ایرانی قوم کی ثابت قدمی نے دشمن کی ٹیکنالوجی اور جنگی ساز و سامان کو مفلوج کر دیا/ ایرانی قوم کی بنیادی فطرت ہی زور و جبر کو تسلیم نہ کرنے میں ہے۔

فوج کے انتظامی امور کے معاون نے جنگ اور دفاعِ مقدس کے موضوع کا تجزیاتی جائزہ لیتے ہوئے کہا: ہماری دفاعی ثقافت میں جنگ اپنی مرضی مسلط کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ دشمن کی زیادتی کے مقابل مزاحمت اور ثابت قدمی کی علامت ہے۔
خبر کا کوڈ: 6311
تاریخ اشاعت: 05 October 2026 - 22:44 - 26December 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، ایرانی فوج کے انتظامی امور کے معاون بریگیڈیئر علی رضا شیخ نے جنگ اور دفاع کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی ثقافت میں جنگ دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ دشمن کی زیادتی اور توسیع پسندانہ عزائم کے مقابل مزاحمت اور ثابت قدمی کی علامت ہے۔ ان کے مطابق ایرانی تاریخ کے مختلف ادوار میں جنگوں اور تنازعات نے قوم کے تجربات اور کامیابیوں کی تشکیل میں کردار ادا کیا ہے، تاہم ایران جنگ کو دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کی بجائے دشمن کی زیادتی کے خلاف دفاع کے تناظر میں دیکھتا ہے۔

بریگیڈیئر علی رضا شیخ

دفاع پریس کو دیے گئے انٹرویو میں بریگیڈیئر جنرل شیخ نے حالیہ 40 روزہ جنگ سمیت مختلف جنگی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ اچانک شروع نہیں ہوئی بلکہ اس سے پہلے ہی منصوبہ بندی، تیاریوں اور مختلف اقدامات کے ذریعے محاذ آرائی جاری تھی۔ جنگ شروع ہونے کے بعد دشمن نے وسیع پیمانے پر جدید ٹیکنالوجی اور جنگی وسائل استعمال کیے، تاہم ایران نے ابتدائی شدید حملے کو برداشت کرنے اور اپنے دفاعی ڈھانچے کو تیزی سے دوبارہ منظم کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اسے اسلامی جمہوریہ ایران کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے کم ترین وقت میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا اور حالات کو مستحکم کیا۔

بریگیڈیئر جنرل شیخ کے مطابق ایک فوجی کی نظر میں جنگ کے دوران بنیادی مسئلہ طاقت کے توازن اور فوری جواب دینے کی صلاحیت تھا۔ ایران نے پہلے بھی دفاع مقدس اور پھر 12 روزہ جنگ میں اس تجربے کو حاصل کر رکھا تھا، اسی لیے حالیہ جنگ میں مسلح افواج فوری طور پر میدان میں اتریں اور دشمن کی یلغار کا بر وقت جواب دے کر صورتحال کو قابو میں کیا۔ ان کے بقول دشمن کے حملے کو روکنا اور اس کی پیش قدمی کو اسی مقام پر منجمد کرنا دفاعی محاذ کی اہم کامیابی تھی۔

انہوں نے مجاہدین کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بعض فوجی اپنی ملازمت کا دورانیہ مکمل ہونے کے باوجود جنگ کے دوران اپنے یونٹ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ انہوں نے ایسے فوجیوں کا حوالہ دیا جنہوں نے کمانڈرز سے کہا کہ جب تک ملک جنگ میں ہے، ان کی فوج سے رخصتی کا کوئی معنی نہیں۔ انہوں نے ڈرون یونٹس کے کمانڈر شہید دانا اور دشت مہیار میں دوش پر نصب میزائل کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کرنے والے شہید زارع سمیت متعدد اہلکاروں کی بہادری کو قابلِ ذکر قرار دیا۔

تہران میں جنگ کے دوران عوامی کردار کا ذکر کرتے ہوئے بریگیڈئیر جنرل شیخ نے کہا کہ مسلح افواج کے ساتھ عوام کی موجودگی اور امداد نے ایک خاص طاقت پیدا کی۔ حملوں کے مقامات پر فوجیوں، امدادی کارکنوں اور شہدا کے ساتھ شہریوں کی موجودگی، امدادی کارروائیوں میں تعاون اور مشکل حالات میں عوام کی دلجوئی نے مسلح افواج کے حوصلے میں اضافہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کے آغاز میں پہلا دھماکہ سنتے ہی فوجی اپنے مورچوں پر پہنچ گئے اور جارحانہ کارروائیاں شروع کر دیں۔ کئی اہلکار جو چھٹی پر تھے، فوری طور پر اپنی ڈیوٹی پر واپس آئے جن میں بعض بعد میں شہید ہوئے۔ بریگیڈیئر جنرل شیخ نے شہید بوستان افروز کا نام لیتے ہوئے کہا کہ بہت سے ایسے شہداء بھی ہیں جن کے نام شاید عوام تک نہ پہنچ سکے لیکن انہوں نے گمنامی میں اسلامی جمہوریہ کے لیے بڑی قربانیاں دیں۔ ان کے مطابق حالیہ جنگ میں فوج کی مختلف شاخوں کو نقصان پہنچا، بحریہ بھی متاثر ہوئی اور تباہ ہونے والے دنا ڈسٹرائر کے شہداء کی قربانیاں بھی نمایاں ہیں۔ فضائیہ، بری فوج اور فضائی دفاعی فورس کے اہلکاروں، خاص طور پر ایف-5 اور سخوئی طیاروں کے پائلٹس کی جدوجہد بھی تاریخ کا حصہ ہے۔

بریگیڈیئر جنرل شیخ نے کہا کہ سپاہ کی بحریہ، ایرو سپیس فورس اور ایرانی فوج کے ڈرون یونٹس نے جارحانہ محور میں کردار ادا کیا جبکہ ائیر ڈیفنس فورس نے آخری لمحے تک میدان میں موجود رہ کر مزاحمت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے تاکید کی کہ ان تمام اہلکاروں کی زندگیوں اور جنگی تجربات کو مستقبل میں تاریخ، سینما اور ادبیات کے ذریعے محفوظ کیا جانا چاہیے۔

ایران کی فوجی کامیابیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شدید پابندیوں اور محدود وسائل کے باوجود ایران نے دنیا کی پہلی فوجی طاقت کے مقابل کھڑے ہو کر اسے چیلنج کیا۔ ان کے مطابق اس جنگ نے اس بڑی فوجی طاقت کی حقیقی صلاحیت کو نمایاں کیا اور دنیا کو دکھایا کہ جدید ٹیکنالوجی اور جنگی ساز و سامان کسی قوم کی ارادے اور ثابت قدمی کے مقابلے میں ہمیشہ فیصلہ کُن ثابت نہیں ہوتے۔

بریگیڈیئر جنرل شیخ نے اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابی کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا: پہلی دفاع مقدس جنگ نے ایران کے لیے قومی شناخت کی تشکیل اور شناخت کے ادراک میں کردار ادا کیا، 12 روزہ جنگ نے ڈیٹرنس کے موجودہ توازن کو چیلنج کیا اور اس کے عناصر میں تبدیلی پیدا کی جبکہ 40 روزہ جنگ میں ایران نے اپنی فوجی پوزیشن اور طاقت کو خطے اور دنیا میں مستحکم کرنے کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق شناخت کا ادراک، ڈیٹرنس اور طاقت کا استحکام وہ تین مراحل ہیں جن کی بنیاد پر آج ایران کو ایک طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اختتام پر بریگیڈیئر جنرل شیخ نے کہا کہ دشمن ایران کی طاقت کو ختم کرنے اور اس کی تہذیب کو مٹانے کے مقصد سے آیا تھا لیکن اسے ایران کی طاقت کو تسلیم کرنا پڑا۔ انہوں نے ایرانی قوم کو ایسی قوم قرار دیا جو ظلم اور زور قبول نہیں کرتی اور اپنے وجود کے ساتھ میدان میں رہ کر حالات اور جنگی توازن تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی قوم کی بنیادی خصوصیت ہی زور و جبر کو قبول نہ کرنا ہے اور اسلامی جمہوریہ کا نظام اور اس کے مجاہدین بھی اسی اصول کے تحت کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں دشمن کی سرگرمیاں اس کی وہ کوششیں ہیں کہ جن کے تحت جنگ کے میدان میں وہ اپنے مقاصد حاصل کر سکے، تاہم ایرانی نظام کی محاسباتی حکمتِ عملی اور حریف کے محاذ کی مکمل شناخت اسے اپنے اہداف حاصل کرنے سے روک دے گی۔ انہوں نے عوام کی موجودگی اور مجاہدین کی شجاعت کو مستقبل کی کامیابی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ میدان، شاہراہ اور سفارت کاری تین بنیادی، ہم آہنگ اور ایک دوسرے کو مضبوط کرنے والے ستونوں کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کا پرچم بلند رکھیں گے۔

گفتگو: مہدی شہرودی اور محمد زرچینی

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں