تمام تر صلاحیتیں استعمال کرنے کے باوجود دشمن ایران کے مقابلے میں شکست کھا گئے، جنرل فدوی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر اِن چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ جنرل علی فدوی نے "جان فدایان لرستان" فوجی مشق کے دوران دوسری اور تیسری دفاعِ مقدس کے واقعات، مسلح افواج کی حمایت میں عوام کے کردار اور محاذِ مزاحمت کی ثابت قدمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "اللہ تعالیٰ کے وعدے اور پیغمبرِ اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ائمۂ اطہار علیہم السلام اور شہداء کی بشارتیں ان مراحل میں پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئی ہیں۔"

جنرل فدوی نے کہا کہ عالمی سامراج نے اپنی تمام تر قوت اور وسائل کے ساتھ اسلامی ایران اور محاذِ مزاحمت پر حملہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا: "اس جنگ کی دشواریوں کے باوجود، ایرانی عوام اور اسلامی جمہوری نظام اس تاریخی واقعے کے حتمی فاتح رہے۔"
سپاہ کے کمانڈر اِن چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ نے اسلامی انقلاب کے مقابلے میں مادی سپر پاورز کی شکست کو محاذِ حق کی برتری کے لیے ارادۂ الٰہی کی علامت قرار دیا اور واضح کیا: "ان تبدیلیوں نے سامراجی طاقتوں کی کھوکھلی حیثیت کو بے نقاب کر دیا ہے جبکہ مسلسل فتوحات دنیا کی قوموں پر حقیقی طاقت کی حقیقت آشکار کر رہی ہیں۔"
مجاہدین کی ایثار و قربانی، محاذِ مزاحمت کے مقام میں بلندی کا سبب
انہوں نے اسلامی اہداف کے حصول کی راہ میں ایثار اور قربانی کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا: "بلند مقام تک پہنچنے اور الٰہی رفعت حاصل کرنے کے لیے ایثار اور بڑی قربانیاں دینا ضروری ہے۔ ایسی قربانیاں جو اسلام کے تحفظ، امامِ راحل رحمۃ اللہ علیہ کے راستے کو جاری رکھنے اور دنیا میں حقیقی طاقت کی حقیقت ثابت کرنے کے لیے دی گئی ہیں۔"
جنتل فدوی نے مسلح افواج کے شہید کمانڈرز کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا: "شہید سلامی، شہید پاکپور اور سپاہ، مسلح افواج کے جنرل اسٹاف اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیڈکوارٹر کے دیگر بلند مرتبہ شہداء، سربلند کمانڈرز اور مجاہدین کی طرح اپنی جدوجہد اور فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ہمیشہ شہادت کے آرزومند رہے اور بالآخر اس عظیم سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔"
سپاہ کے کمانڈر اِن چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے طرزِ عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "بنیادی اہمیت اس بات کی ہے کہ ایرانی قوم اور محاذِ مزاحمت سے وابستہ مسلمان قرآنی اصولوں اور خالص اسلامی مقاصد پر ثابت قدم رہیں۔ یہ راستہ ان مقاصد کی مکمل تکمیل تک جاری رہے گا۔"
عوام کی 240 روزہ موجودگی؛ ملک کے دفاع میں قومی اتحاد کا مظہر
فدوی نے ملک کے دفاع کے لیے عوام کی مسلسل میدان میں موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "240 دن سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے کہ اسلامی ایران کے تمام لوگ دن رات میدان میں موجود ہیں اور جنگ کے محاذ پر اپنے مجاہد فرزندوں کے ساتھ عہدِ وفا باندھ چکے ہیں۔"
انہوں نے عوام کی اس موجودگی کو اتحادِ کلمہ کا حقیقی مظہر قرار دیتے ہوئے مزید کہا: "اتحادِ کلمہ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی نمایاں ترین ہدایات میں سے ایک ہے اور ملک کے دفاع کے میدان میں عوام کی پُر جوش موجودگی اس ہدایت پر عمل درآمد کی ایک مثال ہے۔"
سپاہ کے کمانڈر اِن چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ نے شہداء، امامِ شہداء اور اسلامی انقلاب اور ملک کا دفاع کرنے والے کمانڈرز کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے تاکید کی: "مسلح افواج اور ایرانی قوم کے تمام افراد متحد اور یکجان ہو کر باطل کے محاذ اور عالمی سامراج کے مقابلے میں کھڑے ہیں اور اس مزاحمت کا حتمی ثمر دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔ ایسی فتح جسے دشمن کی میڈیا سلطنت بھی چھپا نہیں سکے گی۔"
فدوی نے سپاہ کی ایرو سپیس فورس کی حمایت میں لرستان کے لوگوں کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو سپیس فورس کی طاقت کا مظاہرہ لرستان صوبے سے تل ابیب اور امریکی اڈوں کی جانب متعدد میزائل داغے جانے کے ذریعے ہوا۔"
انہوں نے کہا کہ لرستان کی بہادر عوام مشکل اور خطرناک حالات میں میدان میں اتری۔ ان کے مطابق، اس صوبے کے لوگ نے رضاکارانہ طور پر اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کرتے ہوئے ایرو سپیس فورس کی سرنگوں تک رسائی کے راستے کھلے رکھنے اور معاونت فراہم کرنے کے لیے کوششیں کیں۔ یہ سب ایسے حالات میں ہوا جب جان کا خطرہ تھا لیکن ان کے بقول، عوام نے ایک بھی میزائل داغے جانے کے عمل کو رکنے نہیں دیا۔
سپاہ کے کمانڈر اِن چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ نے دفاعِ مقدس کے زمانے میں لرستان اور بختیاری عوام کی شرکت کی تاریخ یاد کرتے ہوئے جنگ کے ابتدائی دنوں میں اہواز اور جنوبی محاذ پر ان کی مقامی لباس میں پُر جوش موجودگی کا ذکر کیا۔ انہوں نے مجاہدین کی معاونت اور دفاعِ مقدس کے عظیم کارناموں کی تشکیل میں ان علاقوں کی خواتین کے کردار پر بھی تاکید کی۔
"جان فدایان" مشق، اپنے اہداف کے دفاع میں ایرانی قوم کی یکجہتی کا مظہر
فدوی نے کہا: "جان فدایانِ لُرستان" مشق، اپنے اہداف کے دفاع میں ایرانی قوم کے قلبی، زبانی اور عملی اتحاد کا مظہر ہے جبکہ مسلح افواج کے ساتھ عوام کا کردار ملک کے دفاع کے میدان میں قومی اتحاد اور یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے۔
لرستان میں جان فدایان مشق کے دوران سپاہ کے کمانڈر اِن چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ نے کہا کہ دوسری اور تیسری دفاعِ مقدس میں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور پیغمبرِ اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ائمۂ اطہار علیہم السلام اور شہداء کی بشارتیں پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا: "اگرچہ عالمی سامراج نے اپنی تمام تر قوت اور وسائل کے ساتھ اسلامی ایران اور محاذِ مزاحمت پر حملہ کیا اور ایک انتہائی دشوار جنگ مسلط کی لیکن اس تاریخی واقعے کے حتمی فاتح ایران کے لوگ اور مقدس اسلامی جمہوری نظام رہے۔"
جنرل فدوی نے کہا کہ اسلامی انقلاب کے مقابلے میں مادی سپر پاورز کی شکست، محاذِ حق کی طاقت کی برتری کے لیے ارادۂ الٰہی کی نشاندہی کرتی ہے اور دنیا بھر میں سامراجی طاقتوں کی کھوکھلی حیثیت کو بے نقاب کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "یہ فیصلہ کُن اور مسلسل فتوحات دنیا کی تمام قوموں پر کائنات میں حقیقی طاقت کی حقیقت کو آشکار کرتی ہیں۔"
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر اِن چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ کے حساب کتاب کی بنیاد مادی پیمانے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: "دشمن کے حساب کتاب میں خداوندِ متعال، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ائمۂ اطہار علیہم السلام اور شہداء کے کردار کو نظر انداز کیا جاتا ہے حالانکہ یہ عوامل جنگ کے انجام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔"
فدوی نے مزید کہا: "دشمن اپنی تمام تر صلاحیتوں اور وسائل کے ساتھ میدان میں اترا اور ایک سخت جنگ چھیڑی لیکن ایران، اسلامی انقلاب کے مرکز اور محاذِ مزاحمت کی حیثیت سے اس مقابلے میں کامیاب رہا ہے۔"
انہوں نے ان واقعات میں عوام کے کردار پر زور دیتے ہوئے واضح کیا: "ان دونوں جنگوں کی فاتح ایرانی عوام ہے جنہوں نے اسلامی انقلاب کا ساتھ دیا اور اس پر ثابت قدم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ ایران، اسلامی انقلاب اور محاذِ مزاحمت کی قوت کو دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل ہو تا کہ دنیا کے لوگ حقیقی طاقت کے مفہوم سے آشنا ہو سکیں۔"
اسلامی انقلاب کے مقابلے میں امریکہ کی مادی طاقت کی شکست
سپاہ کے کمانڈر اِن چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ نے اس عمل میں مادی طاقتوں کی شکست کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "دنیا کے لوگوں کو یہ سمجھانے کے لیے کہ حقیقی سپر پاور کون ہے، ضروری تھا کہ امریکہ کی مادی طاقت اسلامی انقلاب کے مقابلے میں آئے اور اسے شکست کا سامنا کرنا پڑے۔"
فدوی نے اس تصادم کے انسانی نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "اسلامی انقلاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ مقام تک پہنچنے کی ایک قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ ایسے افراد جو طویل برسوں تک اپنے فرائض انجام دیتے رہے، شہادت کے آرزومند تھے۔"
انہوں نے انقلاب کے شہید امام کے شہداء کا ذکر کرتے وقت ردعمل کو یاد کرتے ہوئے مزید کہا: "ہم نے بارہا دیکھا کہ جب شہداء کے نام لیے جاتے تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے اور وہ شہادت کی آرزو کرتے تھے۔"
سپاہ کے کمانڈر اِن چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ نے کہا کہ شہید کمانڈرز کی یہ قربانیاں اسلام کے تحفظ اور حقیقی طاقت کے مقام کو واضح کرنے کے تناظر میں معنی رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا: "یہ افراد اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار تھے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔"
فدوی نے اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان جاری محاذ آرائی کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا: "اصل مسئلہ ایرانی قوم اور پورے محاذِ مزاحمت میں شامل مسلمان اقوام ہیں جو ان اہداف سے وابستہ ہیں جن کی وضاحت قرآنِ کریم نے کی ہے۔"
انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں رات کے وقت عوام کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "240 دن سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے کہ ایرانی عوام میدان میں آ چکی ہے اور ہر رات پورے ملک میں باہر نکل کر اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔"
سپاہ کے کمانڈر اِن چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ نے اتحادِ کلمہ کو اسلامی تحریک کے دور میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی بار بار دی جانے والی ہدایات میں سے ایک قرار دیا اور مزید کہا: "گزشتہ 240 دنوں میں اس اتحاد کا عملی مظاہرہ ہوا ہے۔ مسلح افواج اور ملک بھر کے لوگ متحد ہو کر باطل کے محاذ کے مقابلے میں کھڑے ہیں اور اس ثابت قدمی کے اثرات مسلسل دیکھے جا رہے ہیں۔"
فدوی نے ایرانی عوام کی مزاحمت اور ثابت قدمی کے تسلسل پر زور دیتے ہوئے کہا: "ان شاء اللہ جلد ہی اس مزاحمت کا حتمی ثمر یعنی یقینی اور ناقابلِ تردید فتح حاصل ہو جائے گی۔ ایسی فتح جس کی حقیقت کو دشمن اپنی وسیع میڈیا سلطنت کے باوجود نظر انداز نہیں کر سکے گا۔"
انہوں نے شہداء اور انقلاب کے شہید امام کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مزید کہا: "ان شہید کمانڈرز کو سلام جنہوں نے اسلامی انقلاب اور ملک کے دفاع میں ایرانی عوام سے آگے بڑھ کر قیادت کی اور اس راستے میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔"
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر اِن چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ نے جنگ کے دوران لرستان کی عوام کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اس صوبے کے لوگ تینوں دفاعِ مقدس کے ادوار میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے میدان میں آئے اور سربلندی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔"
فدوی نے دوسری اور تیسری جنگ کے دوران لرستان پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "لرستان ان علاقوں میں سے ایک تھا جو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو سپیس فورس کے یونٹ کی موجودگی کے باعث امریکہ اور صیہونی حکومت کے وسیع حملوں کا نشانہ بنا کیونکہ اس علاقے سے امریکی اڈوں کی جانب متعدد میزائل داغے جاتے تھے۔"
انہوں نے سپاہ کی ایرو سپیس فورس کی معاونت میں لرستان کی عوام کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا: "عوام رضاکارانہ طور پر اپنی ذاتی گاڑیوں کے ساتھ میدان میں آئے تا کہ ایرو سپیس فورس کے راستے اور سرنگیں کھلی رہیں۔"
سپاہ کے کمانڈر اِن چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ نے مسلط کردہ جنگ کے زمانے کی یادیں بیان کرتے ہوئے کہا: "ایک منظر جو ہمیشہ میرے ذہن میں محفوظ رہا ہے، وہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں اہواز میں لرستان اور بختیاری عوام کی موجودگی ہے۔"
فدوی نے مجاہدین کی معاونت میں خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا: "اس علاقے کی خواتین کو سلام جو اپنے مردوں کی اصل مددگار تھیں تا کہ وہ میدانِ جنگ میں جا کر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔"
انہوں نے لرستان میں "جان فدایان ۲" مشق کے انعقاد کا حوالہ دیتے ہوئے تاکید کی: "ان شاء اللہ آج کی مشق اس جذبے کی مکمل عکاسی کرے گی جو عوام کے دلوں، زبانوں اور عمل میں اسلام کے دفاع، اسلامی ایران کے دفاع اور محاذِ حق کی حمایت کے لیے موجود ہے۔"
