ہم امریکی محاصرہ توڑ دیں گے، میجر جنرل رضائی

آٹھ سالہ دفاعِ مقدسِ کے دوران آئی آر جی سی کے کمانڈر نے خطے کی تازہ ترین صورتحال اور مذاکرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:“ہم محاصرے کو مذاکرات کے ذریعے توڑیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو براہِ راست کارروائی کے ذریعے اسے ختم کریں گے”۔
خبر کا کوڈ: 5928
تاریخ اشاعت: 30 May 2026 - 18:36 - 21August 2647

دفاع پریس کے دفاعی و سیکیورٹی گروپ کے مطابق، میجر جنرل رضائی نے اس سوال کے جواب میں کہ “بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ برسوں کی کشیدگی اور اتحادی پارٹیز کی تبدیلی کے بعد اب ایک نئے علاقائی نظم میں داخل ہو رہا ہے۔ آپ، جو خطے کے مختلف تنازعات کے کئی مراحل کے گواہ رہے ہیں، بتائیے کہ ایران اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے رخ کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟” کہا:“ٹرمپ اور نیتن یاہو کا نظریہ دراصل ایک مشترکہ نظریہ ہے۔ اس نظریے کا دعویٰ ہے کہ اگر وہ خطے پر نیا نظم مسلط کرنا چاہتے ہیں تو ضروری بنیاد پر ایران کو گرانا ہوگا۔ مغربی ایشیا میں ایران کی موجودگی کے ساتھ ان کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو ازسرِ نو تشکیل دینا ناممکن ہے۔ نیتن یاہو بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدلنا چاہتا ہے۔ لہٰذا امریکہ اور صیہونی حکومت کا نظریہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکا ہے اور جب تک ایران موجود ہے، ان کا کوئی بھی مطلوبہ ‘نیو آرڈر’ حقیقت نہیں بن سکتا”۔

میجرجنرل محسن رضائی

انہوں نے مزید کہا:”اسی لیے جب انہوں نے غزہ، لبنان اور شام سے اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا تو دراصل وہ یہ کہہ رہے تھے کہ مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدلنے کی آخری چوٹی ایران پر قبضہ ہے”۔

میجر جنرل رضائی نے کہا:”آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ اسی نظریے کے ساتھ ایران کی طرف بڑھے۔ ایران کے بارے میں ان کے دو بنیادی اہداف ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر وہ ایران پر قبضہ کر لیں تو چین کے مغربی حصے اور روس کے جنوبی علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ لہٰذا ایران پر حملے کا مقصد جغرافیائی سیاست (Geopolitics) ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مطلوبہ ‘علاقائی نظم’ کے تناظر میں ایران ایک آزاد ملت کی حیثیت سے رکاوٹ ہے کیونکہ وہ چین کے مغرب اور روس کے جنوب تک پہنچنے کے راستے میں سدِّ راہ ہے”۔

انہوں نے مزید کہا:”دوسری وجہ اس خطے کا تیل اور گیس ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل ایران پر قبضہ کر لیتے تو وہ ایران، خلیج فارس، وسطی ایشیا اور قفقاز کے تمام تیل اور گیس ذخائر پر تسلط حاصل کر لیتے۔ اس توانائی کے ذریعے وہ چین، روس اور پوری عالمی معیشت کو کنٹرول کر سکتے تھے۔ یہی وہ کام ہے جو ٹرمپ نے وینزویلا میں کیا؛ وہ وہاں کیوں گیا؟ تیل کی خاطر”۔

چیفس آف سٹاف سپریم کونسل برائے اقتصادی ہم آہنگی کے سیکریٹری نے بیان کیا:لہٰذا مغربی ایشیا میں دو بنیادی مسائل ہیں: تیل اور زمین۔ اسرائیل زمین چاہتا ہے؛ یعنی جنوبی شام، جنوبی لبنان اور اردن و عراق کے بعض حصوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ ٹرمپ تیل کا خواہاں ہے۔ یہی ان کا مشترکہ نکتہ ہے۔ نتیجتاً ایک مسئلہ اقتصاد کا ہے اور دوسرا جغرافیائی سیاست کا۔ انہی دو عوامل نے امریکہ اور اسرائیل کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا اور انہوں نے جارج بش کی پالیسی کو ایک نئے انداز میں دہرایا”۔

انہوں نے کہا:”اب ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ یہ کام نہیں کر سکتے۔ خود خطے کو چاہیے کہ یورپی یونین کی طرز پر ایک اتحاد تشکیل دے تا کہ چین، روس، یورپ اور امریکہ کے ساتھ دنیا کی پانچویں بڑی طاقت کے طور پر ہم اجتماعی انداز میں عالمی امن و سلامتی کو منصفانہ بنیادوں پر برقرار رکھ سکیں”۔

میجر جنرل رضائی نے آبنائے ہرمز کے مستقبل کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا:”میں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے چینی دوستوں اور دیگر کئی ممالک کو آبنائے ہرمز کے بارے میں بالکل فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔ آبنائے ہرمز کا مستقبل تجارت اور ترقی کے راستے پر ہے۔ البتہ ہماری تشویش خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی سلامتی ہے کیونکہ اس کھلے راستے کو امریکہ اور اسرائیل نے بارہا اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے”۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا:”لہٰذا آبنائے ہرمز کا مسئلہ دراصل خلیج فارس میں امن و سلامتی سے متعلق ہے۔ اسی وجہ سے ہم اس پر اپنے کنٹرول اور انتظام میں سنجیدہ ہیں۔ آبنائے ہرمز فوجی یلغاروں، عدم استحکام اور عالمی طاقتوں کے استحصالی مقاصد کے لیے بند ہے لیکن تجارت کے لیے — خاص طور پر ہمارے ان دوست ممالک کے لیے جن کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ وہ صرف اقتصادی تعاون چاہتے ہیں — یہ راستہ کھلا رہے گا۔ چین اور بہت سے دوسرے ممالک آبنائے ہرمز کو تجارت کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، اس لیے انہیں کسی قسم کی تشویش نہیں ہونی چاہیے”۔

آٹھ سالہ دفاعِ مقدس کے دوران آئی آر جی سی کے کمانڈر نے اس سوال کے جواب میں کہ “ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کو اکثر تجزیہ کار غیر متوازن جنگ (Asymmetric Warfare) قرار دیتے ہیں۔ آپ، جنہوں نے کئی دہائیوں تک ایران کے سیکیورٹی نظریے کی تشکیل میں کردار ادا کیا، آج خطے میں غیر متوازن جنگ کے کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟” کہا:انقلابِ اسلامی کے بعد ایران کی تمام مسلح افواج — چاہے فوج ہو یا آئی آر جی— ازسرِ نو تشکیل دی گئی ہیں۔ آئی آر جی سی کے اندر ہم نے جنگ کا ایک نیا انداز متعارف کرایا ہے جو بنیادی طور پر غیر متوازن جنگ کے اصول پر مبنی ہے۔ مثال کے طور پر ہم انتہائی کم لاگت والے ڈرونز کے ذریعے لاکھوں اور اربوں ڈالر لاگت کی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔ حتیٰ کہ امریکہ کے مہنگے ترین ڈرون بھی ہمارے کم لاگت ڈرونز کا مؤثر مقابلہ نہیں کر سکتے۔ یہی منطق ہماری تیز رفتار کشتیوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ہماری حکمتِ عملی، آپریشنز، اسٹریٹیجی اور عسکری نظریہ مکمل طور پر غیر متوازن جنگ پر مبنی ہے”۔

انہوں نے مزید کہا:”12 روزہ جنگ کے دوران ہم نے اپنی طاقت کا ایک رخ دکھایا؛ جنگِ رمضان میں دوسرا رخ ظاہر کیا۔ اگر تصادم جاری رہا تو ہم تیسرا بُعد بھی آشکار کریں گے اور یہ ہماری جنگی حکمتِ عملی کی فطری لچک کی وجہ سے ہے۔ یہ آئی آر جی سی کے عسکری طرزِ عمل کے بنیادی اصول اور ستون ہیں — جدید عسکری سائنس میں ایک نیا پیراڈائم”۔

چیفس آف سٹاف سپریم کونسل برائے اقتصادی ہم آہنگی کے سیکریٹری نے اس سوال کے جواب میں کہ “ایران نے برسوں کی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے باوجود مزاحمتی پالیسی کو کیسے منظم کیا؟” کہا:

ہم بیس سال سے زائد عرصے سے پابندیوں کا شکار ہیں۔ ان پابندیوں کی تعداد غالباً دو ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے جن میں افراد، کمپنیاں، ادارے، بحری جہاز، انشورنس کمپنیاں حتیٰ کہ وہ ممالک بھی شامل ہیں جو ہمارے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ اس کے باوجود ہم ان پابندیوں کو غیر مؤثر بنانے کے طریقے تلاش کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور آئندہ بھی یہی کرتے رہیں گے”۔

انہوں نے مزید کہا:اس کے علاوہ ہم امریکہ کو مجبور کریں گے کہ وہ بحری محاصرہ ختم کرے — یا مذاکرات کے ذریعے، یا اگر مزاحمت کی گئی تو براہِ راست کارروائی کے ذریعے۔ لہٰذا تمام تر دباؤ کے باوجود ہماری معیشت کا مستقبل روشن اور امید افزا ہے جبکہ امریکہ کی معیشت کا مستقبل تاریک ہے۔ میری پیش گوئی ہے کہ آئندہ دس برسوں میں امریکہ دنیا کی دوسری یا تیسری اقتصادی طاقت کے درجے تک گر جائے گا”۔

میجر جنرل رضائی نے تاکید کی:ہم نے خود کو تیار کر لیا ہے کہ اگر بحری محاصرہ ایک معین مدت سے زیادہ جاری رہا تو ہم حملہ کریں گے اور محاصرہ توڑ دیں گے”۔

انہوں نے جاری مذاکرات کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا:امریکیوں کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ اس جنگ کو جاری رکھنا امریکہ کے لیے ایک نہایت تاریک سرنگ میں داخل ہونے کے مترادف ہے۔ امریکہ جتنا زیادہ تصادم کی طرف بڑھے گا، اتنا ہی ایک بے انتہا تاریک سرنگ میں دھنستا جائے گا؛ جبکہ ہمارے لیے راستہ مکمل طور پر روشن ہے۔ امریکہ تاریکی میں ہماری طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ ہم ان کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں”۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً