ایرانی مسلح افواج کی میزائل اور ڈرون طاقت؛ مغربی تھنک ٹینکس کی نظر میں
تحریر: محمد زرچینی (دفاعی اور سیکیورٹی گروپ، دفاع پریس)
مغربی ایشیا میں حالیہ جھڑپوں نے ایک نئی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے جس میں خطے میں سامراجی طاقتوں کے فوجی اڈے اب ماضی کی طرح فوجی قدر و اعتبار نہیں رکھتے۔ معروف امریکی اخبارات، بالخصوص ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ کی حالیہ رپورٹس نے مغربی ایشیا کے اسٹریٹجک خطے میں عسکری روایت میں آنے والی اسٹریٹجک تبدیلی کو نمایاں کیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک اور کروز میزائلوں میں جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کے ذریعے، بشمول رفتار میں اضافے اور وار ہیڈز کو پرواز کے آخری مرحلے (Terminal Phase) میں قابلِ تحرک بنانے کے ذریعے، خطے میں تعینات جدید ترین ڈیفنس سسٹمز جن میں ’’پیٹریاٹ (Patriot)‘‘ بھی شامل ہے کو عبور کرنے کی قابلِ ذکر صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ اس تکنیکی پیش رفت نے خلیج فارس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے دفاعی ڈھانچے کو بے مثال چیلنج سے دوچار کر دیا ہے اور خطے میں ڈیٹرنس کے تصور کو تبدیل کر دیا ہے۔

میزائل اور ڈیفنس سسٹم کی جنگ میں توازن کی تبدیلی
کئی دہائیوں تک امریکی فوج، صیہونی حکومت اور مغربی ایشیا میں ان کے اتحادیوں کا عسکری نظریہ فضائی برتری اور مکمل دفاعی برتری کی بنیاد پر استوار رہا؛ درحقیقت ’’پیٹریاٹ (Patriot)‘‘، ’’تھاڈ (THAAD)‘‘ اور ’’ایجس (Aegis)‘‘ جیسے سسٹمز کو میزائل خطرات کے خلاف ناقابلِ شکست ڈھال تصور کیا جاتا تھا؛ تاہم نئی انٹیلیجنس اور عسکری رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ برتری اب ختم ہو رہی ہے۔ ایران نے اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے کہ صرف میزائلوں کی تعداد میں اضافہ، کثیر السطح ڈیفنس سسٹم کے خلاف کامیابی کے لیے کافی نہیں، اپنی حکمتِ عملی کو ’’معیار‘‘ اور ’’ٹیکنالوجی کی پیچیدگی‘‘ کی جانب منتقل کر دیا ہے۔ ایسے میزائلوں کی تیاری، جو سٹرائک سے چند لمحے قبل اپنی سمت تبدیل کرتے ہیں اور ان کی رفتار ریڈارز کی پروسیسنگ صلاحیت سے زیادہ ہوتی ہے، نے ’’بیلسٹک میزائل بمقابلہ ڈیفنس سسٹم‘‘ کی روایتی کہانی کو تبدیل کر دیا ہے۔
’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ کی رپورٹ؛ ایرانی مسلح افواج کی میزائل طاقت اور امریکی دفاعی حصار کو عبور کرنا
وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے ایک خصوصی رپورٹ میں پینٹاگون کے حکام اور امریکی فوجی کمانڈرز کے حوالے سے انکشاف کیا کہ حالیہ مہینوں میں ایران کی میزائل صلاحیت اس حد تک ترقی کر چکی ہے کہ وہ خطے میں موجود امریکی ڈیفنس اینڈ انٹرسیپشن سسٹمز کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے امریکی میزائل ڈیفنس سسٹمز کو غیر مؤثر بنانے کے لیے نئے طریقے اختیار کیے ہیں۔ اس رپورٹ کا مرکزی محور دو بنیادی صلاحیتوں پر مشتمل ہے؛ انتہائی تیز رفتار اور آخری مرحلے میں سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت۔
انتہائی تیز رفتار: نئے میزائل آواز کی رفتار سے کہیں زیادہ یعنی 8 ماخ یا اس سے زیادہ رفتار سے پرواز کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ڈیفنس سسٹمز کے ردعمل کا وقت انتہائی کم ہو جاتا ہے۔

آخری مرحلے میں سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت (Terminal Maneuverability): روایتی بیلسٹک میزائلوں کے برعکس، جو فضا سے باہر نکلنے کے بعد زمین کی جانب واپسی کے مرحلے، یعنی غوطہ لگانے کے مرحلے میں ایک قابلِ تخمین راستہ اختیار کرتے ہیں، ایران کے نئے میزائل پرواز کے آخری مرحلے میں اچانک اپنی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ یہ صلاحیتیں انٹرسیپشن سسٹمز کو عبور کرنے کے امکانات میں نمایاں اضافہ کرتی ہیں اور عملی طور پر ’’پیٹریاٹ‘‘ جیسے سسٹمز کو بھرپور اور سمارٹنِس پر مبنی حملوں کے مقابلے میں کمزور بنا دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے طاقت اور رفتار پر مبنی حالیہ میزائل حملوں میں ’’احمد السالم‘‘، ’’شیخ عیسیٰ‘‘ اور ’’موفق السلطی‘‘ فوجی اڈوں کو ایران نے انتہائی پریسائزڈ سٹرائک بیلسٹک میزائلوں اور ان کی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت کے استعمال کے ذریعے شدید نقصان پہنچایا ہے۔
تکنیکی جائزہ؛ میزائل پیٹریاٹ سسٹمز کو کیسے عبور کرتے ہیں؟
’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ میں پیش کیے گئے اور عسکری تھنک ٹینکس کی جانب سے تصدیق شدہ دعوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ’’پیٹریاٹ‘‘ سسٹم کے طریقہ کار اور جدید ایرانی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں اس کی کمزوریوں کا تکنیکی جائزہ لینا ضروری ہے۔
متحرک وار ہیڈز کا چیلنج
’’پیٹریاٹ‘‘ سسٹم، بالخصوص اس کا ’’PAC-3‘‘ ورژن، ایسے میزائلوں کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جن کے راستے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہو۔ اس سسٹم کے ریڈار میزائل کی پرواز کے راستے کا حساب لگاتے اور تصادم کے مقام کی پیش گوئی کرتے ہیں تا کہ انٹرسیپٹر میزائل کو اسی مقام کی جانب بھیجا جا سکے؛ لیکن جب میزائل کا وار ہیڈ غوطہ لگانے کے مرحلے میں، یعنی سٹرائک سے چند سیکنڈ قبل، متحرک وِنگز اور ڈائنامک تھرسٹرز کے ذریعے سمت تبدیل کرتے ہوئے اچانک پینترا بدلتا ہے تو پیٹریاٹ ریڈار کے الگورتھمز میں کیلکولیٹِو غلطی پیدا ہو جاتی ہے اور انٹرسیپٹر میزائل اپنے ٹارگٹ سے آگے نکل جاتا ہے۔
’’عماد‘‘ جیسے میزائل اور ایرانی میزائلوں کی نئی نسلیں کئی برس قبل ہی اس ٹیکنالوجی سے لیس ہو چکی تھیں اور اب اس صلاحیت کو مزید نمایاں طور پر بہتر بنایا گیا ہے۔ درحقیقت جدید نسل کے میزائلوں کو اپ گریڈڈ صلاحیتوں کے ساتھ داغنے سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سخت دھچکا پہنچا ہے؛ مثال کے طور پر ’’فتاح‘‘ جیسے ہائپر سونک میزائل روایتی بیلسٹک میزائلوں سے مختلف راستے پر حرکت کرتے ہیں۔ یہ زمین کی فضا یا فضا کی سرحد پر پرواز کر سکتے ہیں اور پیچیدہ حربی حرکات انجام دے سکتے ہیں۔ چونکہ ’’پیٹریاٹ‘‘ سسٹم ایسے ٹارگٹس کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو یا تو بلندی سے گرتے ہیں، یعنی بیلسٹک ٹارگٹس یا کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں، یعنی کروز میزائل؛ اس لیے ایسے ٹارگٹ کا سامنا کرنا جو بیک وقت ہائپر سونک رفتار رکھتا ہو اور سمت بھی تبدیل کر رہا ہو، ڈیفنس سسٹم کے آپریٹرز کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ متحرک ’’فتاح‘‘ میزائل درحقیقت ایک فٹبال کھلاڑی کی طرح رکاوٹوں کو ڈرِبل کرتے ہوئے انتہائی شدید غوطے کے ساتھ اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بناتا ہے۔
الیکٹرانک جنگ اور ریڈار کا فریب
اپنی سمت تبدیل کرنے کے علاوہ، عسکری رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی میزائل ریڈار کراس سیکشن (RCS) کم کرنے والی ٹیکنالوجی اور ریڈار کو فریب دینے والے آلات سے بھی لیس کیے گئے ہیں۔ یہ آلات پیٹریاٹ کے ریڈارز کو بنیادی اور اہم ٹارگٹس کی غلط شناخت پر مجبور کرتے ہیں اور قیمتی انٹرسیپٹر میزائلوں کو ایسے ٹارگٹس پر ضائع ہونے سے روکتے ہیں۔
خلیج فارس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا دفاعی ڈھانچہ
امریکہ اور بحرین، قطر اور امارات میں اس کے میزبان ممالک، جہاں پانچویں بحری بیڑے کا اڈہ، العدید اور الظفرہ کے اڈے موجود ہیں جبکہ کویت میں عریفجان اور علی السالم کے اڈے ہیں، ایک مربوط دفاعی ڈھانچہ استعمال کرتے ہیں۔ اس ڈھانچے میں زیادہ بلندی پر انٹرسیپشن کے لیے وارننگ ریڈارز اور ’’تھاڈ‘‘، ’’پیٹریاٹ‘‘ اور ’’ایجس‘‘ جیسے جدید میزائل ڈیفنس سسٹم شامل ہیں جبکہ درمیانی اور کم بلندی پر ٹارگٹس کو روکنے کے لیے پیٹریاٹ اور ایجس سسٹمز استعمال کیے جاتے ہیں۔
تاہم ’’Jane's Defence Weekly‘‘ اور ’’Defense News‘‘ جیسے جرائد میں عسکری ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ یہ دفاعی ڈھانچہ ایران کی نئی حکمتِ عملی کے مقابلے میں چیلنج سے دوچار ہے جس کی محدودیتیں درج ذیل ہیں:
پیٹریاٹ کے میزائل ذخیرے کی محدودیت: ہر پیٹریاٹ لانچر کے پاس انٹرسیپٹر میزائلوں کی محدود تعداد ہوتی ہے جو جدید ورژن میں عموماً 16 میزائل ہوتے ہیں۔ اگر ایران ’’سیچوریشن اٹیک‘‘ یعنی بھرپور اور بیک وقت حملے کی حکمتِ عملی استعمال کرے، جس میں بیک وقت درجنوں میزائل اور ڈرون کسی ایک فوجی اڈے کی جانب داغے جائیں، تو ڈیفنس سسٹم چند منٹوں میں اپنے انٹرسیپٹر میزائل ختم کر کے غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔
حملے کے نئے زاویوں کے مقابلے میں کمزوری: متحرک میزائل ایسے زاویوں سے فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں جہاں قدرتی یا زمینی رکاوٹوں کے باعث پیٹریاٹ ریڈارز کو براہِ راست ’’سائٹ لائن‘‘ حاصل نہیں ہوتی اور اسی لیے بڑے پیمانے پر داغے گئے یہ حملے کامیاب ہو سکتے ہیں۔
مغربی تھنک ٹینکس کا ڈیٹرنس کے توازن کا جائزہ
متعدد مغربی تھنک ٹینکس اور معتبر مغربی مطالعاتی مراکز مغربی ایشیا میں ہونے والی پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور ایران کی امریکہ اور خطے میں اس کے اتحادیوں کے ساتھ جاری کشیدگی کے ساتھ ساتھ ایران کی ڈیٹرنٹ طاقت کے حوالے سے بھی اہم نکات تک پہنچے ہیں۔ ’’انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز‘‘ (IISS) اور ’’سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘‘ (CSIS) نے اپنی حالیہ رپورٹس میں اس حوالے سے درج ذیل نکات کی جانب اشارہ کیا ہے:
فوجی اڈوں کے محفوظ رہنے کے دور کا خاتمہ: تھنک ٹینکس کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں امریکی فوجی اڈوں کے محفوظ ہونے کا دعویٰ اب کوئی اسٹریٹجک حقیقت نہیں رہا۔ ایرانی میزائلوں کی CEP کو 10 میٹر سے کم تک بہتر بنائے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اب کسی ہینگر یا رن وے کو تباہ کرنے کے لیے درجنوں میزائل داغنے کی ضرورت نہیں؛ ایک متحرک وار ہیڈ سے لیس انتہائی پریسائزڈ سٹرائک میزائل کافی ہے۔
غیر متوازن لاگت: پیٹریاٹ سسٹم کو عبور کرنا ایران کے لیے ایک معاشی اور عسکری کامیابی ہے؛ ’’PAC-3 MSE‘‘ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل کی قیمت لاکھوں ڈالر ہے جبکہ متحرک ایرانی بیلسٹک میزائل کو بنانے کی لاگت جدید ترین ورژن میں زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ سے پانچ لاکھ ڈالر کے درمیان ہے۔ لاگت میں یہ عدم توازن طویل المدت تنازع میں ترازو کا پلڑا ایرانی مسلح افواج کے حق میں بھاری کر سکتا ہے۔
دفاعی نظریے پر نظرثانی کی ضرورت: پینٹاگون نے کانگریس کو اپنی رپورٹس میں تسلیم کیا ہے کہ اس نئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے لیزر اور ہائی پاور مائیکرو ویو (HPM) سسٹمز کی تعیناتی اور نئی نسل کے انٹرسیپٹرز، جیسے LTAMDS منصوبے کی ترقی کی ضرورت ہے جو ابھی تک خطے میں مکمل طور پر تعینات نہیں کیے گئے۔
مکمل دفاعی برتری سے پیچیدہ ڈیٹرنس کی جانب منتقلی
’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ کی رپورٹ صرف ایک میڈیا انکشاف نہیں بلکہ پینٹاگون کے اسٹریٹجسٹس کے لیے ایک تلخ حقیقت کی تصدیق ہے۔ ایران کی میزائل طاقت نے متحرک وار ہیڈز، جدید ٹھوس ایندھن والے انجنز اور ہائپر سونک ٹیکنالوجی جیسی پیچیدہ ٹیکنالوجیز کی مقامی سطح پر تیاری پر انحصار کرتے ہوئے خود کو محض مقداری خطرے سے ایک معیاری اور ناقابلِ اجتناب خطرے میں تبدیل کر دیا ہے۔
ان صلاحیتوں میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرین، امارات، کویت اور قطر میں تعینات موجودہ ڈیفنس سسٹم اگرچہ روایتی خطرات اور ڈرونز کے خلاف اب بھی مؤثر ہیں؛ تاہم نئے میزائلوں اور ایسے مشترکہ حملوں کی لہروں کے مقابلے میں جن میں میزائل دفاعی حصار کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہیں تکنیکی تعطل کا سامنا ہے۔ درحقیقت ایران نے میزائل اور ڈرون کے امتزاج کے ذریعے خطے میں امریکی دفاعی حصار کو مؤثر انداز میں توڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
آخرکار، یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ مغربی ایشیا ایک نئی نوعیت کی ڈیٹرنس کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے؛ یعنی ’’باہمی کمزوری کے ذریعے ڈیٹرنس‘‘۔ اس نئے توازن میں امریکی دفاعی چھتری اب کوئی جادوئی اور ناقابلِ نفوذ ڈھال نہیں رہی اور یہی حقیقت آنے والے برسوں میں خطے اور خطے سے باہر تمام فریقوں کے اسٹریٹجک حساب کتاب میں بنیادی عامل ثابت ہوگی۔ ایران نے حالیہ دنوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بخوبی دکھا دیا ہے کہ خطے میں اربوں ڈالر لاگت کے ڈیفنس سسٹمز کی تعیناتی، ایک مربوط اور ناقابلِ شکست دفاع کی ضمانت نہیں ہے۔
