شکست خوردہ دشمن نے 7 حربوں پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، منسٹری اف انٹیلیجنس

اسلامی جمہوریہ ایران کی منسٹری اف انٹیلیجنس نے ایک وضاحتی بیان میں ایرانی قوم سے شکست کھانے والے دشمن اور اُس کی خطرناک سازشوں کے بارے میں اہم نکات بیان کیے ہیں۔
خبر کا کوڈ: 5922
تاریخ اشاعت: 28 May 2026 - 22:48 - 19August 2647

دفاع پریس کے دفاعی و سیکیورٹی گروپ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی منسٹری اف انٹیلیجنس نے ایک تفصیلی وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے ایرانی قوم سے شکست کھانے والے دشمن اور اُس کی سازشوں کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔

منسٹری اف انٹیلیجنس

بیان کا مکمل متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ملک پر مسلط کی گئی تیسری جنگ کے تازہ ترین حالات اور موجودہ حالات کے انٹیلیجنس اور سیکیورٹی تقاضوں کے پیشِ نظر، آگاه اور ثابت قدم ایرانی قوم کی خدمت میں چند نکات پیش کیے جاتے ہیں:

ہمارے عزیز وطن ایران پر مسلط کی گئی تین جنگیں اور ناکام فوجی بغاوتیں، دراصل اُن مسلسل، پوشیدہ اور متنوع جنگوں کی زیادہ واضح اور زیادہ خونریز شکلیں تھیں جو اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی ایام سے مغربی۔صیہونی پیسہ پرست اور انسان دشمن محاذ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی تھیں اور آج تک جاری ہیں۔ یہ جنگ، امریکہ پر قابض صیہونی اختاپوس کی قیادت میں، برطانیہ کی حمایت، یورپ کی پیروی اور خلیج فارس کے جنوبی حصے میں موجود اُن کے دولت مند غلاموں کے مالی تعاون سے، گزشتہ ۴۷ برسوں سے “ہمہ جہت ترکیبی جنگ” کی صورت میں ایران کی مجاہد قوم کے خلاف جاری ہے۔

ان تمام جنگوں اور بغاوتوں کا مقصد ایران کی سرزمین پر قبضہ، ملک کی تقسیم، نظام کو تسلیمِ شکست پر مجبور کرنا، ریاست کو منہدم کرنا اور اسلامی نظام کا خاتمہ تھا۔ لیکن خداوندی عنایات، امامِ کبیرؒ، امامِ شہیدؒ اور رہبرِ معظم انقلاب (دام ظلہ) کی مدبرانہ قیادت، نیز شہید پرور ایرانی قوم کی مزاحمت اور ملک کی فوجی، انتظامی اور سیکیورٹی طاقتوں کی قربانیوں کے باعث نہ صرف دشمن کے تمام مقاصد ناکام ہوئے بلکہ مغربی۔صیہونی طاقت کی نام نہاد ناقابلِ شکست شناخت کا جھوٹا افسانہ بھی ٹوٹ گیا اور عالمی سطح پر ایک نئی طاقت کے ظہور کی حقیقت آشکار ہوگئی۔

مسلسل جاری اس “دائمی جنگ” کے حوالے سے یہ حقیقت نہایت اہم ہے کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے پہلے ہی دن سے دشمن کی نرم اور ترکیبی جنگ بھی شروع ہوگئی تھی؛ کبھی مستقل طور پر اور کبھی سخت جنگوں کے ساتھ ساتھ یا اُن کے مقدمے کے طور پر۔ اس ترکیبی جنگ کے اجزاء نہایت وسیع اور متنوع ہیں۔ مختصراً اگر چند مثالیں دی جائیں تو انقلاب کے فوراً بعد شاہی حکومت کے عناصر کو منظم اور مسلح کرنے سے لے کر مارکسی گروہوں، ایکلیکٹِک جماعتوں، جعلی نسلی اور قومی نعروں والے گروہوں، ملک کے چاروں اطراف میں علیحدگی پسند تنظیموں، وسیع دہشت گردی، اعلیٰ حکام، عوام اور سائنس دانوں کے قتل، اور ہزاروں دیگر خبیث کارروائیوں تک سب کچھ اسی جنگ کا حصہ تھا۔ یہ تمام اقدامات ظالمانہ پابندیوں، معاشی دباؤ اور دشمن کی خفیہ ایجنسیوں سے وابستہ درجنوں فارسی زبان ذرائع ابلاغ کے نفسیاتی آپریشنز کے ساتھ مسلسل جاری رہے۔

تاہم گزشتہ 47 برسوں میں دشمن کی مسلسل سازشوں کے مقابل ایران کی ثابت قدمی، خصوصاً دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں میں کامیابی اور جنوری 2026 کی بغاوت کو ناکام بنانے کے بعد، آج دنیا بھر کے سینکڑوں ماہرین، محققین اور حکومتی شخصیات اس حقیقت کا اعتراف کر رہی ہیں۔ یہ مزاحمت تاریخ اور جغرافیے، دونوں اعتبار سے بے مثال قرار دی جا رہی ہے۔

آج دنیا کے تھنک ٹینکس یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کون سا ملک ایسا ہے جو صرف آٹھ ماہ کے اندر دو بڑی جنگوں اور ایک وسیع بغاوت سے گزرے، اُس کے اعلیٰ فوجی، انٹیلیجنس اور سیکیورٹی کمانڈرز شہید کر دیے جائیں، فوجی اڈوں، دفاعی صنعتوں اور حساس انفراسٹرکچر پر بمباری ہو، یہاں تک کہ اُس ملک کے رہبر اور سپریم کمانڈر کو بھی شہید کر دیا جائے مگر اس کے باوجود وہ ملک پوری طاقت کے ساتھ قائم و دائم رہے؟

یہ کیسے ممکن ہوا کہ یہی ملک نہ صرف عسکری میدان میں بھرپور دفاع اور حملہ جاری رکھتا ہے بلکہ اندرون ملک سلامتی کے دشمن عناصر، جاسوسوں، علیحدگی پسند گروہوں اور دشمن کے بنائے گئے گروہوں کے خلاف بھی بیک وقت کامیاب انٹیلیجنس جنگ لڑتا ہے؟

منسٹری اف انٹیلیجنس نے مزید کہا کہ دشمن کے خلاف اس مکمل انٹیلیجنس جنگ کی اصل تفصیلات بیان کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس کے متعدد حفاظتی اور سیکیورٹی تقاضے ہیں اور عوام تک جو معلومات پہنچائی جاتی ہیں وہ صرف اس عظیم دفاعی جدوجہد کا ایک محدود حصہ ہیں۔ وزارت کے بقول، اُس کی جارحانہ انٹیلیجنس کارروائیوں کا بڑا حصہ اب بھی خفیہ ہے، حتیٰ کہ خود امریکی۔صیہونی دشمن بھی اُن تمام نقصانات سے آگاہ نہیں جو انہیں پہنچائی جا چکی ہیں۔

بیان میں تاکید کی گئی کہ منسٹری اف انٹیلیجنس نے اس “پوشیدہ دائمی جنگ” میں صیہونی حکومت کے انٹیلیجنس افسران، تنصیبات، دستاویزات اور سیکیورٹی ڈھانچوں کو نہایت کاری ضربیں لگائی ہیں، جنہیں دشمن آج تک منظرِ عام پر نہیں لا سکا۔

وزارت نے کہا کہ مناسب وقت آنے پر ان کامیاب کارروائیوں کے بعض حصے عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے جیسا کہ ماضی میں صیہونی حکومت سے حاصل شدہ خفیہ دستاویزات کی رونمائی کی گئی تھی۔

بیان کے مطابق، اب جبکہ دشمن عسکری جنگ میں شکست کھا چکا ہے، وہ نرم جنگ، نفسیاتی جنگ، ادراکی جنگ اور ترکیبی سازشوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دشمن اب وہ اہداف، یعنی ایران کی حکومت کا خاتمہ اور ملک کی تقسیم، جنہیں عسکری حملے سے حاصل نہ کر سکا، دیگر راستوں سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔

منسٹری اف انٹیلیجنس کے مطابق دشمن کی ترجیحی منصوبہ بندی درج ذیل سات محاذوں پر مرکوز ہے:

1۔ معاشی دباؤ میں اضافہ اور مہنگائی اور اشیاء کی قلت کو بنیاد بنا کر عوامی اشتعال انگیزی۔

2۔ نسلی اور مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر قومی اتحاد کو نقصان پہنچانا۔

3۔ صیہونی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کو ایران کے شمال مغرب اور جنوب مشرقی سرحدی علاقوں میں تخریبی کارروائیوں کیلئے استعمال کرنا۔

4۔ ملک کے اندر دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں۔

5۔ اسلحہ، گولہ بارود اور غیر قانونی مواصلاتی آلات خصوصاً اسٹارلنک کی اسمگلنگ۔

6۔ دشمن نواز فارسی میڈیا، خصوصاً بی بی سی فارسی، وائس آف امریکہ اور ایران انٹرنیشنل کے ذریعے جاسوسی، نفسیاتی جنگ اور عوامی اشتعال انگیزی۔

7۔ وسیع سائبر حملے۔

منسٹری اف انٹیلیجنس نے اپنے بیان میں ایرانی قوم کو یقین دلایا کہ امامِ شہیدؒ، شہید انٹیلیجنس منسٹرحجت الاسلام سید اسماعیل خطیب اور دیگر شہداء کی قربانیوں کے باوجود اُن کے “گمنام سپاہی” اپنے عہد پر قائم ہیں اور رہبرِ معظم کے حکم کے مطابق اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے سیکیورٹی چھین کر عوام کو امن فراہم کرنے کیلئے پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔

بیان کے اختتام پر دشمن اور اُس کے ایجنٹس کو خبردار کیا گیا کہ ہر قسم کی تخریب کاری، جاسوسی، قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے، غیر قانونی اسلحہ اور مواصلاتی آلات کی اسمگلنگ، دہشت گردی، نسلی اور مذہبی اشتعال انگیزی اور بیرونی خفیہ ایجنسیوں سے تعاون کرنے والوں کے خلاف پوری سختی اور قانونی گرفت کے ساتھ کارروائی کی جائے گی۔

منسٹری اف انٹیلیجنس نے عوام سے اپیل کی کہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع منسٹری اف انٹیلیجنس کے ہاٹ لائن نمبر ۱۱۳ یا وزارت کے سرکاری پلیٹ فارمز پر فراہم کریں۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً