تیز رفتار جنگی کشتی 27 رجب کے نام سے؛ آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کا نیا ڈراؤنا خواب

تیز رفتار جنگی کشتیاں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی بحری قوت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ کشتیاں علاقائی اور بین الاقوامی پانیوں میں موجود رہ کر ملک کی سلامتی کو یقینی بناتی ہیں اور دشمنوں کو ایران کی سمندری حدود کی خلاف ورزی سے باز رکھتی ہیں۔
خبر کا کوڈ: 5948
تاریخ اشاعت: 07 June 2026 - 18:45 - 29August 2647

تحریر: محمد زرچینی ( دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ )

تیز رفتار بحری کشتیاں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی غیر روایتی بحری جنگی صلاحیت کا ایک اہم جزو ہیں۔ یہ کشتیاں علاقائی اور بین الاقوامی سمندری حدود میں اپنی موجودگی کے ذریعے ملک کی سلامتی کو یقینی بناتی ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی سمندری سرحدوں پر دشمن کی کسی بھی جارحیت یا دراندازی کو ناکام بناتی ہیں۔

ان تیز رفتار کشتیوں میں سے ایک، جسے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج بالخصوص آئی آر جی سی کی بحریہ، ملکی علاقائی پانیوں کے مؤثر انتظام اور آبنائے ہرمز میں معاند اور دشمن بحری جہازوں کے مقابلے کے لیے استعمال کرتی ہے، تیز رفتار کشتی "27 رجب" ہے۔

تیز رفتار جنگی کشتی 27 رجب

یہ کشتی جسے حال ہی میں عوامی اجتماعات میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں امریکی-صیہونی دشمن اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائی کے لیے منفرد صلاحیتوں کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق "27 رجب" اپنی اعلیٰ رفتار اور نمایاں آپریشنل خصوصیات کے باعث اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا ایک مؤثر بحری بازو شمار ہوتا ہے جو خلاف ورزی کرنے والے غیر فوجی جہازوں یا غیر ملکی دشمن بحری پلیٹ فارمز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تیز رفتار کشتیوں کی اہم خصوصیات میں ان کی رفتار بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ اس کشتی کی درست رفتار کے بارے میں کوئی سرکاری رپورٹ جاری نہیں کی گئی، تاہم اندازہ ہے کہ اس کی رفتار کم از کم 100 ناٹ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئی آر جی سی کی بحریہ کو آبنائے ہرمز میں دشمن جہازوں کے نظم و نسق اور نگرانی کے لیے نمایاں برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

اس کشتی کی ایک اور منفرد خصوصیت اس کا "ٹرائی میران" (Trimaran) یا کثیر بدنی ڈیزائن ہے جو اسے زیادہ رفتار پر بہتر قابو اور غیر معمولی مینوَریبلیٹی فراہم کرتی ہے۔

اس کی ایک اور نمایاں صلاحیت دو کروز میزائل فائر کرنے کی اہلیت ہے جو دور دراز فاصلے پر موجود دشمن بحری اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

مزید برآں، یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ "27 رجب" تین میٹر تک بلند موجوں والے سمندری حالات میں بھی آپریشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آپریشنل اعتبار سے یہ خصوصیت بہت اہم ہے کیونکہ ہلکے بحری پلیٹ فارم عموماً خراب موسمی حالات میں محدود ہو جاتے ہیں جبکہ ٹرائی میران ڈیزائن سے حاصل ہونے والا اضافی استحکام اس کشتی کے عملی دائرۂ کار کو وسیع کر سکتی ہے۔

تیز رفتار کشتیاں

آئی آر جی سی کی بحریہ گزشتہ کئی برسوں سے تیز رفتار کشتیوں کے شعبے میں وسیع انویسٹ منٹ کر رہی ہے۔ یہ حکمت عملی چھوٹے، تیز، چابک اور مسلح کشتیوں کے استعمال پر مبنی ہے جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے پیچیدہ آپریشنل ماحول میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔

عسکری ماہرین کے مطابق تیز رفتار کشتیاں اپنی تیز رفتار، کم ریڈاری انعکاس (Radar Cross Section) اور اجتماعی کارروائی کی صلاحیت کی وجہ سے غیر متوازن بحری جنگ کے اہم ترین ہتھیاروں میں شمار ہوتی ہیں۔

"27 رجب" کی رونمائی بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی سمجھی جا سکتی ہے جس کے تحت حالیہ برسوں میں مختلف میزائل بردار، ڈرون بردار اور جنگی کشتیوں کی کنٹرول کلاسز متعارف کرائی گئی ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے تیز رفتار کشتیوں کی وسیع پیمانے پر تیاری کی حکمت عملی کے ذریعے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ سمندری میدان میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور یہ حکمت عملی امریکہ کے دیوہیکل بحری ساز و سامان کے مقابلے میں ایک دردناک ڈنک کی مانند اثر رکھتی ہے۔

تیز رفتار کشتیاں

ویب سائٹ "گلوبل بیئرنگ" آئی آر جی سی کی صلاحیتوں کے بارے میں لکھتی ہے:

"آئی آر جی سی اپنے ماہر اور تربیت یافتہ اہلکاروں اور ہزاروں تیز رفتار کشتیوں کی موجودگی کے باعث خطے کی سلامتی برقرار رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔"

اسی طرح "ایشین ڈیفنس ڈپلومیسی" نے ایرانی تیز رفتار کشتیوں کی حیرت انگیز رفتار کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:

"آئی آر جی سی کی تیز رفتار کشتیاں بحری جہاز شکن میزائلوں سے لیس ہیں اور جدید ٹیکنالوجی سے مزین ہیں۔"

آئی آر جی سی کی تیز رفتار کشتیاں طویل المدتی بحری جنگی کارروائیوں کی صلاحیت رکھتی ہیں اور دشمن کے جنگی جہازوں کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔

البتہ میزائل بردار تیز رفتار کشتیوں کا استعمال، خطے میں بالخصوص خلیج فارس میں امریکی جارح بحری طاقت کے خلاف اختیار کی جانے والی متعدد حکمت عملیوں میں سے صرف ایک ہے۔ اگر دوبارہ جنگ کی آگ بھڑکتی ہے تو ملک کی مسلح افواج دیگر ذرائع بھی استعمال کر سکتی ہیں، جن میں:

* بغیر عملے کے سمندری پلیٹ فارم (شہپاد)

* چھوٹی آبدوزیں

* "حوت" جیسے ٹارپیڈو

* مختلف اقسام کے بحری کروز اور بیلسٹک میزائل

* اڑنے والے بحری پلیٹ فارم

* وسیع پیمانے پر بحری بارودی سرنگوں کی تنصیب

* فضاء سے سطح پر مار کرنے والے میزائل

شامل ہیں جو امریکی بحریہ کے خلاف استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں