ایران کی مسلح افواج اور مزاحمتی محاذ کے مجاہدین ہر خطرے کا بھرپور مقابلہ کریں گے، میجر جنرل عبداللہی

مسلح افواج کے چیف آف سٹاف اور حضرت خاتم الانبیاءؐ سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے خبردار کیا : ایران کی مسلح افواج، اسلامی مزاحمت کے مجاہدین اور سپاہیوں کے شانہ بشانہ، امتِ اسلامی کے خلاف ہر خطرے کا فیصلہ کُن اور بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے مکمل جنگی تیاری کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہیں۔
خبر کا کوڈ: 6289
تاریخ اشاعت: 28 September 2026 - 21:21 - 19December 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، مسلح افواج کے چیف آف سٹاف اور حضرت خاتم الانبیاءؐ سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل پائلٹ علی عبداللہی نے سیدِ مزاحمت، سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسیِ کے موقع پر ایک پیغام جاری کیا، جس کا متن درج ذیل ہے

میجر جنرل عبداللہی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

لبنان کی حزب اللہ کے بہادر اور تاریخ ساز سیکریٹری جنرل، شہید سید حسن نصراللہ کے خلاف صیہونی ظالم اور شیطانی حکومت کے وحشیانہ جرم اور ٹارگٹ کلنگ کو دو سال گزرنے کے بعد، اس عظیم شہید کے سرحدوں اور خطے سے ماورا کردار و اثرات، عرب دنیا کے تصورِ جہان پر ان کے اثر اور مغربی ایشیاء میں صیہونی مخالف مزاحمتی بیانیے کے استحکام میں ان کے کردار، امامِ کبیر خمینی (رہ) اور انقلاب کے مجاہد شہید امام (اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف) کی تعلیمات و فرامین کے زیرِ اثر، مزید نمایاں ہو رہے ہیں اور سیدِ مزاحمت کو ایک اسٹریٹجک مکتب کی حیثیت سے امتِ اسلامی کے اتحاد اور اقتدار کی جاوداں علامت میں تبدیل کر چکے ہیں۔

وہ جدید مزاحمت کے معمار اور میدانِ مزاحمت کے قانون ساز تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ حقیقی طاقت ہتھیاروں کے ذخیروں میں نہیں بلکہ اقوام کے اپنے آمال کے ساتھ ناقابلِ انقطاع رشتے میں جڑ پکڑتی ہے۔ سید حسن نصراللہ نے بحرانوں کے انتظام اور میدان کی قیادت میں ایک نیا طریقۂ کار قائم کیا جو ہر محاذ کی عملی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے مزاحمت کے مختلف شعبوں کے اتحاد کی ضمانت فراہم کرتا تھا۔

صیہونی-امریکی دشمن نے گمان کیا کہ سیدِ مزاحمت کو جسمانی طور پر ختم کر کے مزاحمت کے خیمے کا ستون گر جائے گا لیکن دشمن کے اندازے ایک بار پھر اللہ کی مشیت، خطے کی اقوام کی باہمی یکجہتی اور تاریخ ساز مزاحمت سے ان کی وابستگی کے سامنے ناکام ہو گئے اور آج، بالخصوص دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے بعد، جلاد اور دہشت گرد امریکہ اور نسل پرست اور شیطانی صیہونی حکومت کے تصورات اور محاسبات باطل ثابت ہو چکے ہیں۔ یہ حقیقت آشکار ہوبگئی ہے کہ محاذِ مزاحمت نہ صرف کمزور نہیں ہوا بلکہ اسے نمایاں اور پوشیدہ اسٹریٹجک یکجہتی حاصل ہو چکی ہے اور سید نصراللہ کا راستہ لبنان، فلسطین، یمن اور عراق سمیت مزاحمت اور حق طلبی کے جغرافیے کے دور دراز خطوں میں بھی صلابت کے ساتھ جاری ہے۔

اسلامی مزاحمت کے علمبردار اور لبنان کی بہادر حزب اللہ کے رہنما، حجۃ الاسلام والمسلمین شہید سید حسن نصراللہ اور ان کے ہمراہ اور قریب شہید ہونے والے اعزاء، بالخصوص سید ہاشم صفی الدین اور اسلام کے لشکر کے سربلند کمانڈر، میجر جنرل عباس نیلفروشان کی جاوداں، ناقابلِ فراموش اور تحریک بخش یاد، نام اور تاریخ ساز کارناموں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اور آج لبنان کی حزب اللہ کے عظیم المرتبت رہنما، بہادر اور پُر عزم علمبردار حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ نعیم قاسم اور لبنان کے غیرت مند سپاہیوں کی عاشورائی شجاعتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے، دوٹوک طور پر تاکید کی جاتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج، سپریم لیڈر اور سپریم کمانڈر انچیف حضرت امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالیٰ علیہ) کی ہدایات کی روشنی میں، اسلامی مزاحمت کے مجاہدین اور سپاہیوں کے شانہ بشانہ، امتِ اسلامی کے خلاف ہر خطرے کا فیصلہ کن اور بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے مکمل جنگی تیاری کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہیں۔

مسلح افواج کے چیف آف سٹاف اور حضرت خاتم الانبیاءؐ سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر

میجر جنرل پائلٹ علی عبداللہی

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں