مجرم قاتلوں سے شہید قائد اور تمام شہداء کے خون کا انتقام لیں گے، رہبرِ انقلاب

حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ایران کے شہید رہبر کی تشییع اور تدفین کے موقع پر جاری ایک پیغام میں تاکید کی: ہم عہد کرتے ہیں کہ بے آبرو مجرم قاتلوں سے شہید قائد اور ان دونوں جنگوں کے تمام شہداء کے پاک خون کا انتقام لیں گے۔
خبر کا کوڈ: 6049
تاریخ اشاعت: 11 July 2026 - 15:32 - 03October 2647

دفاع پریس کے سیاسی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (مدظلہ العالی) نے ایران کے شہید رہبر کی تشییع اور تدفین کے موقع پر ایک اہم پیغام جاری فرمایا۔

رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:

حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (مدظلہ العالی)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

السَّلامُ عَلَیکَ یا ثارَ اللہِ وَ ابنَ ثارِہِ وَ الوِترَ المَوتور۔ السَّلامُ عَلَیکَ وَ عَلیٰ جَدِّکَ وَ اَبیکَ وَ اُمِّکَ وَ اَخیکَ وَ المَعصومینَ مِن وُلدِک۔

سلام ہو اس امام پر، جن کی حیات بخش صدائے قیام نے بعثتِ نبوی کی ایک عظیم اور دلفریب گونج کو تاریخ کی دور دراز گہرائیوں تک وسعت بخشی اور جس کے زیر اثر ایران کا اسلامی انقلاب وجود میں آیا۔ ایسا انقلاب جو اپنی بنیاد ہی سے حسینی تھا اور حسینؑ کے نعرے اور مسلک سے تشکیل پایا اور پروان چڑھا۔

ایران کے شہید رہبر بھی اسی مسلک کے ساتھ پروان چڑھے۔ وہ حسینی تھے، حسینی انداز میں سوچتے، حسینی انداز میں حرکت کرتے، حسینی انداز میں جہاد اور مزاحمت کرتے، حسینی انداز میں زندگی گزاری اور حسینی انداز میں اپنا خون مکتبِ حسینؑ کی راہ میں پیش کیا اور شہادت پائی۔ حسینیوں میں ایسے افراد بھی ہوتے ہیں کہ جب حسینؑ کی راہ میں اور حسین علیہ السلام کے مکتب و مسلک کی خاطر ان کا خون مظلومانہ طور پر زمین پر بہایا جاتا ہے تو امتِ اسلام میں تلاطم پیدا ہو جاتا ہے اور یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں یہ زمانہ، عاشورا سے اور یہ مقام، کربلا سے متصل ہو جاتی ہے۔

اب بھی وہی حسینی جوش ہے جس نے ہماری قوم کو نئی بعثت عطا کی ہے اور خمینیِ کبیر اور خامنہ ایِ شہید کے مکتب کو ایک نیا فروغ بخشا ہے۔ یہی وہ زندگی بھرا غوغا ہے جسے حسین علیہ السلام کی مظلومیت کی صدا اور ان کی ندائے «ہَل مِن ناصرٍ یَنصُرُنی» کی گونج پہلے ایران، پھر عراق اور پھر دیگر ممالک میں برپا کرتی ہے اور باطل کے وجود میں زلزلہ برپا کر دیتی ہے۔

اور اس موقع پر مناسب سمجھتا ہوں کہ ایران اور عراق کے شہروں اور دیہاتوں، بالخصوص تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں لاکھوں عوام کی حیرت انگیز، دشمن کے لیے کمر توڑ اور تاریخی شرکت پر تہِ دل سے شکریہ کروں۔

ہماری قوم حسین علیہ سر السلام کے خون کا انتقام لینے والی قوم ہے۔ اس عظیم قوم نے برسوں اپنے فرزندوں کو حسینؑ کی راہ میں اور حسینؑ کے دشمنوں اور مسلکِ حسینی کے مخالفین کے ساتھ جنگ میں قربان کیا ہے اور اب بھی وہ حسینؑ اور عصرِ حاضر کے حسینیوں کے خون کا انتقام لینا چاہتی ہے۔

اب میں اپنے شہید پیشوا کی خدمت میں عرض کرتا ہوں: اے مظلوم مقتول! اے سربلند مظلوم! اے خدا کے بندۂ صالح! اب جبکہ اشک بار آنکھوں اور شکستہ دلوں کے ساتھ آپ کے پیکر سے وداع کر رہے ہیں، ہم آپ سے عہد کرتے ہیں کہ آپ کے مکتب کی پاسداری کریں گے، اُس صراطِ مستقیم پر ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیں گے جسے آپ نے متعین کیا، اس راہ کی سختیوں سے خوف زدہ نہیں ہوں گے اور آپ ہی کی مانند بشارتوں اور وعدہ ہائے الٰہی سے اپنے دل کو وابستہ رکھیں گے۔

ہم عہد کرتے ہیں کہ بے آبرو مجرم قاتلوں سے آپ کے پاک خون اور ان دونوں جنگوں کے تمام شہداء کے خون کا انتقام  لیں گے۔ یہ انتقام ہماری قوم کا مطالبہ ہے اور یقینی طور پر یہ انتقام لیا جانا چاہیے۔

یہ مجرم، جن کے ناموں کی فہرست اوپر سے نیچے تک مکمل طور پر موجود ہے، پُرسکون اور بستر پر موت مرنے کی آرزو اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔ انہیں جان لینا چاہیے کہ یہ امر میری ذات یا دیگر حکّام کی موجودگی پر موقوف نہیں ہے۔ ہم ہوں یا نہ ہوں، یہ امر محقق ہو کر رہے گا اور عنقریب دنیا بھر کے حریت پسند افراد، ہر ایک اس الٰہی فریضے کا ایک حصہ انجام دیں گے۔

اے امت کے شہید والد! شہادت کے اس شہد کا نوش کرنا، جس کی آپ عمر بھر آرزو کرتے رہے، آپ کو گوارا ہو۔ ایسے بدن کے ساتھ خلعتِ شہادت پہننا، جس پر آپ کی مادرِ گرامی زہرائے اطہرؑ اور آپ کے جد اباعبداللہ الحسینؑ اور ابوالفضل العباسؑ کی نشانیاں موجود ہیں، آپ کو مبارک ہو۔

اور اے ان کے مظلوم ساتھیو! جنہیں اچانک دشمن کے حملے کا نشانہ بنایا گیا شہید کیا گیا، خوش قسمت ہیں آپ کہ اب آپ اس مولا کے مہمان ہیں جن کی رأفت اور مہربانی کو شاید آپ نے بارہا محسوس کیا تھا۔ وہ آقا جو سب کے لیے اور بالخصوص اس سرزمین کے باشندوں کے لیے رحمتِ الٰہی کا دروازہ ہیں، اب آپ کے میزبان ہیں اور ان کا محفوظ جوار آپ کا گھر بن چکا ہے۔

اور اے عالی مقام آقا! اے بزرگوار! اے امامِ رؤوف! یا اباالحسن الرضا المرتضیٰؑ، اللہ آپ پر اپنے بہترین درود بھیجے؛ اب آپ کے خادموں اور عترتِ طاہرہ کے خادموں میں سے ایک خادم کا پارہ پارہ جسم، برسوں کی مسلسل جدوجہد، کوشش اور بلاوقفہ جہاد کے بعد، اپنے خاندان کے ان شہداء کے ابدان کے ہمراہ، جن میں سے ہر ایک دشتِ کربلا کے کسی شہید کی یاد دلاتا ہے، اس پاک خاک میں آرام پا گیا ہے؛ اُس دن تک جب حکمِ الٰہی سے عالم تاب خورشید، حضرت بقیۃ اللہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، غیبت کے بادلوں کی اوٹ سے نمودار ہوں گے اور کرۂ ارض کے انسانوں پر رحمتِ الٰہی کا نور برسائیں گے۔ اُس دن، جس کے بہت جلد آنے کی ہمیں امید ہے، صدیقین، شہداء اور اولیاء میں سے ستارے آنجناب کے ہمراہ ہوں گے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے شہید رہبر بھی ان میں سے ایک ہوں گے اور ایک بار پھر جہاد اور عہدِ الست سے وفا کے درخشاں اور خالص مناظر پیش کریں گے اور شاید ما کے یہ ساتھی بھی اس دن ان کے ہمراہ ہوں۔

اے مولائے رؤوف! ہم اپنے آقا کو، جنہوں نے اپنا سب کچھ آپ کی راہ میں قربان کر دیا اور ان کے شہید ساتھیوں کو آپ، آپ کے لطف اور آپ کی عنایت کے سپرد کرتے ہیں تا کہ جس طرح وہ اپنی دنیوی حیات میں آپ کے لطف سے بہرہ مند تھے، اب بھی اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ اور کہیں بڑھ کر آپ کے لطف و عنایت سے بہرہ مند رہیں۔

آخر میں ایک بار پھر اپنے آقا حضرت بقیۃ اللہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں تعزیت عرض کرتے ہیں اور اس مہربان بزرگوار سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنی پاکیزہ دعاؤں میں ایران کے شہید رہبر، ان کے شہید ساتھیوں اور تمام شہداء کو یاد فرمائیں اور حضرت حق جلّ و علا سے تمام شہداء کے لیے بلندیِ درجات، ان کے وارثین کے لیے صبر و اجر اور مظلوم ایرانی قوم کے لیے یقینی اور عنقریب فتح و نصرت طلب فرمائیں، ان شاء اللہ۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

09 جولائی 2026

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً