مسلح افواج مکمل ڈٹرنس کے حصول کے لیے کوشاں ہیں / دشمن اب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی جرات نہیں رکھتا، میجر جنرل حاتمی

فوج کے کمانڈر انچیف نے کہا کہ دشمنوں کو اب آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں داخل ہونے کی جرات نہیں رہی، ان کے خلاف ہمارا غصہ اور کینہ کم نہیں ہوگا، اور اگر انہوں نے کوئی غلطی کی تو انہیں ایک ایسے انباشتہ غصے اور کینے کا سامنا کرنا پڑے گا جو ان کا کام بہت مشکل کر دے گا۔
خبر کا کوڈ: 5980
تاریخ اشاعت: 16 June 2026 - 16:23 - 07September 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر کے مطابق، فوج کے سربراہ ** میجر جنرل حاتمی** نے آج (منگل)  فوج کے امام علیؑ آفیسرز یونیورسٹی کے 1184 شہید طلبہ اور گریجویٹ افسران کی یاد میں اس اکیڈمی میں منعقدہ تقریب سے جس میں اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے شرکت کی، خطاب کرتے ہوئے ماہِ محرم اور حضرت امام حسینؑ کے ایامِ عزا کی آمد پر تعزیت پیش کی۔

میجر جنرل حاتمی

انہوں نے کہا:

"امید ہے کہ ہم سب سیدالشہداء حضرت اباعبداللہ الحسینؑ اور شہدائے کربلا کی عزاداری کی برکتوں سے فیض یاب ہوں گے” ۔

میجر جنرل حاتمی نے مزید کہا:

"ہم سب پر فرض ہے کہ شہداء کے معزز گھر والوں کا حق ادا کریں اگرچہ شہداء کے اہلِ خانہ، ہمارے ملک کے مجاہدین، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور تمام سپاہیوں کا حق ادا کرنا نہایت دشوار کام ہے”۔

 فوج کے سربراہ نے "نشانِ فداکاری" کے حوالے سے کہا:

"یہ نشان ہمارے عزیز شہید رہبر نے اس یونیورسٹی کو عطا کیا تھا؛ وہ عظیم رہبر جن کی شہادت کے غم میں آج ہم سب گریاں ہیں۔ ہم بارہا اخلاص اور محبت کے ساتھ خداوند متعال سے دعا کرتے تھے کہ ہماری عمر میں سے کم کر کے ان کی عمر میں اضافہ کرے لیکن ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے خدا سے کچھ اور ہی مانگا تھا۔ وہ عزیز تھے اور شہادت کے بعد عزیز تر ہو گئے۔ ان کی دعا، ان کے ساتھیوں اور پیروکاروں کی تمام خواہشات پر غالب آ گئی اور وہ اپنے مطلوبہ مقام تک پہنچ گئے”۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہید رہبر کو اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے بارے گہرا ادراک تھا اور کہا:

"امامِ حکیم، شہید اور صاحب علم نے یہ نشان امام علیؑ آفیسرز یونیورسٹی کو عطا کیا کیونکہ وہ فوج کی فداکاریوں کو بخوبی جانتے تھے۔ ہم نے ان کے بیانات میں بارہا براہِ راست اور بالواسطہ سنا کہ وہ فرماتے تھے: 'میں نے فوج کی قربانیوں کو قریب سے دیکھا اور مشاہدہ کیا ہے۔' نشانِ فداکاری اسی نگاہ کا مظہر تھا اور یہی اس کی عظیم قدر و منزلت ہے”۔

میجر جنرل حاتمی

میجر جنرل  حاتمی نے یاد دلایا:

"شہید رہبر اس یونیورسٹی کو سب سے بہتر جانتے تھے اور اس کے مختلف پروگرامز میں مسلسل شرکت کرتے تھے۔ مسلح افواج کے مختلف مراکز میں سے جس مقام پر انہوں نے سب سے زیادہ حاضری دی، وہ یہی یونیورسٹی اور اس کی تقریبات تھیں۔ وہ اس ادارے کے فارغ التحصیل افسران، طلبہ اور کیڈٹس سے خاص محبت رکھتے تھے”۔

اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں انہوں نے شہداء کے خاندانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

"آج خداوند متعال نے ہمیں اس شہید امام کے بعد ایک ایسا رہبر عطا کیا ہے جو آپ کو سب سے زیادہ جانتا اور سمجھتا ہے۔ ہمارے موجودہ امام اور رہبر خود ایک شہید کے فرزند، ایک شہید کے شوہر، ایک شہید کے ماموں اور ایک مکمل خانوادۂ شہداء سے تعلق رکھنے والی شخصیت ہیں۔ اس کے ساتھ وہ ایک دانا رہبر اور ایک طاقتور سپہ سالار بھی ہیں”۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً