ایران کی میزائل طاقت کے بارے مذاکرات کیوں ممکن نہیں؟

موجودہ دنیا میں، جہاں جنگل کا قانون نافذ ہے اور طاقتور کمزوروں کو اپنے زور و جبر کا نشانہ بناتے ہیں، ایک سیاسی شخصیت نے کہا تھا کہ آنے والی دنیا، میزائلوں کی نہیں بلکہ گفتگو کی دنیا ہوگی!
خبر کا کوڈ: 6006
تاریخ اشاعت: 26 June 2026 - 20:26 - 17September 2647

تحریر: محمد زرچینی (دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ)

میزائل صلاحیت، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی طاقت کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران اس صلاحیت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے اس عرصے میں 12 روزہ اور 40 روزہ مسلط کردہ جنگوں کے دوران جارح امریکی-صیہونی دشمن کو کاری ضربیں پہنچائیں۔

میزائل

امریکہ گزشتہ کئی برسوں سے مختلف حربوں (بشمول مذاکرات یا فوجی دباؤ) کے ذریعے ایران کی میزائل صلاحیت کو ختم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے اسے صیہونی حکومت کی مکمل حمایت بھی حاصل رہی ہے۔

مثال کے طور پر، دہشت گرد امریکی فوج اور قابض صیہونی حکومت نے جنگِ رمضان کے دوران طاقت کے استعمال کے ذریعے ایران کی میزائل اور ڈرون بستیوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اگرچہ بعض میزائل شہر کے داخلی راستوں کو نقصان پہنچا لیکن خود میزائل شہر کسی بھی قسم کے نقصان سے محفوظ رہے۔ بعد ازاں، بعض ثالثوں کی جانب سے جنگ بندی کے وقفے کی تجویز پیش کی گئی، جسے اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ دونوں نے قبول کیا۔ اس کے بعد ایرانی مسلح افواج نے تیزی سے اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو بحال کر لیا۔ حتیٰ کہ بعض غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ایران نے اپنے 70 فیصد لانچرز اور میزائل کو اندر گراؤنڈ سے محفوظ حالت میں نکال کر دوبارہ ایکٹیو کر لیے ہیں اور اپنی میزائل قوت کو بحال کرنے میں کامیاب رہا۔

اس صورتحال نے امریکیوں کو یہ یقین دلا دیا کہ جنگ کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کی میزائل صلاحیت کو ختم کرنا ممکن نہیں، لہٰذا انہوں نے مذاکرات کے ذریعے اس طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے، جو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالث کے طور پر زیرِ بحث رہے، یہ خبر سامنے آئی تھی کہ تہران-واشنگٹن مذاکرات کے آئندہ دور میں جوہری مسئلے کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائلوں پر بھی بات چیت ہوگی۔

تاہم، اس بیان پر ایرانی حکام کی جانب سے فوری ردِعمل سامنے آیا اور اس کی تردید کر دی گئی۔ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ذمہ داران نے واضح کیا کہ میزائلوں کا موضوع سرے سے مذاکراتی ایجنڈے میں شامل نہیں ہے جبکہ شائع شدہ مفاہمتی یادداشت کا متن بھی واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ایسے کسی محور کو مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

بعض ملکی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق، پاکستان اس وقت ان مذاکرات میں کوئی نمایاں ثالثی کردار ادا نہیں کر رہا اور شہباز شریف کا بیان، زیادہ تر پاکستان کے ثالثی کردار کو نمایاں کرنے کی کوشش تھی جبکہ موجودہ حالات میں قطر اس سلسلے میں سب سے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔

تاہم، ممکنہ مذاکرات کے اصل موضوع کے حوالے سے، جس کے بارے میں ان دنوں ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں متضاد خبریں گردش کر رہی ہیں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ جوہری معاہدے (برجام) کے زمانے میں بھی میزائل مذاکرات کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آتے رہے لیکن عملی طور پر مذاکراتی میز پر ایسا کوئی موضوع زیرِ بحث نہیں تھا۔

البتہ ایک حقیقت ناقابلِ انکار ہے اور وہ امریکی ایک ٹریلین ڈالر لاگت کی جدید فوجی طاقت کے مقابلے میں ملکی مسلح افواج کے لیے میزائل طاقت کی اہمیت ہے۔ اگر میزائل اور ڈرون موجود نہ ہوتے تو یقیناً امریکی فوج کے ساتھ اس جنگ میں ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اور ہم 17 فوجی اڈوں میں موجود 200 سے زائد اہداف کو اتنے دقیق انداز میں نشانہ بنانے میں کامیاب نہ ہوتے۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ مسلح افواج کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی تناظر میں انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے میزائل اور ڈیفنس صلاحیت کے مسئلے کو قومی غیرت اور عزت کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ایران، عزت کے معاملات پر مذاکرات نہیں کرتا۔

 

انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر نے، بطور اُس وقت کے سپریم کمانڈر، مذاکراتی ٹیم اور امریکی فریق دونوں کو خبردار کیا تھا کہ "ہمارا کوئی میزائل برجام نہیں ہے" اور میزائل، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی دفاعی اور جنگی ضروریات کا لازمی جزو ہیں لہٰذا سب کو اس حقیقت پر توجہ دینی چاہیے۔

موجودہ دنیا میں، جہاں جنگل کا قانون رائج ہے اور طاقتور کمزوروں کو اپنے زور و جبر کا نشانہ بناتے ہیں، ایک سیاسی شخصیت نے چند سال قبل کہا تھا کہ آنے والی دنیا، میزائلوں کی نہیں بلکہ گفتگو کی دنیا ہوگی۔ شاید اگر وہ آج زندہ ہوتے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی جرات مندانہ جنگی کارروائیاں دیکھتے تو انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کے اس جواب کا مفہوم بہتر انداز میں سمجھ سکتے، جب انہوں نے فرمایا تھا:

"جو شخص یہ کہتا ہے کہ آج کی دنیا میزائلوں کی دنیا نہیں ہے، وہ یا تو نادان ہے یا پھر خائن۔"

لہٰذا اگر میزائل امور کے حوالے سے امریکی فریق کے ساتھ کوئی مذاکرات کیے جائیں تو اسے غداری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں ہمیں لیبیا جیسے تلخ انجام کا سامنا کرنا پڑے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً