یمن کے خلاف امریکہ کی جنگ میں شمولیت کی صورت میں باب المندب مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا/ امریکہ کی اندرونی صورتِ حال انتہائی خراب ہے، جنرل اسدی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے حضرت خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے سابق نائب انسپکشن سربراہ جنرل محمد جعفر اسدی نے یمن کی جنگ میں امریکہ کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں کہا: "مجھے نہیں لگتا کہ امریکی، یمن کی جنگ میں داخل ہوں گے۔ امریکہ، سعودی عرب اور صیہونی حکومت کی اندرونی صورتِ حال ذرائع ابلاغ میں دکھائی جانے والی صورتِ حال سے کہیں زیادہ خراب ہے۔ وہ اپنی زیادہ تر تباہ کاریوں، معاملات اور مشکلات کو چھپاتے ہیں اور صرف کبھی کبھار، محدود انداز میں یا مجبوری کے تحت ان کا معمولی سا ذکر کرتے ہیں جبکہ ایران، یمن، لبنان اور فلسطین کے ساتھ معمولی سا واقعہ بھی پیش آ جائے تو وہ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔"

جنرل اسدی نے مزید کہا: "اس وقت امریکہ کی اندرونی صورتِ حال ایسی نہیں کہ وہ یمن کے خلاف جنگ میں داخل ہونے کی جرأت کر سکے کیونکہ انصار اللہ بھی اس انتظار میں ہے کہ وہ کوئی اقدام کریں تا کہ اس کے بعد انصار اللہ آبنائے باب المندب کو، جو اس کے کنٹرول میں ہے، سب کے لیے مزید مضبوطی اور سختی کے ساتھ بند کر سکے۔"
حضرت خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے سابق نائب انسپکشن سربراہ نے واضح کیا: "یہ جنگ علاقائی شکل اختیار کر چکی ہے اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں کرۂ ارض کے تمام انسانوں کی تقدیریں ایک دوسرے سے جڑ گئی ہیں۔"
ایران کی مسلح افواج کے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول اور اس آبنائے کے غیر مجاز راستے سے گزرنے والے خلاف ورزی کرتے ہوئے سپر آئل ٹینکروں کے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "جو بھی آئل ٹینکر تباہ ہوگا، اس کی جگہ اتنی آسانی سے پُر نہیں کی جا سکے گی۔ بہترین جہاز ساز کارخانوں میں بھی ایسے آئل ٹینکروں کی تیاری میں طویل عرصہ لگتا ہے۔"
جنرل اسدی نے مزید کہا: "جو لوگ اس تیل کی آمد کے منتظر تھے تا کہ کچھ سکون کا سانس لے سکیں، اب ان کا تیل جل چکا ہے۔ تیل کے علاوہ، اب ایسا آئل ٹینکر بھی دستیاب نہیں جو واپس جا سکے، دوبارہ تیل لے کر آ سکے اور اسے منتقل کر سکے کیونکہ اس دوران آبنائے ہرمز سے اسمگلنگ کے ذریعے گزرنے والے بحری جہازوں کو نقصان قابل ذکر پہنچا ہے۔"
حضرت خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے سابق نائب انسپکشن سربراہ نے آخر میں کہا: "امریکی حکّام اپنے ملک کی صورتِ حال کی درست وضاحت کرنے سے گریز کرتے ہیں تا کہ عوام یہ نہ سمجھ سکیں کہ امریکہ کے حالات کسی کے تصور سے بھی کہیں زیادہ خراب ہیں۔ امریکہ کی صورتِ حال ایسی نہیں کہ وہ یمن کے ساتھ جنگ میں الجھ سکے اور اگر وہ ایسی حماقت کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے مزید نقصان اٹھانا پڑے گا۔"
