آئندہ جنگ میں ایران کا ردعمل ناقابلِ پیش گوئی ہوگا، حجۃ الاسلام طائب
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، اسلامی کونسلِ برائے رابطہ اور تبلیغ میں منعقدہ "جہادِ تبیین" کے آٹھویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین طائب نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے فوجی میدان میں شکست تسلیم کرنے کے بعد یہ سمجھا تھا کہ ایرانی عوام کی مزاحمت کمزور ہو چکی ہے اور وہ تین روزہ جنگ یا چھ ہفتوں کے تصادم کے اندر اندر ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ دستاویزات میں درج تھا کہ اگر ایران کے رہبرِ اعلیٰ اور مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈر شہید ہو جائیں، اعلیٰ اور دوسرے درجے کی فوجی قیادت کو نشانہ بنایا جائے اور دفاعی بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا جائے تو تین دن کے اندر ایران کا حکومتی نظام درہم برہم ہو جائے گا، انتظامی امور میں خلل پڑے گا اور امنِ عامہ متاثر ہوگا، جس کے نتیجے میں ایران مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اگر یہ منصوبہ تین دن میں کامیاب نہ ہوتا تو دشمنوں کا اندازہ تھا کہ چھ ہفتوں کی جنگ کے دوران ایران کے گولہ بارود اور میزائلوں کے ذخائر ختم ہو جائیں گے، معیشت متاثر ہوگی اور اندرون ملک سلامتی کے مسائل پیدا ہوں گے، جس کے بعد ایران کمزور پوزیشن میں مذاکرات کرے گا۔
حجۃ الاسلام طائب نے کہا کہ یہ اندازے غلط ثابت ہوئے۔ ان کے مطابق، ایرانی عوام اور مسلح افواج نے ہمت نہیں ہاری اور مزاحمت جاری رکھی جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے اپنے گولہ بارود، ڈیفنس سسٹم اور تھاڈ میزائلوں کے ذخائر بھی ختم ہونے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں سپاہ پاسداران کو اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں تک میزائل پہنچانے کے لیے پانچ تہوں پر مشتمل ائیر ڈیفنس سسٹم عبور کرنے کی غرض سے پیچیدہ منصوبہ بندی اور مختلف اقسام کے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرنا پڑا۔ تاہم، جنگ کے آخری دنوں میں ایرانی میزائل براہِ راست اپنے ٹارگٹس کو نشانہ بنانے لگے۔ طائب نے اسے امریکہ اور اسرائیل کی فوجی برداشت میں کمی اور ایران کی دفاعی صلاحیت کے بارے میں ان کے غلط اندازوں کا نتیجہ قرار دیا۔
ان کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل نے جنگ بندی کے لیے یورپی اور علاقائی ممالک کو ثالث بنایا، اس امید پر کہ معمولاتِ زندگی بحال ہونے کے بعد ایران اس صورتِ حال کو برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات میں رعایتیں دے گا۔ طائب نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے انتظام کو ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی ایک شق قرار دیا اور کہا کہ معاہدے کے دوسرے ہفتے میں اس پر عمل شروع ہوا لیکن تیسرے ہفتے امریکہ کو خدشہ ہوا کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر انتظامی اختیار مستحکم ہو جائے گا، چنانچہ اس نے صورتِ حال بدلنے کی کوشش کی۔ طائب نے کہا کہ امریکی جنگی جہازوں نے تیزی سے گزرنے کی کوشش کی تو انہیں نشانہ بنایا گیا اور ان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ ہیلی کاپٹرز کی مدد سے فضائی راستے کے ذریعے جہازوں کو گزارنے کی کوشش بھی کامیاب نہ ہوئی جبکہ بحری محاذ پر ایک اور تصادم کے بعد بھی امریکہ کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
حجۃ الاسلام طائب کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل نے اب براہِ راست اور ہمہ گیر جنگ کی بجائے نیابتی گروہوں، علاقائی اور بین الاقوامی اتحادیوں، اقتصادی دباؤ اور عدم تحفظ پیدا کرنے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتِ حال کو ایران، امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممالک کے درمیان برداشت اور ثابت قدمی کا مقابلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پابندیوں اور محاصرے کے ذریعے ایران کی معیشت کمزور کرنے کی کوشش کی لیکن آبنائے ہرمز عالمی معیشت اور طاقت کے توازن پر اثر انداز ہونے والا اہم عامل بن چکی ہے۔
