ایران کی عسکری “سرپرائزنگ صلاحیتیں” کئی گنا ترقی کر چکی ہیں، جنرل ابنالرضا
دفاع پریس کے دفاعی و سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، وزارتِ دفاع اور مسلح افواج کی لاجسٹک سپورٹ کے قائم مقام سربراہ جنرل «سید مجید ابنالرضا» نے صدرِ مملکت کی وزارتِ دفاع کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران کہا:"جنگِ رمضان میں تکنیک اور ٹیکٹکس کے میدان میں ہماری حیران کُن عسکری صلاحیتیں کئی گنا ترقی کر چکی ہیں۔ ۱۲ روزہ جنگ کے دوران ہم دشمن کے چند ہی فضائی اہداف کو نشانہ بنا سکے تھے لیکن جنگِ رمضان میں ہم ایسی ٹیکنالوجی تک پہنچ گئے جس کے ذریعے تقریباً دشمن کے 210 فضائی پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا گیا۔"

انہوں نے مزید کہا:”صرف فضائی اہداف کے میدان میں ہی ہم نے جنگِ رمضان کے دوران دشمن کو تقریباً ۷ ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ دشمن کے اسٹیلتھ (ریڈار سے بچنے والے) طیاروں کو نشانہ بنانا اُن امور میں شامل تھا جس پر جنگ کے آغاز ہی سے ہماری دفاعی صنعت نے توجہ مرکوز کی۔ دس دن سے بھی کم عرصے میں ہم اس ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کے بعد دشمن کے F-35 اور دیگر جدید جنگی طیاروں کو شدید نقصان پہنچایا گیا”۔
وزارتِ دفاع کے قائم مقام سربراہ نے مزید کہا:”دیگر فضائی اہداف کی تباہی کے حوالے سے بھی آپ آگاہ ہیں؛ یہ تقریباً روزمرہ اور ہفتہ وار معمول بن چکا تھا کہ ہر روز دشمن کے کئی جدید ڈرونز کو مار گرایا جاتا تھا۔ اسی طرح F-16 اور F-18 جنگی طیاروں کو نشانہ بنانا بھی معمول کی کارروائی بنتی جا رہی تھی”۔
