آئی آر جی سی کی بحریہ کے اہم شکار کی نئی تفصیلات

آئی آر جی سی کی بحریہ کے ہاتھوں قبضے میں لی گئی امریکی آبدوز کے بارے اہم تفصیلات موجود ہیں جن میں پائے جانے والے سامپلز کی شناخت، ایران کی ہتھیاروں کی صلاحیت کے میدان میں ایک اہم موڑ پیدا کر سکتی ہے۔
خبر کا کوڈ: 6266
تاریخ اشاعت: 21 September 2026 - 23:16 - 12December 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، آئی آر جی سی کی بحریہ نے گزشتہ دنوں ایک امریکی اَن مَنڈ آبدوز کو قبضے میں لے لیا جو آبنائے ہرمز میں جاسوسی اور معلومات جمع کرنے میں مصروف تھی۔ ایران کے قبضے میں آنے والی ’’ڈائیو ایل ڈی‘‘ اَن مَنڈ آبدوز ’’آندوریل‘‘ کمپنی کی تیار کردہ ہے جسے بنیادی طور پر زیرِ آب جاسوسی کی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

آبدوز

دستیاب معلومات کے مطابق، یہ آلہ ہائیڈرو ایکوسٹک اور نیویگیشن آلات سے لیس ہے اور تقریباً ۱۰ شب و روز تک آٹومیٹک حالت میں کام کر سکتا ہے۔ اس آبدوز کی لمبائی ۵.۸ میٹر، اس کے سب سے چوڑے حصے کا قطر ۱.۲ میٹر اور وزن تین ٹن سے کچھ کم ہے۔ اس آبدوز کے لیے اعلان کردہ زیادہ سے زیادہ قابلِ رسائی گہرائی بھی ۶ ہزار میٹر ہے۔

امریکی بحریہ نے یہ آلات 2025ء میں اسلحہ ساز کمپنی آندوریل سے حاصل کیے تھے۔ آبدوزوں کی اس نئی سیریز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایران یقینی طور پر اس آبدوز سے مفید معلومات حاصل کرے گا۔ ایسا آلہ جو زیرِ آب بالخصوص بہت زیادہ گہرائی میں، ۱۰ شب و روز تک مختلف جنگی فرائض انجام دے سکتا ہے، بلاشبہ جدید ٹیکنالوجی کا حامل ہے۔ اس آبدوز کو بیک وقت گہرائی، حرکت کی سمت، معلومات کی درست جمع آوری اور معلومات کی درست ترسیل کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے انتہائی مؤثر پروسیسنگ کی حامل آرٹیفیشل انٹیلیجنس درکار ہے اور مذکورہ آبدوز بلاشبہ ایسے پروسیسر سے لیس ہے۔

امریکہ میں خصوصی یونٹس جو اَن مَنڈ آبدوز سسٹمز، اسی آبدوز کے بشمول، کو استعمال کرتے ہیں، 2010ء کی دہائی کے وسط سے قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم حالیہ مہینوں میں ان کی تنظیمِ نو کی جارہی ہے۔ پہلی سمارٹ آبدوز اسکواڈرن کو بحرالکاہل میں آپریشنز اور تیسری اسکواڈرن کو بحرِ اقیانوس میں تعینات کیا گیا ہے۔

امریکی بحریہ میں اَن مَنڈ آلات کے لیے ایک الگ کمانڈ موجود ہے اور جنگی یونٹس بھی ان آلات کو امداد فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے قابلِ رہنمائی آبدوزیں بھی اس سے قبل امریکی بحریہ کی سروس میں شامل کی جا چکی ہیں۔

ایرانی مسلح افواج کے ہاتھوں قبضے میں لی گئی آبدوز میں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے اور وہ اس ہتھیار کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور انتہائی جدید پروسیسرز سے لیس کیا جانا ہے۔ اس آبدوز میں موجود ’’پالانٹیر ماون‘‘ یا اس سے ملتی جلتی آرٹیفیشل انٹیلیجنس، انٹیلیجنس ڈیٹا کے ساتھ کام کرتی ہے اور ایک مستقل فوجی یونٹ کے حملوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کو ممکن بناتی ہے۔ ان پروسیسرز میں سامنے موجود خطروں کو الگ کرنے، انہیں ترجیح دینے اور اس کے بعد کسی بھی انسانی آپریٹر کی مداخلت کے بغیر ردعمل کا حکم دینے کی صلاحیت موجود ہے۔

اس آبدوز کو تیار کرنے والی اسلحہ ساز کمپنی ’’آندوریل‘‘ امریکی مسلح افواج کے لیے متعدد جاسوسی اور حملہ آور جنگی سسٹم ڈیزائن اور تیار کرتی ہےںجن کی ایک قابلِ ذکر تعداد آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے کنٹرول کی جاتی ہے۔ یہ کمپنی اپنے ہتھیاروں کے پروسیسرز میں بھی، جن میں آبدوزیں، ڈرونز، کروز میزائل اور مستقل جاسوسی سسٹم شامل ہیں، بنیادی طور پر اسی نوعیت کے ایک جیسے نمونے کا استعمال کرتی ہے۔

آئی آر جی سی کی بحریہ کے ہاتھوں اس آبدوز کو قبضے میں لیے جانے کی اہمیت اس اعتبار سے بہت زیادہ ہے کہ اس آبدوز میں موجود پروسیسر اور اس میں استعمال ہونے والے نمونے کی شناخت کے ذریعے ایران کے لیے آندوریل اسلحہ ساز کمپنی کے تیار کردہ متعدد مختلف امریکی ہتھیاروں کے طریقۂ کار اور ان کی طاقت اور کمزوری کے پہلوؤں کی شناخت اور پیش گوئی کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ یہ امر امریکہ کی جانب سے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجیز کی شناخت اور انہیں ایران کی فوجی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے بروئے کار لانے کے میدان میں ایک اہم موڑ پیدا کر سکتا ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں