امریکہ صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے، جنرل تولائی
جنرل **محمد تولائی**، آئی آر جی سی کی انٹیلیجنس تنظیم کے سابق کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر نے دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے خطے میں امریکہ کے حالیہ رویّوں اور **امریکی دہشت گرد فوج** کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی طرف اشارہ کیا اور ان اقدامات کو اس ملک کی جارحانہ فطرت کا نتیجہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا:
"بچھو کا ڈنک دشمنی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کی فطرت کا تقاضا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ضرب المثل بخوبی واضح کرتی ہے کہ امریکہ کی طاغوتی ذہنیت ایک ذاتی اور فطری خصوصیت ہے جسے مذاکرات، گفت و شنید یا نرمی اختیار کر کے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
جنرل تولائی نے اس بات پر زور دیا کہ طاغوت، طاقت کی زبان کے سوا کسی اور منطق کو قبول نہیں کرتا اور مزید کہا:
خلیج فارس میں امریکہ کے حالیہ اقدامات اور اسی طرح لبنان میں مجرم صیہونیوں کی مہم جوئیوں اور جرائم، جن کے جواب میں **خاتم الانبیاء (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر** کی دھمکی کے فوراً بعد پسپائی اختیار کی گئی، اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ دشمن صرف طاقت اور آہنی مشت کے سامنے ہی پیچھے ہٹتا ہے اور اپنی شرارتوں سے باز آتا ہے۔
انہوں نے واشنگٹن کے مذاکراتی عمل میں بار بار ہونے والی بدعہدیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
مذاکرات کے گزشتہ دو ادوار میں بھی ہم نے دیکھا کہ امریکہ نے عین مذاکرات کے دوران اپنے حملے شروع کر دیے تھے۔ یہ رویّے ثابت کرتے ہیں کہ جب تک جرائم میں ملوث امریکہ اور خطے میں اس کے **پاگل کتے (صیہونی رژیم)** کی طاغوتی سوچ برقرار رہے گی، خطہ امن و سکون نہیں دیکھ سکے گا۔
آئی آر جی سی کی انٹیلیجنس تنظیم کے سابق کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر نے آخر میں کہا:
آج اسلامی جمہوریہ ایران، مزاحمت کے محاذ، خطے کی اقوام اور عالمی رائے عامہ اس واضح نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ صرف ثابت قدمی اور طاقت کی منطق کے ذریعے ہی اس منحوس حکومت کو قابو کیا جا سکتا ہے اور اس کی شرارتوں کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔
