12 روزہ جنگ کے شہداء کے اہلِ خانہ کی دادخواہی پر پہلی عدالتی سماعت
سماعت میں عدلیہ کے وکلاء اور سرکاری ماہرین مرکز کے سربراہ عبدلیان پور، متاثرہ خاندانوں اور ان کے وکلاء نے شرکت کی۔ مقدمے میں 352 ہزار 983 ایرانی شہریوں نے امریکہ اور صیہونی حکومت کے سربراہان اور متعلقہ حقیقی اور قانونی شخصیات کے خلاف مادی اور معنوی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔

عدالت کے مطابق اس مقدمے کا مقصد جارحیت کے ذمہ داروں کو سزا دلانا، مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے ڈیٹرنس پیدا کرنا اور مدعا علیہ کو نقصانات کی تلافی کا پابند کرنا ہے۔ جج حسین زادہ نے کہا کہ ایرانی شہریوں کی دادخواہی کا حق ایک بنیادی اور ناقابلِ سلب حق ہے اور ایرانی عدالتیں باہمی رویے کے اصول اور ملکی قوانین کے تحت امریکی حکام کے اقدامات کے خلاف مقدمات کی سماعت کا اختیار رکھتی ہیں۔
عدالت میں وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور صیہونی حکومت کے حملے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی تھے۔ وکیل حمید رضا محمدی کے مطابق امریکہ نے 22 جون 2025ء کو ’’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘‘ کے تحت نطنز، فردو اور اصفہان کی پُر امن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا حالانکہ یہ تنصیبات بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی کی متعدد رپورٹس میں ایران کی جوہری سرگرمیوں کے ناامن مقاصد کی جانب انحراف ثابت نہیں ہوا تھا۔
سماعت میں جنگ کے انسانی نقصانات بھی بیان کیے گئے۔ شہید جوہری سائنس دان سید محمد رضا صدیقی ثابت کے بھائی علی رضا صدیقی ثابت نے بتایا کہ تہران میں ان کے بھائی کے گھر پر حملے میں ان کا ۱۷ سالہ بیٹا شہید ہوا جبکہ جنگ کے آخری لمحات میں آستانہ اشرفیہ میں خاندان کے بزرگوں کے گھر پر تین انتہائی بھاری میزائل لگنے سے ۱۲ شہری شہید ہوئے۔ شہداء کے خاندانوں نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے چار فوری مطالبات کیے: جارحیت کی واضح مذمت، آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کا قیام، صیہونی حکومت پر جامع پابندیاں اور شہداء اور شہری متاثرین کو مکمل معاوضہ۔
شہید امین عسکری کی اہلیہ حمیدہ شہباز نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ شہداء کے خاندانوں کے حقیقی انسانی نقصانات کو محض مقدمے کی فائل اور اعداد و شمار کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ انہوں نے اپنی پانچ سالہ بیٹی کی والد سے جدائی اور خاندان پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کا مطالبہ کیا۔
شہید جنرل عظیم اسماعیلی خسرو آبادی کی اہلیہ فاطمہ اصلانی نے امریکہ اور صیہونی حکومت کو جنگی جرائم میں ’’ایک ہی سکے کے دو رخ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی عسکری اور سیاسی حمایت نے صیہونی حکومت کے اقدامات کو ممکن بنایا۔ انہوں نے آمر، عامل اور بین الاقوامی حامیوں کے خلاف فیصلہ کُن اور ڈیٹرنٹ احکامات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
پارلیمنٹ ممبر سارا فلاحی نے بھی امریکہ کے تاریخی جنگی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ۱۲ روزہ جنگ میں ۱۰۶۴ سے زائد ایرانی شہری، سائنسی شخصیات، فوجی کمانڈرز، خواتین اور بچے شہید ہوئے۔ انہوں نے ایرانی عدالتوں کے دائرۂ اختیار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی فضائی، بحری اور بری حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی اور ڈیٹرنٹ احکامات جاری کیے جانے چاہئیں۔
آخر میں مقدمے کے ایک اور وکیل ہادی نوروزی نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے ایران کے اہم شہری اور بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کو انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور عدالت سے امریکی حکومت، متعلقہ افراد، اداروں اور صیہونی حکومت کے زیرِ تعاقب حکّام کو مادی اور معنوی نقصانات، عدالتی اخراجات، وکلاء کی فیس اور سزا دینے پر مبنی ڈیٹرنٹ جرمانوں کی ادائیگی کا پابند بنانے کی درخواست کی۔
