دشمن کے ساتھ ہماری جنگ طویل اور حوصلہ طلب ہے، امریکی بری حملے کے منتظر ہیں،جنرل اسدی

حضرت خاتم الانبیاء (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے سابق معاون برائے انسپکشن نے کہا ہے کہ عظیم شیطان کی نابودی صبر، ثابت قدمی اور وقت کا تقاضا کرتی ہے۔ ان کے مطابق دشمن کے ساتھ جاری جنگ ایک طویل، حوصلہ طلب اور تسلسل رکھنے والی جنگ ہے، تاہم کامیابی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو اللہ کی رضا اور اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے میدان میں اترتے ہیں۔
خبر کا کوڈ: 6104
تاریخ اشاعت: 25 July 2026 - 21:56 - 17October 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی امور کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے حضرت خاتم الانبیاء (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے سابق معاون برائے انسپکشن جنرل محمد جعفر اسدی نے رہبرِ شہید کے خون کے انتقام کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے بعض افراد کی جلد بازی پر تنقید کی اور عالمی سامراجی نظام کے خلاف جدوجہد کو ایک طویل، دشوار اور حوصلہ طلب عمل قرار دیا۔

جنرل اسدی

انہوں نے انقلابِ اسلامی کے بانی امام خمینی علیہ الرحمۃ کی پندرہ سال جلاوطنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:

انسان کی ایک بڑی کمزوری عجلت پسندی ہے۔ امام خمینی علیہ الرحمۃ نے پندرہ برس جلاوطنی برداشت کی، تب جا کر ایران میں طاغوتی نظام کا خاتمہ ممکن ہوا۔ آج بھی اسلامی جمہوریہ ایران، اللہ کے حکم سے، دنیا کے سب سے بڑے طاغوت کے خاتمے کے راستے پر گامزن ہے، مگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ سب کچھ کل یا آج ہی مکمل ہو جائے”۔

جنرل اسدی نے کہا کہ قوم کے سامنے ایک نہایت بھاری اور دشوار مرحلہ ہے۔

انہوں نے کہا:

ہم ایک ایسی چوٹی کے قریب پہنچ چکے ہیں کہ اس کے قریب ہونا بھی بذاتِ خود ایک بڑی منزل ہے۔ یہ نہیں کہ صرف چند قدم باقی رہ گئے ہوں۔ چوٹی دکھائی ضرور دے رہی ہے لیکن وہاں پہنچنے کے لیے پوری دیندار قوم اور مسلح افواج کی اجتماعی جدوجہد درکار ہے”۔

انہوں نے شہداء کے خون کے انتقام کے لیے عوامی جوش و جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج پوری قوم میدان میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا:

عدلیہ، پارلیمنٹ سے لے کر صدرِ مملکت تک، سب اسی مطالبے کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ دشمن کے ساتھ ہماری جنگ ایک طویل، حوصلہ طلب اور تسلسل رکھنے والی جنگ ہے لیکن کامیابی ہمیشہ انہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اللہ کی رضا اور اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے لڑتے ہیں۔ انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد گزرنے والی نصف صدی کے دوران ہم نے بارہا اللہ تعالیٰ کی نصرت اور معجزات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے”۔

امریکی بری حملے سے متعلق غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے دعوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے جنرل اسدی نے کہا:

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ متجاوز امریکی فوج کی بری افواج ایسی صورتِ حال میں آئیں کہ ہم ان کا زمینی محاذ پر مقابلہ کر سکیں۔ جس دن ہم امریکی فوجیوں میں سے کچھ کو جنگی قیدی بنا کر اپنے ملک میں پیش کریں گے، وہی دن ایرانی قوم کے جشن کا دن ہوگا؛ اسی قوم کا، جو ہر رات سڑکوں پر نکل کر اپنی مسلح افواج سے ان تمام شرارتوں کا انتقام لینے کا مطالبہ کرتی ہے”۔

انہوں نے دشمن کے حالیہ اقدامات کو طاقت نہیں بلکہ بے بسی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا:

ہر صاحبِ عقل شخص اس صورتحال کو دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ وہ نام نہاد سپر پاور، جسے ایک ناقابلِ شکست طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، اب بے بسی کے عالم میں جرائم کا سہارا لے رہی ہے۔ اگر واقعی طاقت رکھتے، تو سکول کے معصوم بچوں کو نشانہ نہ بناتے۔ جو لوگ دعویٰ کرتے تھے کہ تین دن یا ایک ہفتے میں ایران پر قبضہ کر لیں گے یا اسے تقسیم کر دیں گے، انہیں دیکھنا چاہیے کہ مسلط کردہ بارہ روزہ جنگ اور جنگِ رمضان کا انجام کیا ہوا”۔

جنرل اسدی نے ایرانی مسلح افواج کی صلاحیت اور ضبط کا ذکر کرتے ہوئے کہا:

اسلامی جمہوریہ ایران اپنی تمام عسکری طاقت کے باوجود ذمہ داری اور ضبط کا مظاہرہ کرتا ہے اور پوری کوشش کرتا ہے کہ ایک بھی بے گناہ شخص کو نقصان نہ پہنچے۔ ہماری کارروائیاں صرف عظیم شیطان (امریکہ) کے فوجی مراکز تک محدود ہیں، جبکہ کویت، سعودی عرب اور قطر سمیت خطے کے مسلمان ممالک کے لوگ ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں”۔

انہوں نے مزید کہا:

مسئلہ یہ ہے کہ اس عظیم شیطان نے انہی ہمسایہ ممالک میں اپنے اڈے قائم کر رکھے ہیں، اس لیے ہمیں انہی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑتا ہے۔ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ہم پہلے بھی ان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے کہ وہ ان شر پسند افواج سے فاصلہ اختیار کریں اور انہیں خطے سے نکال باہر کریں، کیونکہ ان کی موجودگی نے اس خطے کو صرف بدامنی اور عدم استحکام کا تحفہ دیا ہے”۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں