ڈیوٹیز نہیں چھوڑیں، ملک کا دفاع کیا اور دشمن کو شکست دی جبکہ ایرانی قوم نے دشمن کے انتشار پیدا کرنے کے منصوبے کو بھی ناکام بنا دیا۔

میجر جنرل حاتمی نے کہا کہ دشمن کو حالیہ جنگ میں کاری ضربیں لگی ہیں اور اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے، اسی لیے وہ الجھن اور بے بسی کا شکار ہے۔ انہوں نے امریکی صدر کی ایران میں بغاوت اور خانہ جنگی کی باتوں کو ایرانی عوام پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف ایسے منصوبے کامیاب نہیں ہوں گے۔

انہوں نے اقوام متحدہ میں امریکی صدر کے وینزویلا کے حوالے سے بیان کو بھی مثال بناتے ہوئے کہا کہ اسی نوعیت کا منصوبہ ایران کے لیے بھی بنایا گیا تھا لیکن ایرانی قوم نے اسے ناکام بنا دیا اور آئندہ بھی غیر ملکیوں کو اپنی سرزمین پر قبضے کی اجازت نہیں دے گی۔

میجر جنرل حاتمی نے آبنائے ہرمز کو ایران کی ’’عزت اور شرف کی آبنائے‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران تجارت اور معمول کی زندگی سے محروم ہوگا تو خطے کا کوئی دوسرا ملک بھی معمول کے مطابق تجارت اور زندگی نہیں گزار سکے گا۔ انہوں نے ہمسایہ ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعاون کو علاقائی سلامتی کا ضامن نہ سمجھیں کیونکہ خطے کی سلامتی خود خطے کے ممالک کے ذریعے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار سلامتی امریکہ اور صیہونی حکومت کے اثر و رسوخ کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں اور اس تبدیلی کو انہوں نے مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والا عمل قرار دیا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں