ایران کی عسکری “سرپرائزنگ صلاحیتیں” کئی گنا ترقی کر چکی ہیں، جنرل ابن‌الرضا

وزارتِ دفاع کے قائم مقام سربراہ نے کہا کہ “جنگِ رمضان” میں اسلامی جمہوریہ ایران کی تکنیکی اور حربی صلاحیتوں میں نمایاں اور غیرمعمولی ترقی ہوئی ہے۔
خبر کا کوڈ: 5918
تاریخ اشاعت: 28 May 2026 - 02:56 - 19August 2647

دفاع پریس کے دفاعی و سیکیورٹی گروپ  کی رپورٹ کے مطابق، وزارتِ دفاع اور مسلح افواج کی لاجسٹک سپورٹ کے قائم مقام سربراہ جنرل «سید مجید ابن‌الرضا» نے صدرِ مملکت کی وزارتِ دفاع کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران کہا:"جنگِ رمضان میں تکنیک اور ٹیکٹکس کے میدان میں ہماری حیران کُن عسکری صلاحیتیں کئی گنا ترقی کر چکی ہیں۔ ۱۲ روزہ جنگ کے دوران ہم دشمن کے چند ہی فضائی اہداف کو نشانہ بنا سکے تھے لیکن جنگِ رمضان میں ہم ایسی ٹیکنالوجی تک پہنچ گئے جس کے ذریعے تقریباً دشمن کے 210 فضائی پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا گیا۔"

جنرل ابن‌الرضا

انہوں نے مزید کہا:”صرف فضائی اہداف کے میدان میں ہی ہم نے جنگِ رمضان کے دوران دشمن کو تقریباً ۷ ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ دشمن کے اسٹیلتھ (ریڈار سے بچنے والے) طیاروں کو نشانہ بنانا اُن امور میں شامل تھا جس پر جنگ کے آغاز ہی سے ہماری دفاعی صنعت نے توجہ مرکوز کی۔ دس دن سے بھی کم عرصے میں ہم اس ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کے بعد دشمن کے F-35 اور دیگر جدید جنگی طیاروں کو شدید نقصان پہنچایا گیا”۔

وزارتِ دفاع کے قائم مقام سربراہ نے مزید کہا:”دیگر فضائی اہداف کی تباہی کے حوالے سے بھی آپ آگاہ ہیں؛ یہ تقریباً روزمرہ اور ہفتہ وار معمول بن چکا تھا کہ ہر روز دشمن کے کئی جدید ڈرونز کو مار گرایا جاتا تھا۔ اسی طرح F-16 اور F-18 جنگی طیاروں کو نشانہ بنانا بھی معمول کی کارروائی بنتی جا رہی تھی”۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً