نئی جنگ کی آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، میجر جنرل عبداللہی

مسلح افواج کے چیف آف سٹاف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف نئی جنگ شروع کی گئی تو اس کی آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
خبر کا کوڈ: 6310
تاریخ اشاعت: 05 October 2026 - 22:28 - 26December 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، مسلح افواج کے چیف آف سٹاف اور حضرت خاتم الانبیاءؐ سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے ایک پیغام میں خبردار کیا: اگر ایران کے خلاف نئی جنگ شروع کی گئی تو اس کی آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

میجر جنرل عبداللہی

اس پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

إِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِهِ صَفًّا کَأَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَرْصُوصٌ (صف، آیت 4)

عزیز اور مبعوث کی گئی اسلامی ایران عوام!

اب خداوندِ متعال کی خصوصی عنایات، ہمارے امام و مولا حضرت ولی عصرؑ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی خاص توجہات، مقدس اسلامی جمہوری نظام کے لیے ملت کے تمام طبقات کی بے دریغ حمایت جو امامینِ انقلابِ اسلامی (خدا کی سلامتی ہو ان کی پاکیزہ ارواح پر) کی گراں قدر میراث ہے، امت کے قائدِ شہید امام خامنہ ای (اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف) کے صالح جانشین کی جرأت مندانہ اور حکیمانہ قیادت، خدمت گزار حکومت کی انتھک کوششوں اور مسلح افواج کی مجاہدانہ کاوشوں کے باعث، امریکہ کے شر پسند اور باغی حکمرانوں اور جعلی صیہونی حکومت کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے خلاف مسلط کردہ اور ظالمانہ جنگیں شکست سے دوچار ہو چکی ہیں۔ آزاد اور غیر جانب دار ماہرین کے اعتراف کے مطابق، امریکہ کا خبیث صدر اور صیہونی مجرمانہ گروہ کا سربراہ مختلف شعبوں میں شدید بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

بعض خبروں اور اطلاعات کے مطابق وہ ایک بار پھر ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کے عظیم جھوٹ کو بہانہ بنا رہے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سربلند اور طاقتور ایران کمزور حالت میں ہے۔ اسی حوالے سے چند نکات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں:

1۔ کسی بھی آزاد انسان سے یہ بات پوشیدہ نہیں اور سب اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ عظیم اور کئی ہزار سالہ تہذیب کے حامل عزیز ایرانی عوام ہمیشہ آزاد، ظلم ستیز اور انصاف پسند رہی ہے۔ اسلامِ عزیز کی برکت سے وہ ولایت کی پیروی، ظلم کے مقابلے میں ثابت قدمی، مظلوم کی حمایت، نصرتِ الٰہی پر ایمان اور ظالموں پر یقینی فتح جیسے درخشاں اوصاف سے بھی آراستہ ہوئے ہیں اور اس راستے پر آگے بڑھتے ہوئے عزت کے ساتھ کسی بھی ظالم اور جابر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔

2۔ صیہونی مجرمانہ گروہ جس نے اپنی 80 سالہ منحوس اور ناجائز تاریخ کی بنیاد لوٹ مار، قتل اور زیادتی پر رکھی ہے، محاسباتی غلطی اور ایک کمزور ایران کے ساتھ مقابلے کے وہم میں مبتلا ہو کر، عظیم شیطان کے گرین فلیگ کے تحت 12 روزہ جنگ اور جنگِ رمضان کا آغاز کیا۔ اس نے امریکہ کے سرکش صدر کو مسخّر کر کے اسلامی ایران کے خلاف جنگ شروع کی۔ جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد مختلف وجوہات، بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے طاقتور، مؤثر اور کاری ضربوں کے باعث اور بے بسی کی حالت میں، اس نے جنگ روکنے کی درخواست کی اور اس جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے لگا جس کا آغاز خود اسی نے کیا تھا۔

گزشتہ دو جنگوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف غاصب حکومت اور مقبوضہ علاقوں کے غیر قانونی باشندوں کو سلامتی حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے حکمرانوں کی کمزوری، نااہلی اور بدعنوانی کی دراڑیں مزید نمایاں ہو گئیں اور مزید عدم تحفظ بھی پیدا ہو  جس کے آثار کو چھپایا نہیں جا سکتا۔

ہمیں مکمل یقین ہے کہ خبیث صیہونی حکومت نہ آج اور نہ ہی کسی بھی وقت طاقتور ایران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ رکھ سکے گی۔ اگر کسی بھی وجہ سے اس سے دوبارہ محاسباتی غلطی ہوئی اور اس نے ایک اور جنگ شروع کی تو ایرانی عوام اور بہادر مجاہدین کا غضبِ الٰہی کی مانند برسنے والا قہر ان کے تمام مقاصد اور خوابوں کو خاک میں ملا دے گا۔

3۔ امریکہ کا خود پسند صدر بھی جان لے کہ پہلی بات، اسلامی جمہوریہ ایران کا عقیدہ ہے کہ «پیلا کتا گیدڑ کا بھائی ہے» اور ایران امریکی کانگریس کے انتخابات کے نتائج کا انتظار نہیں کر رہا اور نہ کرے گا بلکہ یہ امریکی عوام ہیں جو بے تابی سے منتظر ہیں کہ صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے جھوٹ کا جواب دیں۔

دوسری بات، انتخابات سے پہلے ہو یا بعد میں اور چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو، اگر وہ خود یا صیہونی بچوں کی قاتل حکومت کے اکسانے پر اسلامی ایران کے خلاف کوئی کارروائی کرتا ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج فوری طور پر پوری شدت، طاقت اور شدید انداز میں بغیر کسی پابندی کے امریکی مفادات کو نشانہ بنائیں گی؛ جیسا کہ آپ نے جنگِ رمضان میں دیکھا۔

4۔ خطے میں امریکہ کی میزبانی کرنے والے ممالک بھی جان لیں کہ خطے میں عدمِ تحفظ اور اقتصادی مسائل پیدا ہونے کا اصل عامل خطے میں امریکہ کی دہشت گرد فوج کی موجودگی ہے اور جب تک یہ موجودگی جاری رہے گی، عدمِ تحفظ بھی موجود رہے گا۔

آگاہ رہیں کہ اگر ایران کے خلاف نئی جنگ شروع کی گئی تو اس کی آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

اسی طرح صیہونی مجرمانہ گروہ کے سربراہ کی خطے میں موجودگی اور یہ اعلان کہ ایران کا جوہری پروگرام فوجی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اولاً محض وہم پر مبنی ہے اور ثانیاً ایران کو خوفزدہ کرنے اور اسے ایک خطرے کے طور پر پیش کرنے کے لیے ہے۔

ہوشیار رہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کے ترقی کے مرحلے میں داخل ہونے کا دعویٰ ایسے مجرم کی جانب سے کیا جا رہا ہے جس کے پاس کئی سو جوہری وارہیڈز موجود ہیں حالانکہ سب ایران کے جوہری پروگرام کے پُر امن ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے جن کی اس مجرم نے نہ پہلے کبھی پابندی کی ہے اور نہ اب کرتا ہے۔

5۔ ہم بین الاقوامی اداروں، بالخصوص بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو خبردار کرتے ہیں کہ بھیڑ کی کھال میں بھیڑیے کا کردار ادا کرنے سے باز آئیں اور ایران کے جوہری مراکز کے بارے میں بے بنیاد بیانات دینے کا سلسلہ جاری رکھنے سے گریز کریں۔

6۔ آخر میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اسلامی ایران پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، ہر نوعیت اور ہر سطح کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور نصرتِ الٰہی پر امید اور یقین رکھتا ہے۔

وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ

مسلح افواج کے چیف آف سٹاف اور حضرت خاتم الانبیاءؐ سینٹرل ہیڈکوارٹر کمانڈر

میجر جنرل پائلٹ علی عبداللہی

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں