حزبالله کا خاموش شکاری; فرنٹ لائن پر مرکاوا ٹینکوں کے لیے نیا بھیانک خواب
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، حالیہ جنوبی لبنان کی جھڑپوں میں حزبالله نے جدید اور غیرمتوازن (asymmetric) حکمتِ عملی کے ذریعے میدانِ جنگ میں نمایاں برتری حاصل کی ہے۔ اس برتری کا ایک اہم ذریعہ فائبر آپٹک ڈرونز کا وسیع استعمال ہے، جو صیہونی فوج کی جدید ٹیکنالوجی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔
یہ ڈرونز روایتی ماڈلز کے برعکس ایک باریک اور ہلکی فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے براہِ راست آپریٹر سے منسلک ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ الیکٹرانک وارفیئر اور جیمِنگ کے خلاف مکمل طور پر محفوظ رہتے ہیں۔ آپریٹر ۱۵ کلومیٹر یا اس سے زیادہ فاصلے پر محفوظ رہتے ہوئے ہدف کی واضح اور براہِ راست ویڈیو حاصل کر سکتا ہے۔

ایک حالیہ آپریشن میں، ایسے ہی ایک ڈرون نے جنوبی لبنان کی تباہ شدہ عمارتوں کے اوپر انتہائی نچلی پرواز کرتے ہوئے Merkava ٹینک کو نہایت درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا، جبکہ صیہونی فوجی اس کی موجودگی سے بھی بے خبر رہے۔
صیہونی ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ یہ ڈرونز "تقریباً ناقابلِ شناخت" ہیں کیونکہ یہ کوئی الیکٹرانک سگنیچر نہیں چھوڑتے اور ان کے لانچ پوائنٹ کو ٹریس کرنا ممکن نہیں۔ صیہونی فوج، جو عموماً اپنی تکنیکی برتری پر انحصار کرتی ہے، وائرلیس سگنلز میں خلل ڈال کر ڈرونز کو ناکارہ بنانے کی کوشش کرتی ہے؛ تاہم اس سادہ مگر مؤثر ٹیکنالوجی کے سامنے عملاً بے بس ہو چکی ہے اور اسی وجہ سے عارضی اقدامات جیسے فزیکل جال نصب کرنے پر اتر آئی ہے، جن کی کامیابی کی شرح نہایت کم ہے۔
یہ کامیابیاں حزبالله کی وسیع تر غیرمتوازن جنگی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس میں ڈرون ٹیکنالوجی اور عملی تجربے کے امتزاج سے میدان میں برتری برقرار رکھی جا رہی ہے۔ اس تنظیم نے متنوع اور جدید ڈرون صلاحیتیں پیدا کی ہیں اور ماہر آپریٹرز تیار کیے ہیں۔ یہ ڈرونز عموماً چینی یا ایرانی سویلین ماڈلز سے اخذ کر کے ان میں چھوٹے دھماکہ خیز ہتھیار نصب کیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک کم لاگت، مؤثر اور ہدفمند ہتھیار تیار ہوتا ہے۔
فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ طریقہ کار غیرمتوازن جنگ کی ایک کلاسیکی مثال ہے، جہاں ایک فریق مہنگی اور پیچیدہ ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے جبکہ دوسرا فریق سادہ مگر ذہین حربوں سے دشمن کی کمزوریوں کو نشانہ بناتا ہے۔ یوکرین جنگ کے تجربات نے بھی ثابت کیا کہ اس نوعیت کے ڈرونز لاجسٹک لائنز کو مؤثر انداز میں متاثر کر سکتے ہیں اور حزبالله نے اسی حکمت عملی کو اپنے جغرافیائی ماحول میں کامیابی سے نافذ کیا ہے۔
مجموعی طور پر، فائبر آپٹک ڈرونز کا استعمال نہ صرف حزبالله کی آپریشنل صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ میدانِ جنگ کی صورتِ حال کو اس کے حق میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ صیہونی عسکری حکام بھی اس برتری کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور ان ڈرونز کے خلاف ان کی کوششیں غیر مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ حربی برتری اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید جنگوں میں محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ عزم، جدت اور مطابقت ہی فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔
