تمام ممکنہ منظرناموں کے لیے آئی آر جی سی کی مکمل تیاری / مسلح افواج کی صلاحیتوں میں مختلف شعبوں کا اضافہ ہوا ہے، جنرل محبی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، آئی آر جی سی کے ترجمان اور نائب سربراہ تعلقاتِ عامہ **جنرل حسین محبی** نے دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے شہداء، بالخصوص انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سافٹ وار میں ذرائع ابلاغ کے فیصلہ کُن کردار پر زور دیا۔

انہوں نے کہا:
“آج ملک کے ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تیسری مسلط کردہ جنگ میں ایرانی قوم کی دشمن پر حاصل کردہ کامیابی کی درست اور دقیق تصویر پیش کریں؛ ایسی کامیابی جو عوام کے مختلف طبقات کے اتحاد، یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی کے نتیجے میں حاصل ہوئی۔ لہٰذا دشمن کو غلط بیانیوں اور حقائق کی تحریف کے ذریعے اس جنگ کی حقیقت کو مسخ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے”۔
جنگ کے میدان میں میڈیا کی اہمیت
جنرل محبی نے مزید کہا کہ مؤثر بیانیہ اسی وقت ممکن ہے جب وہ صداقت، استحکام اور اعتماد سازی پر مبنی ہو۔ منقولات جتنی زیادہ مستند، دقیق اور سچائی پر مبنی ہوں گی، اتنی ہی زیادہ عوامی رائے کو قائل کرنے اور مخاطبین کو ساتھ ملانے کی صلاحیت رکھیں گی۔
آئی آر جی سی کے نائب سربراہ تعلقاتِ عامہ نے موجودہ جنگوں میں میڈیا کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا:
“جنگ میں میڈیا کو ایک ضمنی آلے کے طور پر نہیں بلکہ جنگی ساز و سامان کے بنیادی ارکان میں سے ایک کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ جس طرح میزائل، ڈرون اور عسکری طاقت کے دیگر عناصر اہم ہیں، اسی طرح میڈیا بھی اہم ہے اور اسے طاقت اور جنگ کے نظام میں ایک بنیادی ستون کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے”۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس مقام تک پہنچنا ہوگا جہاں منقولات کو بھی آپریشن کا حصہ سمجھا جائے اور جس قدر اہمیت میزائل فائر کرنے کو دی جاتی ہے، اتنی ہی اہمیت اس کی مؤثر تشریح و روایت کو بھی دی جائے ورنہ ہماری صلاحیتوں کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جائے گا۔
جنرل محبی نے معلومات کی فراہمی کے وقت اور ترتیب کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی معلومات تیزی سے دی جانی چاہئیں جبکہ موضوع کے تمام پہلو واضح ہونے کے بعد تکمیلی بیانیہ پہلی روایت کی تکمیل کرے۔
آج مسلح افواج کی تیاری ماضی سے زیادہ ہے
آئی آر جی سی کے ترجمان نے کہا:
“آج اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی تیاری پہلے سے کہیں زیادہ ہے اور یہ تیاری نہ صرف گزشتہ صلاحیتوں کا نتیجہ ہے بلکہ میدانِ جنگ اور دشمن کے ساتھ براہِ راست مقابلے سے حاصل ہونے والے تجربات کا بھی ثمر ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج دشمن، اس کے حملہ آور اور دفاعی آلات، اس کے فریب اور اس کے آپریشنل طریقۂ کار کے بارے میں ہماری معلومات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ واضح اور جامع ہیں۔
ایران کی عسکری صلاحیت کم نہیں ہوئی
جنرل محبی نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا:
“اس تمام عرصے میں ملک کی جنگی صلاحیت میں کبھی کوئی کمی نہیں آئی۔ ان دعوؤں کے برخلاف، نہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ تباہ ہوئی اور نہ ہی ملک کی آپریشنل صلاحیت میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے”۔
انہوں نے کہا کہ اس کی بہترین دلیل یہ ہے کہ امریکہ اپنی بری، بحری اور فضائی طاقت کے وسیع استعمال کے باوجود چند منٹ کے لیے بھی آبنائے ہرمز کو اسلامی جمہوریہ ایران کے کنٹرول سے باہر نہیں نکال سکا۔
جنگ بندی کے دوران عسکری صلاحیت میں اضافہ
آئی آر جی سی کے ترجمان نے کہا:
“حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کے عرصے میں ہماری عسکری اور آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے اور اس موقع کو جنگی طاقت میں اضافے، تیاریوں کی مضبوطی اور نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ آج ہماری مسلح افواج پہلے سے بہتر حالات میں ہیں”۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کہا کہ اس پر اسلامی جمہوریہ ایران کی حاکمیت مکمل طور پر برقرار رہی ہے اور کبھی کمزور نہیں ہوئی جبکہ اس کا انتظام اور کنٹرول آئی آر جی سی کے اقتدار کی نمایاں علامتوں میں سے ایک ہے۔
دشمن کے بارے میں آپریشنل شناخت میں اضافہ
جنرل محبی نے کہا کہ تیسری مسلط کردہ جنگ کا ایک اہم نتیجہ دشمن کے بارے میں مسلح افواج کی آپریشنل شناخت میں اضافہ ہے۔
انہوں نے وضاحت کی:
“ماضی میں دشمن کی صلاحیتوں اور ساز و سامان کے بارے میں ہماری معلومات کا ایک حصہ انٹیلیجنس اور خبروں کی رپورٹس پر مبنی تھا لیکن آج یہ شناخت میدانِ جنگ کے عملی تجربے پر مبنی شناخت میں تبدیل ہو چکی ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ایرانی مسلح افواج دشمن کے ڈیفنس سسٹم، عسکری صلاحیتوں اور اس کے آپریشنل اڈوں کے بارے میں زیادہ دقیق معلومات رکھتی ہیں جبکہ دشمن کی آپریشنل حکمتِ عملیوں کے ساتھ براہِ راست مقابلے کا تجربہ بھی ہماری دفاعی طاقت کا حصہ بن چکا ہے۔
مختلف شعبوں میں صلاحیتوں کا اضافہ
آئی آر جی سی کے نائب سربراہِ تعلقاتِ عامہ نے کہا:
“اس عرصے میں نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران کی عسکری طاقت میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ مختلف شعبوں میں اس میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ جارحانہ اور دفاعی دونوں طرح کے ساز و سامان میں حاصل ہوا ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جارحانہ صلاحیت، دفاعی طاقت، کمانڈ کا تجربہ، جنگی میدان سے حاصل ہونے والا علم اور دشمن کی بہتر شناخت کو یکجا کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ حالیہ جنگ سے پہلے اور حتیٰ کہ ایک یا دو ماہ قبل کے مقابلے میں ایران کی عسکری طاقت نمایاں طور پر بڑھ چکی ہے۔
آئی آر جی سی تمام ممکنہ منظرناموں کے لیے تیار ہے
جنرل محبی نے کہا:
“تمام شعبوں میں تیاری کے باوجود عسکری محاذ کو بدستور اعلیٰ ترین سطح کی تیاری پر رکھا جائے گا کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ دشمن اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سب سے زیادہ عسکری میدان پر انحصار کرتا ہے”۔
انہوں نے آخر میں کہا:
“اگر دشمن دوبارہ عسکری میدان میں واپس آتا ہے تو آپریشن کی نوعیت، میدانِ جنگ کا جغرافیہ اور حتیٰ کہ استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی نوعیت بھی مختلف ہوگی اور آئی آر جی سی تمام ممکنہ منظرناموں کے لیے مکمل طور پر تیار ہے”۔
