بسیج میں طاقت افزائی؛ ایمان سے معاشرے میں موثر ثابت ہونے تک
دفاع پریس، دفاعی اور سیکیورٹی گروپ ـ رحیم محمدی؛ بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے سابق سربراہ شہید میجر جنرل غلام رضا سلیمانی کے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے میجر جنرل عبداللہی اس عظیم شہید کے گھر گئے اور اس ملاقات میں انہوں نے بسیج کی طاقت افزائی کو شہید سلیمانی کا تحفہ قرار دیا۔ اس اعلیٰ عسکری عہدیدار کی جانب سے پیش کیے گئے اس موضوع کو واضح کرنے کے لیے یہ کہنا ضروری ہے کہ اسلامی نظام میں طاقت، اقدار کے نفاذ اور حق کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے اور چونکہ بسیج کی روح اور ثقافت ایمان، ایثار اور حق کے سامنے تسلیم ہونے کی بنیاد پر تشکیل پائی ہے، اس لیے بسیج کی طاقت میں اضافے سے مراد اس جذبے کی بنیاد پر اجتماعی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے تا کہ وہ انصاف کے قیام، ملک کی سرحدوں اور حریم کے دفاع اور معاشرے اور اسلامی نظام کے اعلیٰ مقاصد کے حصول میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔

اس بنیاد پر بسیج کی طاقت میں اضافے کی اصل بنیاد بسیجی فورس کی روحانی طاقت کو قرار دینا چاہیے کیونکہ یہی درحقیقت بسیج کی محرّک قوت ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ابتدا ہی سے بسیج کے پاس جو کچھ بھی ہے اور جو کچھ وہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے، وہ بسیجیوں کے قلبی ایمان اور روحانی جذبے کا نتیجہ ہے اور درحقیقت یہی وہ امر ہے جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے کیونکہ روحانی قوت سے استفادہ کرتے ہوئے وہ دفاعی، سیکیورٹی، تعمیر اور ترقی، امداد پہنچانے اور دیگر شعبوں میں متعدد کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
روحانی قوت انسان کو نفسیاتی دباؤ، بیرونی خطرات اور پیش آنے والی مشکلات کے مقابلے میں مایوس ہونے سے روکتی ہے اور جب کسی مقصد کے حصول میں ’’ارادہ‘‘، ’’وسائل‘‘ کی جگہ لے لیتا ہے تو ایمان پر بھروسہ کرتے ہوئے نئے اور تخلیقی راستے تلاش کر کے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے؛ تاہم روحانی قوت کے سب سے مؤثر ذریعے کو ’’اخلاق‘‘ قرار دینا چاہیے کیونکہ بسیجی کی جانب سے بے لوث اور بے غرض خدمت جو اخلاص اور محبت کے ساتھ ہو، دلوں کو جیتنے کا باعث بنتی ہے۔ یعنی بسیجیوں کی روحانی قوت اور اسلامی اخلاق کا حامل ہونا اس امر کا باعث ہے کہ عوام رضاکارانہ طور پر ان کے ساتھ شریک ہوںل اور معاشرے کا اعتماد جو سب سے بڑا سرمایہ ہے، حاصل کیا جائے۔ مثال کے طور پر گزشتہ دو مسلط کردہ جنگوں کے دوران امریکی اور صیہونی دشمن کے حملوں سے متاثرہ افراد کی مدد میں بسیجیوں کی جہادی موجودگی اس موضوع کی نمایاں مثال ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہنا چاہیے کہ روحانی پشت پناہی کے بغیر مادی اور سائنسی قوت، طاقت کی طلب یا مادیات کے حصول کی خواہش کی جانب لے جا سکتی ہے؛ تاہم بسیجی جذبہ اس امر کی ضمانت فراہم کرتا ہے کہ مہارت اور وسائل کو انصاف اور مستضعفین کی خدمت کی راہ میں استعمال کیا جائے گا۔
روحانی قوت کے علاوہ سائنسی قوت اور پروفیشنلزم کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کیونکہ آج کی دنیا میں جنگ کے میدان، جسمانی اور سخت محاذوں سے منتقل ہو کر سائنسی، ٹیکنالوجی، میڈیا اور سافٹ میدانوں تک پہنچ گئے ہیں۔ اس تناظر میں بسیجی جذبے میں سائنسی قوت سے مراد پروفیشنلزم کو قومی خودمختاری اور عوام کی مشکلات اور ضروریات کے ازالے کے لیے ایک وسیلے میں تبدیل کرنا ہے۔ اگر اس حوالے سے مثالیں بیان کی جائیں تو پابندیوں کے مقابلے میں پیچیدہ دفاعی اور طبی آلات کی مقامی سطح پر تیاری، ویکسین اور حیاتیاتی اہمیت کی حامل ادویات کی تیاری، محروم علاقوں میں موجودگی، ماحولیاتی اور زرعی مسائل کا حل تلاش کرنا، دیہی آبادی کی فلاح کے لیے قحط سالی سے نمٹنے کے طریقے تلاش کرنا اور حقائق کی وضاحت کے لیے سائبر اسپیس میں ابلاغی علوم کا استعمال، ان امور کی بعض مثالیں ہیں جنہیں اس موضوع کے حوالے سے بیان کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح معاشرے کے دل میں بسیجیوں کی ایکٹیو موجودگی، ہمدردی اور کارکردگی کے ذریعے بسیج کی سماجی قوت معنی اختیار کرتی ہے۔ جیسا کہ سیلاب اور زلزلے جیسی قدرتی آفات میں متاثرہ عوام کی مدد اور ان کے مسائل کے حل کے لیے بسیجیوں کی موجودگی نے بسیج کو عوام کی زندگی کے مشکل لمحات میں ایک محسوس حقیقت اور گہرے عوامی اعتماد کے قیام کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور سماجی میدانوں میں بھی بسیج کو اپنے کردار اور مثال بننے کے ذریعے اخلاقی اقدار کے فروغ کا محرّک قرار دیا جا سکتا ہے۔
لہٰذا بسیج کی طاقت افزائی، ایمان کو صلاحیت حاصل کرنے اور معاشرے میں موثر ثابت ہونے میں تبدیل کرنے کا ایک عمل ہے یعنی انہی عوامل کے ذریعے بسیج نہ صرف بحرانوں کے دوران بلکہ ترقی اور پیشرفت کے ادوار میں بھی معاشرے کی سربلندی کی راہ میں فیصلہ کُن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
