خلیج فارس کا خطہ امریکہ کے انخلا کے بعد خطے کے اقوام کے باہمی اتحاد و ہم آہنگی کا مرکزی محور بنے گا۔
دفاعی و سکیورٹی گروپ، دفاع پریس کی رپورٹ کے مطابق، سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے خیلج فارس کے قومی دن کے موقع پر جاری کرنے والے پیغام میں کہا کہ آج خلیجِ فارس امریکی-صیہونی مسلط کردہ جنگ اور وائٹ ہاؤس کے خبیث، مکار اور جوا کھیلنے والے حکمران کی جارحانہ پالیسیوں کے باعث ایک نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر کھڑا ہے؛ ایسا مرحلہ جہاں استحکام، پائیدار سلامتی اور خطے میں دانشمندانہ تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔

یہ اہم آبی گذرگاہ خطے کی معاشی، توانائی اور مواصلاتی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، اور اس کی سلامتی — جیسا کہ جمہوریہ اسلامی ایران کی پالیسیوں میں بارہا واضح کیا گیا ہے — صرف دانشمندانہ تدبیر، اجتماعی حکمت عملی اور خلیجِ فارس کے ساحلی ممالک کی فعال شراکت سے اور غیر ملکی اور طاغوتی طاقتوں کی عدم موجودگی میں ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔
ایرانی قوم نے ہمیشہ اپنی تاریخی بنیادوں اور قومی طاقت کے بل بوتے پر حسنِ ہمسائیگی، باہمی احترام اور تعمیری شراکت داری کے اصولوں پر زور دیا ہے۔ جمہوریہ اسلامی ایران کی خلیجِ فارس کے حوالے سے حکمتِ عملی اجتماعی سلامتی، مشترکہ ترقی، علاقائی خودمختاری کے احترام اور پائیدار توازن پر مبنی ہے— ایک ایسی حکمتِ عملی جو استحکام اور سکون کو طاقت اور خودمختاری کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔
تاہم، امریکہ اور عالمی صیہونیت کی ظاہر و پنہاں جنگجویانہ پالیسیوں نے رمضان کے دوران جنگ چھیڑ کر اور ایرانی قوم پر وحشیانہ جارحیت مسلط کر کے، نیز خلیجِ فارس کے جنوبی ساحلی اسلامی ممالک کو تنازع میں گھسیٹ کر، اس اہم خطے کی عمومی سلامتی، خصوصاً ان ممالک کی سرزمین، بنیادی تنصیبات اور عوام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس عمل نے اسلامی اخوت اور باہمی اعتماد پر مبنی مشترکہ سلامتی کے قیام میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔
تاریخی تجربات اور زمینی حقائق کی روشنی میں اور اس ہمہ گیر جنگی ماحول کے تناظر میں، خطے کی اقوام اور حکومتوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ
خلیجِ فارس اقوام کے بقائے باہمی کی علامت ہے اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حقیقی طاقت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب سلامتی، خوشحالی اور ترقی سب کے لیے یقینی بنائی جائے۔
اسی تناظر میں، اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قومی عزم، مسلح افواج کی قوت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر خطے میں سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے ایک مضبوط، قابلِ اعتماد اور مؤثر ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی طاقتور بحریہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول، نگرانی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے اور اس حساس محاذ پر کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔
یہ عظیم دن ایران کے تہذیبی ورثے کی یاد دہانی اور ایسے مستقبل پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جہاں خلیجِ فارس تصادم اور خطرات کا میدان نہیں بلکہ تعاون، علم، تجارت اور پائیدار امن کا مرکز بن سکے۔
اس مبارک موقع پر خلیجِ فارس کے تمام باشندوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اور ایرانی شہداء، خصوصاً شہید ایڈمرل گارڈ علیرضا تنگسیری، سردار نادر مہدوی اور امریکہ کے خلاف معرکوں میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے دیگر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ تاکید کی جاتی ہے کہ
حالیہ حالات و واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں امریکہ اور غیر ملکی عناصر کے انخلا کے بعد وہ دن ضرور آئے گا جب خلیجِ فارس مسلم اقوام کے اتحاد کا مرکز بن کر امن، طاقت اور ترقی کے محور پر درخشاں ہو کر چمکے گا اور اپنی عالمی اور اسٹریٹیجک اہمیت کو بھرپور انداز میں منوائے گا۔
سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی
