متعدد ممالک کی جانب سے ’’مضبوط ایران‘‘ کا تسلیم کیا جانا/ اقتصادی شعبے میں مثبت ترقی متوقع، جنرل احمدی مقدم
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (داعا) کے سربراہ جنرل ’’اسماعیل احمدی مقدم‘‘ نے ملک بھر کی اسلامی اوپن یونیورسٹی کے اساتذہ کے لیے ’’دفاع مقدس اور مزاحمت کے علوم و فنون‘‘ کے تدریسی کورس کے چوتھے ٹریننگ و ٹیلنٹ ڈیویلپمنٹ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا: یہ جنگ تین سال قبل 07 اکتوبر کو طوفان الاقصیٰ آپریشن سے شروع ہوئی؛ ایک ایسا آپریشن جس سے بہت کم افراد آگاہ تھے یہاں تک کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام بھی اس آپریشن سے آگاہ نہیں تھے جبکہ حزب اللہ لبنان اور حتیٰ کہ حماس کا سیاسی شعبہ بھی اس آپریشن سے لاعلم تھا۔

جنرل احمدی مقدم نے مزید کہا: صیہونی معاشرے کی سیاسی سماجی صورتحال انتہائی خراب تھی یہاں تک کہ اس سے قبل وہ یہ سوال اٹھاتے تھے کہ کیا ہم ۸۰ سال کی عمر دیکھ پائیں گے؟ ۱۹۴۸ء کو نقطۂ آغاز قرار دیا جائے تو ۸۰ سال کی عمر ۲۰۲۸ء میں مکمل ہوتی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ماضی میں بھی جب یہودیوں نے حکومت کی تو وہ تب بھی ۸۰ سال کی عمر کو نہیں پہنچ سکے اور ہمیں امید ہے کہ یہ پیش گوئی درست ثابت ہوگی اور وہ ۲۰۲۸ء نہیں دیکھ پائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: اس طرح کی باتوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کے درمیان اندرونی اختلافات بہت زیادہ تھے لیکن اس جنگ نے ان کے اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کے نتیجے میں انہیں ایران کے خلاف ۱۲ روزہ جنگ سے قبل کامیابیاں حاصل ہوئیں؛ مثال کے طور پر سید حسن نصراللہ کی شہادت اور حزب اللہ لبنان کے پیجرز میں دھماکے جن کے نتیجے میں حزب اللہ کے متعدد ارکان، سوائے اس کی اعلیٰ قیادت کے چند افراد کے، زخمی یا شہید ہو گئے۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سربراہ نے مزید کہا: انہوں نے یہ تصور کر لیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے؛ اسی لیے ٹرمپ نے ۱۲ روزہ مسلط کردہ جنگ شروع ہونے کے تین چار روز بعد دعویٰ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا کام تمام ہو چکا ہے اور اسے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے چاہئیں۔
جنرل احمدی مقدم نے کہا: جن علاقوں کو امریکیوں نے نشانہ بنایا، وہ اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ انہوں نے صیہونیوں کے مقابلے میں کوئی دووسری کارروائی نہیں کی؛ یعنی امریکیوں کا اقدام صیہونی حکومت کو بچانے کا منصوبہ تھا۔ دوسرے لفظوں میں، امریکی اس لیے آئے کہ کسی نہ کسی طرح باعزت انداز میں صیہونیوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں مشکل صورتِ حال سے باہر نکالیں اور کہیں کہ معاملہ ختم ہو چکا ہے، پھر اس جنگ میں اپنی فتح کا اعلان کریں۔ امریکی صدر نے ایک دو ہفتے بعد اسی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم وہاں گئے ــ یعنی ایران پر حملے میں شریک ہوئے ــ اور نیتن یاہو کو بچایا۔
انہوں نے کہا: اگر ماہ جنوری کے واقعے سے نپٹا جاتا اور ہم اس مرحلے سے گزر جاتے تو جنگ بھی نہ ہوتی۔ جب بھی ہمارے خلاف کوئی جنگ شروع ہوئی، اس سے قبل نیتن یاہو، امریکہ کا دورہ کر چکا ہوتا تھا اور کچھ دستاویزات کے ذریعے امریکیوں کو ایران پر حملے کے لیے قائل کرتا تھا اور یہ دعویٰ کرتا کہ زیادہ سے زیادہ چار روزہ مختصر آپریشن کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کا کام تمام کیا جا سکتا ہے۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سربراہ نے پھر جنگ کے مراحل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: پہلے مرحلے میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ہتھیار ڈالنے چاہئیں اور چونکہ یہ ایک بڑا ملک ہے، اس لیے اسے تقسیم بھی کیا جانا چاہیے۔ دوسرے مرحلے میں امریکی صدر نے کہا کہ میں خود ان کے لیے ایک رہنما منتخب کروں گا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ ایران کی فوجی صلاحیت کو ختم کر دیں گے۔
جنرل احمدی مقدم نے جنگ کے اگلے مرحلے کی وضاحت کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک میں موجود دہشت گرد گروہوں کے ذریعے ایران پر زمینی حملے کے دشمن کے منصوبے کی طرف اشارہ کیا اور کہا: دشمنوں نے چیک پوسٹوں پر حملے کیے اور ڈرون حملوں کے ذریعے چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا تا کہ اپنے کرائے کے عناصر کو یہ پیغام دے سکیں کہ آپ کی سرگرمیوں کے لیے حالات سازگار ہیں کیونکہ ہم نے فوجیوں کو ختم کر دیا ہے اور سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنا دیا ہے۔ اسی لیے تھانوں، اسپیشل فورسز اور بسیج یونٹس پر حملے اس نیت سے کیے گئے کہ فسادیوں اور انقلاب مخالف عناصر کی کارروائیوں کے لیے میدان ہموار کیا جائے، تاہم وہ اس مقصد کے حصول میں ناکام رہے اور کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
انہوں نے جنگ کے چوتھے مرحلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: جنگ کے ۲۵ویں روز امریکہ اور صیہونی حکومت کو احساس ہوا کہ یہ جنگ نتیجہ خیز نہیں ہوگی؛ اسی وجہ سے امریکیوں نے ۱۵ نکاتی مفاہمت کی پہلی تجویز بھیجی۔ جب ہمارے ملک میں اس کا جائزہ لیا گیا تو متعلقہ حکام نے محسوس کیا کہ ایسے مفاہمتی معاہدے پر بحث و گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اس میں کہا گیا تھا کہ ایران کے پاس زیادہ سے زیادہ ۳۰۰ کلومیٹر تک مار کرنے والے صرف ۷۰۰ میزائل ہوں، مزاحمتی گروہوں کو ختم کر دیا جائے اور جوہری پروگرام بھی حوالے کر دیا جائے۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سربراہ نے اسلام آباد مفاہمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: بالآخر طے پایا کہ دو ہفتوں کے لیے اتفاق کیا جائے اور امریکیوں کو بتایا جائے کہ جنگ بندی نہیں ہوگی، تاہم اگر وہ چاہیں تو ہم دو پیشگی شرائط کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ پہلی شرط یہ تھی کہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ لبنان اور غزہ سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے جبکہ دوسری شرط ایران کے مقبوضہ اثاثوں اور رقوم کو آزاد کرنا تھی۔
جنرل احمدی مقدم نے کہا: دوسرے فارمولے میں جوہری پروگرام بمقابلہ پابندیاں جبکہ تیسرے فارمولے میں آبنائے ہرمز بمقابلہ بحری محاصرہ اور تیل اور اس کی مصنوعات کی برآمد شامل ہے۔ پاکستان میں معاہدے تک ہمارے پاس جنگ کے خاتمے کے لیے صرف دو فارمولے تھے لیکن اسلام آباد اجلاس کے بعد امریکیوں نے بحری محاصرے کا معاملہ مذاکرات میں شامل کر دیا، جس کے نتیجے میں تیسرا فارمولا وجود میں آیا۔ اس طرح عملی طور پر پہلا اور دوسرا فارمولا پسِ پشت چلا گیا اور اب تک امریکی صرف تیسرے فارمولے کو پیش کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ٹرمپ نے گزشتہ چند روز کے دوران کہا ہے کہ ہمارا کوئی مفاہمتی معاہدہ نہیں ہے؛ ایران آبنائے ہرمز کھولے تا کہ ہم بھی بحری محاصرہ ختم کریں۔
انہوں نے سماجی، سیاسی اور اقتصادی ثابت قدمی کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا: عوام کی میدانوں میں موجودگی اب تک جاری ہے، یہاں تک کہ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی نصف سے زیادہ آبادی ایک سے زائد مرتبہ رات کے اجتماعات میں شرکت کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ ایران اور بالخصوص عراق میں انقلاب کے شہید رہنما کی تدفین و تشییع کی تقریبات دشمنوں کے لیے ایک بہت بڑی شکستیں تھیں کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ ایران تباہی کے قریب ہے لیکن شہید رہنما کی تشییع میں عوام کی شرکت نے دشمنوں کے تصورات کو خاک میں ملا دیا اور وہ رہبر کی تشییع میں شریک عوام کے عظیم ہجوم کی تصاویر کو چھپا نہ سکے۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سربراہ نے مزید کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کو دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں میں خطے اور دنیا کی دو بڑی فوجی طاقتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ ہمارے لوگوں کے مقابلے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ بین الاقوامی اداروں کے تمام قوانین کے مطابق ان دونوں جنگوں نے جارحین کے لیے کوئی قانونی جواز پیدا نہیں کیا یہاں تک کہ امریکہ ان دونوں جنگوں میں شرکت کے لیے ایک ملک کو بھی اپنے ساتھ شامل نہ کر سکا۔
جنرل احمدی مقدم نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے اور یہ وہ معاملہ تھا جو ان دونوں جنگوں کے باعث سب پر واضح ہو گیا۔ البتہ اس معاملے کو مناسب انداز میں منظم کیا جانا چاہیے تا کہ ملک پر اس کے کوئی منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔
انہوں نے ایران کی اسٹریٹجک فتح کے غالب عالمی بیانیے کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: تقریباً تمام ممالک ’’مضبوط ایران‘‘ کو تسلیم کر رہے ہیں اور کسی نہ کسی انداز میں ہمارے ملک کے ساتھ تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اقتصادی شعبے اور دیگر شعبوں میں بھی بعض مثبت پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سربراہ نے یمن کے معاملے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا: یمن میں ممکن ہے کہ یہ صورتحال ان کے لیے کچھ فوائد حاصل کرنے کا سبب بنے اور یہ بھی حالیہ مسلط کردہ جنگ کی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔
