عوامی طاقت، ہر قسم کے مذاکرات کی حقیقی پشت پناہی ہے، جنرل اکبرزادہ
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، آئی آر جی سی کی بحریہ کے سیاسی معاون جنرل محمد اکبرزادہ نے صوبہ ہرمزگان کے ضلع رودان کے تابع علاقے رودخانہ میں رہبرِ شہیدِ انقلاب اور پانچ عظیم المرتبت شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جاری روایتی جنگ War of Narratives اور Cognitive Warfare کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:
دشمن کا میڈیا، آپریشنز اور غلط محاسبات کو فروغ دینے کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم و ارادے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن تجربے نے ثابت کیا ہے کہ یہ قوم ہر قسم کے دباؤ کے مقابلے میں ثابت قدم رہی ہے۔

جنرل اکبرزادہ نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
"دشمن اُس وقت پیچھے ہٹتا ہے جب وہ آپ کی طاقت کو دیکھتا ہے، نہ کہ ہمدردی یا خیرخواہی کی بنیاد پر۔"
آئی آر جی سی بحریہ کے سیاسی معاون نے War of Narratives and Cognitive Warfareکے مختلف پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کے دشمن ذرائع ابلاغ اور نفسیاتی جنگ کے مختلف ہتھیار استعمال کر کے ایرانی قوم کے فکری اور سیاسی محاسبات کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں لیکن انقلابِ اسلامی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایرانی عوام نے ہر نازک مرحلے پر مکمل بیداری کے ساتھ ہر دباؤ کا مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے "ابراہیمی امن" اور "گریٹ مڈل ایسٹ" جیسے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
اسلامی جمہوریہ ایران ان منصوبوں کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک رہا ہے اور یہی حقیقت امریکہ اور صیہونی حکومت کی ایران دشمنی کے تسلسل کا بنیادی سبب ہے۔
جنرل اکبرزادہ نے انقلابِ اسلامی کی تاریخ کے مختلف واقعات، بالخصوص خرمشہر کی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
ایرانی قوم نے ایمان اور مضبوط ارادے کے ذریعے ایسے دشمن کو شکست دی جو وسیع بین الاقوامی حمایت حاصل کیے ہوئے تھا اور آج اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں ایک مؤثر اور فیصلہ کُن طاقت بن چکا ہے۔
آئی آر جی سی کی بحریہ کے سیاسی معاون نے خطے کی حالیہ پیش رفت اور آئندہ مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی:
اسلامی جمہوریہ ایران اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کرتا ہے نہ کہ رعایتیں دینے کے لیے۔ اگر دشمن اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پابندی نہ کرے تو ایران ہرگز پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔
انہوں نے ان حالات میں ملک کے مختلف اداروں کے درمیان موجود ہم آہنگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
حکومت، عدلیہ، مسلح افواج اور عوام نے ولایتِ فقیہ کے پرچم تلے اعلیٰ ترین سطح کی ہم آہنگی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔
جنرل اکبرزادہ نے مزید کہا کہ انقلابِ اسلامی اس وقت "نئی پیدائش اور نئے مرحلے" کے دور سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے کہا:
فتوحات کے استحکام کے بعد اقتصادیات اور طرزِ حکمرانی کے شعبوں میں اہم اصلاحات کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔
