اردن میں امریکہ کے پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹمز مفلوج / مشرقی محاذ کی فضائی راہداری مزاحمتی محاذ کے لیے کھل گئی
تحریر: محمد زرچینی (دفاعی اور سیکیورٹی گروپ)
مغربی ایشیا کے جنوبی محاذ میں حالیہ دنوں کی بری پیش رفت نے طاقت کے عدم توازن کا ایک نیا باب کھولا ہے جہاں امریکہ اور صیہونی حکومت کے اربوں ڈالر لاگت کے ڈیفنس سسٹمز، اسلامی جمہوریہ ایران کے مقامی طور پر تیار شدہ درمیانے فاصلے کے میزائلوں اور خودکش ڈرونز کی شدید یلغار کے سامنے یکے بعد دیگرے ناکام ہوتے دکھائی دیے ہیں۔ اردن جو اس سے قبل خطے سے باہر کی افواج کے لیے حائل اور لاجسٹک معاون اڈے کا کردار ادا کر رہا تھا، اب سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی میزائل طاقت کے مظاہرے کا میدان بن چکا ہے۔ پیٹریاٹ میزائلوں پر قائم ڈیفنس لیئرز کے انہدام (جس کی فضائی تصاویر بھی موجود ہیں) کے بعد عملی طور پر اردن کی فضائی راہداری مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں کی جانب حملوں کی محفوظ راہداری بن گئی ہے جس نے صیہونی حکومت کو ہمہ جہت فضائی خطرات کے حوالے سے ایک غیر معمولی اور دشوار صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
مغربی ایشیا کے باخبر ذرائع کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی مشترکہ میزائل اور ڈرون کارروائیوں کے نتیجے میں اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر نصب جدید پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹمز، 13 روزہ شدید لڑائی کے دوران مکمل طور پر ناکارہ اور تباہ ہو گئے ہیں۔ اس اسٹریٹجک حملے نے نہ صرف اردن کے ائیر ڈیفنس توازن کو درہم برہم کر دیا بلکہ عملی طور پر اس ملک کی فضائی حدود ایران اور اس کے اتحادی افواج کے لیے میزائل اور ڈرونز کا راستہ کھول دیا اور مقبوضہ علاقوں کی گہرائی تک کو نشانہ بنانے کے لیے ایک نئی فضائی راہداری قائم کر دی۔ اس صورتحال کے جواب میں صیہونی فوج نے حملہ آور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے اردن کی فضائی حدود سے گزرنے والے ڈرونز کو روکنے کی کوشش کی، تاہم میدانِ جنگ کی وسعت کے باعث اسے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
اردن میں امریکی اڈوں کے خلاف کارروائی
حالیہ جھڑپوں (جنگِ ہرمز) کے دوسرے ہفتے میں شروع ہوئی۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے تفصیلی انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر امریکی فنی عملے کے زیر استعمال Patriot PAC-3 سسٹمز کی پوزیشنز کی نشاندہی کی جو اردن کے تین اہم اڈوں یعنی موفق السلطی ایئربیس، عقبہ ایئربیس اور ملک کے شمال مشرقی سرحدی اڈے پر نصب تھے اور ان کے خلاف متعدد مراحل پر مشتمل مربوط حملے ترتیب دیے۔ پہلے مرحلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے بڑی تعداد میں ریڈار سے بچنے والے ڈرونز اور بھاری وارہیڈ سے لیس مختصر فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں نے ان سسٹمز کے سرچ اینڈ کمانڈ ریڈارز کو نشانہ بنایا۔ صوبہ "معان" اور "کرک" کے مقامی ذرائع نے 16 سے 19 جولائی کی راتوں میں ان اڈوں کے اطراف شدید دھماکوں اور وسیع پیمانے پر آگ لگنے کی اطلاع دی۔

مزاحمتی محور کے مشترکہ آپریشن روم سے حاصل شدہ دستاویزات کے مطابق، اس کے بعد "خیبر شکن" اور "حاج قاسم" میزائلوں نے انتہائی پریسیژن کے ساتھ پیٹریاٹ کے لانچرز اور شوٹنگ پلیٹ فارم تباہ کر دیے جو بلند فضاؤں میں بیلسٹک اہداف کو روکنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ فوجی ماہرین کے مطابق اردن میں متعدد ایکٹیو پیٹریاٹ سسٹمز کی تباہی کے بعد اس ملک کا ائیر ڈیفنس مغربی سرحدوں سے 400 کلومیٹر کے دائرے تک منہدم ہو گیا۔
سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر، جن کی تجارتی سیٹلائٹس نے بھی تصدیق کی، امریکی فوج کے موفق السلطی فوجی اڈے کے ڈھانچوں کے وسیع پیمانے پر جلنے اور تباہ ہونے کو ظاہر کرتی ہیں۔
اردن کا کھلا آسمان؛ مزاحمت کی نئی فضائی راہداری
ان حملوں کا براہِ راست نتیجہ مغربی ایشیا کے ریڈار اینڈ میزائل ڈیفنس سسٹمز میں ایک بڑی دراڑ کی صورت میں سامنے آیا۔ اس سے پہلے اردن، امریکہ اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر عراق اور شام کی سمت سے اسرائیل جانے والے ہر قسم کے میزائل اور ڈرونز کی نگرانی اور روک تھام کا ائیر فلٹر تھا لیکن اب پیٹریاٹ سسٹمز کی ناکامی کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اور مزاحمتی محور کے سینکڑوں "شاہد" اور "آرش" ڈرونز نیز کروز اور بیلسٹک میزائل، کسی مؤثر رکاوٹ کے بغیر اردن کے صحراؤں کے اوپر سے گزر کر تقریباً 300 سے 400 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد مقبوضہ علاقوں میں پہلے سے متعین اہداف، جن میں حیفہ، تل ابیب اور نقب کے فوجی اڈے شامل ہیں، کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں جو صیہونی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
ڈرونز کے مقابلے میں صیہونی ہیلی کاپٹرز کی جدوجہد
اردن کے ائیر ڈیفنس کے انہدام کے بعد صیہونی فوج جو اس سے قبل مکمل طور پر اردن
کی فضائی ڈھال پر انحصار کرتی تھی، ہنگامی اقدامات کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ فیلڈ رپورٹس کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے دریائے اردن کی جنوبی سرحدی پٹی اور خلیج عقبہ کے شمال میں اپاچی اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز کی پروازوں میں اضافہ کیا تا کہ اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے آنے والے ڈرونز کو تباہ کیا جا سکے۔ تاہم ان ہیلی کاپٹرز کے پائلٹ بڑی تعداد میں ٹارگٹس (روزانہ 40 سے زائد ڈرونز) اور علاقے میں اتحادی افواج کے کندھے سے فائر کیے جانے والے میزائلوں کے خطرے کے باعث عملی طور پر ڈیفنس اور ایکٹیو نہ ہونے کی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

علاقے سے موصول ہونے والی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم دو اسرائیلی ہیلی کاپٹر قریب میں ڈرون دھماکوں کے نتیجے میں اڑنے والے ٹکڑوں کی زد میں آ کر معمولی نقصان کے ساتھ صحرائے نقب میں اپنے اڈوں پر واپس لوٹ گئے۔ اسی طرح مغربی کنارے کے فلسطینی ذرائع نے جنوبی الخلیل کی فضاؤں میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے جو اسرائیلی پورٹیبل ڈیفنس سسٹمز کی وسیع حملوں کے مقابلے میں ناکام رہنے اور بے بسی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ صیہونی حکومت کے چینل 12 کے ایک فوجی تجزیہ کار نے کہا:
"ہم ایک نئے مسئلے سے دوچار ہیں؛ اردن اب ہماری دفاعی ڈھال نہیں رہا اور ہر ڈرون کو پیٹریاٹ میزائل یا ہیلی کاپٹر کے ذریعے گرانے کی لاگت، ہر ایرانی میزائل یا ڈرون کی تیاری کی لاگت سے کئی گنا زیادہ ہے۔"
خطے کی سیکیورٹی پر سیاسی اور عسکری اثرات
اردن کی فضائی حدود کے غیر محفوظ ہونے نے خطے کے ممالک کے لیے وسیع سیکیورٹی اثرات پیدا کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹریاٹ ائیر ڈیفنس سسٹمز کی منتقلی اور تنصیب میں کم از کم دو ماہ لگیں گے، اس لیے ایرانی افواج کے لیے ایک سنہری آپریشنل موقع بدستور موجود رہے گا۔ دوسری جانب اس اسٹریٹجک کامیابی کو عرب ممالک کی عوامی رائے میں بھی وسیع پذیرائی ملی ہے اور متعدد تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خطے میں فوجی توازن صیہونی دشمن کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اور مزاحمتی محاذ کے حق میں تبدیل ہو چکا ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے اردن میں امریکی پیٹریاٹ سسٹمز کی کامیاب تباہی مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں غیر متوازن جنگوں کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دی جا رہی ہے۔ یہ کامیابی ایران کی دفاعی صنعتوں کی جدید ترین مغربی ڈیفنس سسٹمز کو ناکارہ بنانے کی اعلیٰ صلاحیت کی عکاس ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی۔صیہونی اتحاد کے لیے ایک اسٹریٹجک شکست بھی ہے جو گزشتہ روز تک خطے کی فضاؤں کو اپنی اجارہ داری سمجھتا تھا۔ اردن کی فضائی راہداری کے کھلنے کے بعد اب ایک نئی صورتِ حال جنم لے چکی ہے، جس میں مقبوضہ علاقوں کی گہرائی اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اور مزاحمتی محور کی براہِ راست اور مسلسل زد میں آ گئی ہے جبکہ صیہونی فوج اپنی تمام فضائی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے باوجود متعدد ڈیفنس لیئرز پر مشتمل لیکن ناکام دفاعی صورتحال میں پھنسی ہوئی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ نیز یہ امر بھی مسلّم ہے کہ ان پیشرفتوں کا مستقبل دونوں فریقوں کی نئی صورتحال سے ہم آہنگ ہونے اور اپنی صلاحیتوں کی بحالی پر منحصر ہوگا، تاہم قلیل مدت میں اردن، امریکہ کے پسماندہ فوجی اڈے کے طور پر، عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی صیہونی حکومت کا ائیر ڈیفنس بھی شدید صدمے سے دوچار ہوا ہے۔
