ایران کے خلاف محاذ آرائی کے لیے دشمن کی جدید حکمتِ عملی کا انکشاف
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی انٹیلیجنس آرگنائزیشن نے اتحاد و محبت کے پیغمبر، حضرت محمد (ص) کی ولادتِ باسعادت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اور امریکہ کی جرائم پیشہ حکومت کے ساتھ ایرانی قوم کی بہادرانہ جنگوں کے تمام شہداء، بالخصوص عالمِ اسلام کے سید الشہداء، حضرت امام خامنہ ای (قدس سرہ) کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے شرپسند دشمن کے ساتھ فیصلہ کُن جدوجہد کے منظرنامے کے حوالے سے اپنا بیان ملتِ ایران کے نام جاری کر دیا۔

ملتِ ایران، السلام علیکم!
آپ کی تاریخ ساز موجودگی اور میدان، شاہراہ، سفارت کاری اور خدمت کے محاذوں کے مضبوط اتحاد نے امریکی-صیہونی منصوبے کے مقابلے میں 200 روزہ مزاحمت کو جنم دیا؛ اس طرح کہ امریکی انٹیلیجنس اداروں کے جائزوں میں واضح طور پر اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ:
1) اسلامی جمہوریہ ایران پوری طاقت کے ساتھ اپنی حکمرانی اور مزاحمتی فورسز کی بقا اور وجود کو برقرار رکھنے کے مرحلے سے گزر چکا ہے۔
2) ایران اپنی قومی لچک کو مستحکم اور بہتر بنا رہا ہے۔
3) اسلامی جمہوریہ ایران کی غیر متوازن صلاحیتیں برقرار ہیں اور امریکہ ایران پر اپنی مرضی مسلط کرنے سے عاجز ہو چکا ہے۔
4) آبنائے ہرمز پر ایران کی حکمرانی برقرار ہے۔
5) ایران اب محض مخالف فریق کے حملوں کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں بلکہ اپنی اسٹریٹجک پیش قدمی اور جنگ و سفارت کاری کے وقت، مقامات اور اخراجات پر اثرانداز ہونے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
اسی سلسلے میں امریکی، صیہونی حکومت اور برطانوی انٹیلیجنس سروسز کی مشترکہ کمیٹی میں بعض انقلاب مخالف عناصر کے سرکردہ افراد کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف نام نہاد ’’Epic Fury‘‘ آپریشن سے حاصل کیے گئے اسباق کا جائزہ لیا گیا، جہاں دشمن نے ’’فوجی حملوں کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے‘‘ کی حکمتِ عملی کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔
اس ادارے کی جانب سے حاصل کردہ اطلاعات کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ حکمتِ عملی کو اپ ڈیٹ کرنا دشمن کے ایجنڈے میں شامل کر لیا گیا ہے؛ اس طرح کہ محدود اور وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مشکلات پیدا کرنے والے مراکز کو ایکٹیو کرنا، نفسیاتی جنگ، زر و مال کی منڈیوں میں بے چینی پیدا کرنا اور سیکیورٹی مخالف کارروائیوں کے ذریعے ایران کے معاملے کو درست کرنے کا واحد راستہ سمجھا جا رہا ہے۔
اس منصوبہ بندی میں دشمن ’’مزاحمت کے تصور کو تابعیت کے تصور میں تبدیل کرنے‘‘، ’’اندرونی طاقت پر مبنی دفاعی قوت کو انحصاری دفاعی قوت میں تبدیل کرنے‘‘ اور ’’انقلابی طرزِ عمل کو غیر فعّال طرزِ عمل میں تبدیل کرنے‘‘ کے درپے ہے تا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں داخلی استحکام کے مستحکم ہونے اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر اس کی طاقت کی بحالی کو روکا جا سکے۔ اسی سلسلے میں حال ہی میں موساد کے ایک منصوبے کے تحت اسلامی جمہوریہ ایران کے اندرونی ماحول کی جانب سے دباؤ ڈالنے کے لیے ایک خفیہ اور مخصوص ڈھانچہ تشکیل دینے کے منصوبے کو نگرانی اور مکمل معلوماتی احاطے میں رکھا گیا۔ اس ڈھانچے کے نیٹ ورک کی تشکیل کے ذرائع میں، منحرف دھڑوں کے ساتھ روابط، تخریبی کارروائیاں اور مقامی نقصان پہنچانے والے عناصر کا استعمال شامل ہے۔
گزشتہ 60 روز کے دوران سیاسی، اقتصادی، سماجی اور بالخصوص فوجی خطرات پیدا کرنے والے عناصر کی سرگرمیوں کی مزید توجہ پر مبنی نگرانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن نے اپنی محدودیتوں اور اسلامی انقلاب کی برتریوں کو سمجھتے
ہوئے مذکورہ منصوبے کو مزید ادراکی اور انٹیلیجنس جنگ کے ذرائع پر انحصار کرتے ہوئے درج ذیل محوروں پر آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے:
1) قومی سلامتی کے تحفظ میں آبنائے ہرمز کے کردار کو غیر مؤثر ظاہر کرنا۔
2) اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے علاقائی جنگ کو دوبارہ دہرائے جانے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا۔
3) خطے میں مزاحمتی محور کی صلاحیت کو محدود ظاہر کرنا۔
4) بحری محاصرے کو مسلط کرنا۔
5) مقدس اتحاد کو کمزور کرنا، عدم اطمینان اور تفرقے کو فروغ دینا اور اختلافِ رائے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا۔
6) ملک کے انتظام و انصرام کے لیے بعض اندرون ملک کمزوریوں، کمیوں اور محدودیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور ان کا غلط استعمال کرنا۔
7) عوام کو مشتعل کرنا تا کہ عدم اطمینان کو سڑکوں کی حد تک پھیلایا جا سکے۔
لہٰذا اس مرحلے میں اس منصوبہ بندی کا مرکزی نقطہ ’’ایرانی عوام کے استحکام کو متزلزل کرنا اور ان کی قومی لچک کو کم کرنا‘‘ ہے، جس کے لیے ادراکی جنگ شروع کرنا اور خوف و ابہام پیدا کرنا مقصود ہے۔ اس معاملے کے نتائج کے بارے میں اس سے قبل ماہ جنوری کی بغاوت کے دوران اس ادارے کے تین بیانات میں خبردار کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے اہداف حاصل کرنے میں دشمن کی ناکامی اور امریکی حکومت میں فیصلہ سازی کے عمل سے ماہرین پر مشتمل ڈھانچوں کے خاتمے نے اس ملک کے اندرونی حالات کو سنگین چیلنجز سے دو چار کر دیا ہے۔ 23 سے زائد فوجی کمانڈرز اور درجنوں ایسے سیاسی اور انٹیلیجنس عہدیداروں کی برطرفی، حکومت مخالفین کے عہدے کی تنزلی اور برکناری، خطے میں ایران کی جانب سے پیدا کی جانے والی نئی مساوات کے امریکی اقتصادی اشاریوں پر منفی اثرات، ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی اور ووٹ بینک کے ایک بڑے حصے سے محروم ہونے کا سنگین خطرہ، صیہونی حکومت کی حمایت کے حوالے سے سیاسی گروہوں کی وسیع پیمانے پر پیدا ہونے والی ہچکچاہٹ اور ایران کے خلاف جارحانہ اور دفاعی جنگی صلاحیت کی معاونت میں امریکی فوج کو درپیش محدودیتیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی مفادات کے خلاف اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کی اندرونی محدودیتوں میں شامل ہیں۔
مذکورہ تمام منصوبہ بندیوں اور دشمن کو بیان کی گئی در پیش محدودیتوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ اعلان کرنا ضروری ہے کہ آپ کے فرزند، اسلامی انقلابی سپاہ پاسداران کی انٹیلیجنس آرگنائزیشن میں، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے استعانت، عوامی انٹیلیجنس نیٹ ورک پر بھروسے اور اپنی تمام فنی و انسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے، تفویض کردہ ذمہ داریوں کے تحت درج ذیل امور کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر چکے ہیں:
1) فوجی شعبے میں معلوماتی برتری اور مستقل تیاری کو برقرار رکھنا اور اسے بہتر بنانا تا کہ دشمن پر ایسی ضرب لگائی جا سکے جو جنگی مساوات کو تبدیل کر دے۔
2) ملک میں امن، باہمی ہمدردی اور قومی اتحاد کو متاثر کرنے والی ہر قسم کی کارروائی کے خلاف رہنمائی اور مقابلے پر توجہ مرکوز کرنا۔
3) ملک کے اندر اور سرحدی پٹی پر دشمن کی جاسوسی سروسز کے سیکیورٹی مخالف منصوبوں کی روک تھام۔
4) ’’نئی داعش‘‘ اور دہشت گرد گروہوں کے معاون نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے لیے ہوشیاری برقرار رکھنا۔
آخر میں، اپنے عزیز شہداء کے خون کا انتقام لینے کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم پر زور دیتے ہوئے، عظیم رہنما اور امامِ مسلمین حضرت آیت اللہ خامنہ ای (دام ظلہ العالی) کی قیادت میں اپنے امام سے عہد کرتے ہیں کہ خون کے آخری قطرے تک امامِ شہید کی سب سے اہم یادگار یعنی ’’مضبوط ایران‘‘ کے محافظ رہیں گے اور دشمن کو پشیمان کرنے اور ملتِ عزیزِ ایران کی تشویش دور کرنے کے لیے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکیں گے۔
