ایرانی مسلح افواج ایک اور مرصاد کی تخلیق کے لیے تیار

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج ملک کے شمال مغربی علاقے میں ایک اور مرصاد آپریشن کی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
خبر کا کوڈ: 6152
تاریخ اشاعت: 12 August 2026 - 17:33 - 03November 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد، شاہی نظام سے اسلامی جمہوری نظام کی طرف سیاسی تبدیلی، نیز ابتدائی دور میں مسلح افواج میں مکمل استحکام اور ہم آہنگی کے فقدان نے بعض گروہوں کے لیے ایسا موقع پیدا کیا کہ وہ بیرونی حکومتوں کی حمایت پر انحصار کرتے ہوئے عبوری صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ ان گروہوں نے افراد کو منظم کر کے نئے قائم ہونے والے نظام کے خلاف بدامنی اور مقابلے کا راستہ اختیار کیا؛ جن میں ملک کے بعض کُرد آبادی والے علاقے بھی شامل تھے جو تیزی سے نظام مخالف سرگرمیوں کا مرکز بن گئے۔

کوملہ

ایران کے شمال مغربی علاقے کی جغرافیائی صورتحال نے مخالفین اور انقلاب مخالف عناصر کو قومی سلامتی کے خلاف اقدامات کے لیے مواقع فراہم کیے۔ اس وقت حالات ایسے تھے کہ ان عناصر نے بعض شہروں اور دیہاتوں پر قبضہ کر لیا تھا حتیٰ کہ علاقے کے بعض فوجی مراکز جیسے مہاباد میں فوجی چھاؤنی پر بھی قبضہ کیا یا سنندج کی فوجی چھاؤنی کو محاصرے میں لے لیا تھا۔

اس کے علاوہ انقلاب مخالف عناصر نے علاقے میں بعض عوام کی محدود معلومات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انقلابی طاقتوں کے خلاف نفرت انگیزی شروع کی؛ یہاں تک کہ انقلابی کارکنوں کو قتل کرنا اپنے لیے باعثِ فخر سمجھنے لگے۔ اسی وجہ سے انہوں نے ان متعدد افراد کو شہید کیا جو علاقے میں عوام کی خدمت اور مدد کے لیے آئے تھے جن میں اساتذہ، رضاکار، سپاہی اور فوجی اہلکار شامل تھے۔

ان کے جرائم نے اسلامی نظام کے عزم کو مزید مضبوط کیا کہ ایسے عناصر کا مقابلہ کیا جائے اور ان کے مراکز کو تباہ کیا جائے۔ چنانچہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور فوج نے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ انقلاب مخالف گروہوں، جن میں کوملہ اور ڈیموکریٹ شامل تھے، کے خلاف شہر شہر اور گاؤں گاؤں جنگ کی۔ مسلسل شکستوں کے بعد انقلاب مخالف عناصر مجبوراً 1981ء سے بعثی عراق کی طرف فرار ہو گئے جہاں صدام حکومت کی مدد سے انہوں نے خود کو دوبارہ منظم اور مضبوط کیا۔

عراق میں ان کی موجودگی اور صدام حکومت کی حمایت اس حد تک تھی کہ 1987ء میں عراقی فوج کی جانب سے حلبچہ پر کی جانے والی کیمیائی بمباری اور بڑی تعداد میں علاقے کے لوگوں کے قتل کے دوران بھی ان عناصر نے اس جرم کے خلاف کوئی احتجاج یا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس کے بعد، خصوصاً حالیہ برسوں میں، عراق میں موجود انقلاب مخالف عناصر جو ماضی میں صدام کے زیرِ سایہ کام کرتے رہے تھے، اب کسی نہ کسی شکل میں صیہونی حکومت اور امریکہ کے پیادوں میں تبدیل ہو گئے تا کہ ماضی کی طرح اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دے سکیں۔

اگرچہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ابتدائی دنوں میں ان کا مقصد ایران کے کُرد علاقوں کو الگ کر کے ایک خودمختار حکومت قائم کرنا تھا لیکن علاقے کے لوگوں اور ملک کی مسلح افواج سے متعدد شکستوں کے بعد انہوں نے حریت پسندانہ حکمت عملی کو موساد اور سی آئی اے کے ایجنڈے پر عمل کرنے تک محدود کر دیا۔ اسی لیے انہوں نے اپنے نئے آقاؤں کی طرح دہشت گردانہ کارروائیوں کا راستہ اختیار کیا اور سمجھ بیٹھے کہ اس طریقے سے وہ اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔

اسی سلسلے میں، امریکہ کے صدر نے اپریل ۲۰۲۶ کے آغاز میں فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا:

"امریکہ نے انقلاب مخالفین کے لیے بڑی تعداد میں ہتھیار بھیجے لیکن کُردوں نے یہ ہتھیار اپنے پاس رکھ لیے جو مایوس کُن بات تھی۔ میں کُردوں کے ساتھ پیش آنے والی اس صورتحال سے خوش نہیں ہوں اور ان کُردوں نے ہتھیار بھی واپس نہیں کیے۔"

امریکی صدر کا انقلاب مخالف عناصر کو ہتھیار بھیجنے کا اعتراف، ان گروہوں اور امریکی فوج کے درمیان تعاون کے وجود کی نشاندہی کرتا ہے۔ لہٰذا اسلامی انقلاب کے مخالفین اب امریکہ اور اسرائیل کے ایران مخالف جارحانہ منصوبے کا حصہ بن چکے ہیں؛ یہاں تک کہ امریکہ نے ان گروہوں کی مزید حمایت جاری رکھنے کے لیے اعلان کیا ہے کہ انہیں ایران کے خلاف زمینی حملہ کرنا چاہیے۔

لہٰذا حالیہ دنوں میں ایرانی مسلح افواج کی جانب سے شمالی عراق کے بعض علاقوں کو نشانہ بنانے کی ایک وجہ، ان علاقوں میں موجود انقلاب مخالف کُرد عناصر کے ممکنہ زمینی حملے کو روکنے کے لیے پیشگی کارروائی قرار دی جا سکتی ہے۔ تاہم، اگر زمینی حملے کی کوشش بھی کی جاتی ہے تو نہ صرف وہ کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ ایرانی مسلح افواج ایران کے شمال مغربی علاقے میں ایک اور مرصاد آپریشن رقم کریں گی۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں