امریکہ اور صیہونی حکومت کے جنگی جرائم کے مقدمات کی عدالتی پیروی؛ امریکہ کو نوٹس جاری کر کے پہلا باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا، جنرل شمخانی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے امریکہ اور صیہونی حکومت کے جرائم کی دستاویزی اور قانونی پیروی کے اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ۱۲ روزہ مسلط کردہ جنگ کے دوران دشمن کے جرائم کے حوالے سے متعدد مقدمات تیار کیے گئے ہیں اور لاکھوں افراد نے قانونی پیروی کے لیے وکالت نامے جمع کرائے ہیں۔
خبر کا کوڈ: 6190
تاریخ اشاعت: 24 August 2026 - 12:26 - 15November 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے قانونی اور پارلیمانی معاون جنرل سہراب علی شمخانی نے دفاع پریس کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: آج ان امور میں سے ایک جس پر توجہ دی جانی چاہیے، امریکی-صیہونی مجرموں اور ان کے حامیوں کے خلاف مقدمہ چلانے کا عوامی مطالبہ ہے۔

جنرل شمخانی

جنرل شمخانی نے مزید کہا: چونکہ ہم سپاہ سے متعلق قانونی اور عدالتی امور کی پیروی کر رہے ہیں اور ان اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں، اس دوران منعقد ہونے والے اجلاسوں میں ہم نے کئی شعبوں میں قابلِ ذکر اقدامات دیکھے ہیں۔

سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے ان اقدامات میں سے ایک کو امریکہ اور صیہونی حکومت کے رہنماؤں کے جرائم کی دستاویزات کی تیاری کو قرار دیتے ہوئے کہا: ۱۲ روزہ مسلط کردہ جنگ، جنگِ رمضان، رواں سال ماہ جنوری کی بغاوت اور ان کے ارتکاب کردہ دیگر مخصوص جرائم کے واقعات کے دستاویزات کی تیاری جاری ہے۔

انہوں نے قائد شہیدِ امت کے قتل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس اقدام کو رونما ہونے والے اہم ترین جرائم میں سے ایک قرار دیا اور کہا: وہ صرف ایران اور اسلامی انقلاب کے عزیز و محترم رہنما ہی نہیں تھے بلکہ ایک دانشور حکیم تھے جن کی الٰہی اور انسانی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو مجھ جیسے افراد مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہیں اور ان کی شخصیت کے ہر پہلو کے لیے ماہرین کی جانب سے ان کے آثار اور طرزِ عمل کی بنیاد پر تحقیق اور مطالعے کی ضرورت ہے۔

جنرل شمخانی نے مزید کہا: انقلاب کے شہید رہنما نہ صرف ایک دینی، مکتب سے منسلک اور سیاسی شخصیت تھے بلکہ ایک عالمی آزاد مرد اور رسولِ گرامی اسلام (ص) اور ائمہ اطہار (ع) کی جلوہ گری کا مظہر بھی سمجھے جاتے تھے۔ اگر حضرت امام خمینی (رہ) اور امام شہید خامنہ ای جیسی شخصیات ہمارے درمیان موجود نہ ہوتیں تو مختلف کتابوں اور منابع میں ائمہ اور رسولِ گرامی اسلام (ص) کی معرفت کے حوالے سے جو کچھ بیان کیا گیا ہے، وہ ہمارے لیے اس حد تک قابلِ تصور اور قابلِ تجسیم نہ ہوتا۔

سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے کہا: اس شخصیت کو عوام سے چھین لیا گیا۔ اسلامی انقلاب کے شہید رہنما کا قتل ایک بڑا جرم تھا جو ایرانی عوام، مسلمانوں، دنیا بھر میں ان سے محبت کرنے والوں اور ان آزاد لوگوں کے خلاف کیا گیا جو ان سے عقیدت کا اظہار کرتے تھے۔

انہوں نے ملک کے اندر اس عقیدت کے مظاہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم نے ملک کے اندر ان مظاہر کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ دیکھا اور اگر ان کا جسدِ خاکی مختلف ممالک حتیٰ کہ اسلامی اور مغربی ممالک منتقل کیا جاتا تو دنیا دیکھتی کہ ان کا کس طرح استقبال کیا جاتا ہے۔

جنرل شمخانی نے مزید کہا: مختلف مقدمات کی صورت میں ان جرائم کی تفتیش جاری ہے۔ مرکزی مقدمے کے علاوہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے ارتکاب کردہ جرائم کے حوالے سے مخصوص مقدمات بھی موجود ہیں؛ جن میں میناب سکول پر حملہ، رہائشی اور سروسز بیسڈ مراکز کی تباہی اور ہسپتالوں پر حملے شامل ہیں جن میں سے ہر ایک بین الاقوامی قوانین اور ملکی قوانین کے تحت جرم اور بعض صورتوں میں جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔

سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے کہا: ہمیں امید ہے کہ معزز عدلیہ کے ذمہ داران جو اس سلسلے میں کوششیں کر رہے ہیں، نیز حکومت اپنے بین الاقوامی امور کے شعبے میں اس معاملے پر توجہ دے گی۔

انہوں نے ان مقدمات کے عوامی پہلوؤں کے بارے میں کہا: ان میں سے ایک معاملہ خود ۱۲ روزہ مسلط کردہ جنگ اور وہ جرائم ہیں جو صیہونی حکومت نے امریکہ کی براہِ راست حمایت اور مداخلت سے انجام دیے؛ جن میں جوہری تنصیبات پر حملہ بھی شامل ہے جو ایک جنگی جرم بھی تصور کیا جاتا ہے۔

جنرل شمخانی نے مزید کہا: اس معاملے کے حوالے سے متعلقہ عدالتوں میں دعویٰ دائر کیا گیا ہے اور جہاں تک ہمیں اطلاع ہے، کئی لاکھ افراد نے درخواست دی ہے کہ اس جرم کی تحقیقات کی جائیں اور امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے پہنچائے گئے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے مزید کہا: دوسرا معاملہ ماہ جنوری کی بغاوت کا ہے جس کا دہشت گردوں اور صیہونیوں نے کھلے عام اعتراف کیا ہے۔ متعدد جاسوس ملک میں داخل ہوئے اور انہوں نے کچھ لوگوں کو گمراہ کیا اور دھوکے کا شکار کیا اور جرائم، تخریب کاری اور فوجی اور سروسز سینٹرز پر حملوں کا ارتکاب کیا۔

انہوں نے مزید کہا: ان کارروائیوں میں بسز، میٹرو، ایمبولینسز اور بعض دکانداروں پر حملے کیے گئے اور انہیں نقصان پہنچایا گیا۔ اس شعبے میں بھی کئی لاکھ افراد نے نقصانات کی قانونی پیروی کے لیے وکالت نامے جمع کرائے ہیں۔

جنرل شمخانی نے جنگِ رمضان اور ایک دوسری جنگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جو اب بھی جاری ہے، کہا: امریکہ کا جرم ایسی صورت حال میں انجام پایا جب امریکی مذاکرات میں مصروف تھے اور درحقیقت انہوں نے مذاکرات کو ایک فریب کے طور پر استعمال کیا تھا۔ ۱۲ روزہ مسلط کردہ جنگ کے بعد بھی انہوں نے مزید جرائم کا ارتکاب کیا۔

سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے کہا: امریکیوں نے پوری طاقت کے ساتھ جنگ کے میدان میں قدم رکھا اور اسلامی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو جو گزشتہ برسوں کے دوران سیکیورٹی کے قیام کے عنوان سے قائم کیے گئے تھے، ایران پر حملے کے لیے استعمال کیا جس کے نتیجے میں بہت زیادہ نقصانات ہوئے۔

انہوں نے ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں امریکی صدر کے بیانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: خود ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایران کو تین ٹریلین ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ یہ اندازہ درست ہے یا غلط، یہ الگ بحث ہے لیکن یہ ان کا اپنا تخمینہ ہے اور سوال یہ ہے کہ یہ نقصانات کس جرم، کس عنوان اور کس اجازت کے تحت پہنچائے گئے ہیں؟

جنرل شمخانی نے مزید کہا: انہوں نے سینکڑوں سکولوں کو نشانہ بنایا، یونیورسٹیز، تحقیقی مراکز، پُرامن جوہری مراکز، سروسز اور طبی مراکز پر حملے کیے اور بڑی تعداد میں عام شہریوں اور ہمارے کمانڈرز کو شہید کیا۔

سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے تأکید کی: ہم دفاع کی پوزیشن میں تھے اور ہم نے امریکہ اور اس کے مفادات کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔ امریکی اس وقت مکمل فریب اور بے شرمی کے ساتھ حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور بغاوت برپا کرنے کے لیے ماحول تیار کر رہے تھے جبکہ دوسری جانب ہمارے ساتھ مذاکرات بھی کر رہے تھے اور معاہدے کے آخری دور کے لیے ملاقاتیں طے کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا: ان حملوں میں بجلی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے، سڑکیں، پل، سروسز سینٹرز، ہسپتال، سکول، یونیورسٹیز اور رہائشی علاقے نشانہ بنے جبکہ ہمارے فوجی مراکز پر بھی حملے کیے گئے۔

سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے کہا: چونکہ ہم دفاع کی پوزیشن میں تھے، اس لیے فوجی شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ازالہ ہونا چاہیے کیونکہ اگر امریکہ نے ہم پر حملہ نہ کیا ہوتا اور یہ جرائم نہ کیے ہوتے تو ہمارے فوجی کمانڈرز کو نقصان نہ پہنچتا۔

جنرل شمخانی نے ملک کی دفاعی صلاحیت کے بارے میں کہا: ہم نے اپنے پاس موجود ہتھیاروں کا صرف ایک بہت چھوٹا حصہ استعمال کیا ہے اور الحمدللہ، پیداوار کی لائن بھی مسلسل جاری رہی ہے اور جاری ہے۔ ہمارے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر بھی رہبر معظم اور امام شہید کی حکیمانہ اور الٰہی سوچ اور منصوبہ بندی کی بنیاد پر امریکہ اور اس کے حواریوں کے ساتھ طویل جدوجہد اور جنگ کے لیے پہلے سے تیار کیے گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا: نظام میں اس حکمتِ عملی کے لیے ہر چیز پہلے سے پیش نظر رکھی گئی ہے؛ اس طرح کہ اگر ہم کئی سال تک بھی یہ جدوجہد جاری رکھنا چاہیں تو الحمدللہ ذخائر موجود ہیں، پیداوار بھی جاری ہے اور جہاں ذخیرہ اندوزی کی ضرورت ہے، بشمول سائلوز اور متعلقہ مراکز، وہاں سہولیات دستیاب ہیں۔ ان ذخائر میں سے بہت سے اب تک استعمال بھی نہیں کیے گئے۔

سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے تاکید کی: اگر امریکہ کے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے تو یقیناً جواب اور مقابلہ بھی اسی قدر وسیع ہوگا۔ امریکہ کو ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ سہولیات اور ساز و سامان عوام کے پیسے سے عوام کے دفاع کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور امریکہ کو اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قوانین، اخلاقی و انسانی اصولوں اور حتیٰ کہ اپنے ملکی قوانین کی خلاف ورزی اور جرائم کے ارتکاب کے باعث ان نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا۔

جنرل شمخانی نے کہا: یہ بھی ان مقدمات میں سے ایک ہے جس میں لاکھوں افراد نے اپنے حقوق کی پیروی کے لیے وکالت نامے جمع کرائے ہیں اور ملک بھر سے دعوے دائر کیے گئے ہیں۔ انقلابی وکلاء بھی ان مقدمات کی نظارت کر رہے ہیں تا کہ انہیں ملکی عدالت میں درج کیا جائے اور امریکہ کے نقصانات کا فیصلہ اور تخمینہ سامنے آئے۔

انہوں نے مزید کہا: ہمارے موجودہ قوانین اور امریکہ کے خلاف یک طرفہ دعوؤں کی سماعت سے متعلق قوانین کے مطابق، ان‌شاءاللہ فیصلہ اخذ کیا جائے گا اور امریکہ کو یہ نقصانات ادا کرنا ہوں گے۔

سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے شہدا کے خاندانوں کے مقدمات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمارے عزیز شہدا کے خاندانوں کے مقدمات، خواہ وہ عوامی شہدا ہوں یا فوج، سپاہ اور بسیج کے دفاعی شعبے کے شہدا، بھی اپنی جگہ زیرِ نظارت ہیں اور یہ مقدمات دیگر امور سے الگ نہیں ہیں۔

جنث شمخانی نے مزید کہا: تاہم عوامی شعبے میں مقدمات مرحلہ وار چلائے جائیں گے اور پہلا مقدمہ جس کے حوالے سے امریکہ کو باضابطہ طور پر نوٹس جاری کیا گیا ہے، واشنگٹن میں ایران کے مفادات کے نگران یعنی پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: عدالت تہران میں منعقد ہوگی اور عدلیہ کے دوستوں کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق، اس معاملے کی اطلاع امریکہ کو دے دی گئی ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق ۲۲۶ مقدمات کے حوالے سے امریکہ کو باضابطہ نوٹس دیا جا چکا ہے اور ان‌شاءاللہ عدالت منعقد ہوگی۔

سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے کہا: اس عدالت میں ۱۲ روزہ مسلط کردہ جنگ کے دوران امریکہ کے جرائم سے متعلق دستاویزات اور شواہد پیش کیے جائیں گے اور اس کے بعد مزید عدالتیں بھی منعقد ہوں گی۔

جنرل شمخانی نے مزید کہا: عدلیہ کے دوستوں کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق، ان مقدمات کے نتیجے کی ایک بڑی تعداد میں فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے جن میں ہمارے عزیزوں کی شہادت، میناب کے شہدا اور دیگر جرائم سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔

انہوں نے ان اقدامات کے فوجداری پہلو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: چونکہ یہ اقدامات جنگی جرم تصور ہوتے ہیں اور امریکہ نے ان کا ارتکاب کیا ہے، اس لیے فوجداری پہلو سے بھی ان مقدمات کی عدالت میں سماعت کی جائے گی۔

سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے اس معاملے کو ایک پہلو سے امام شہید کے فرامین اور وصیتوں نیز رہبر معظم حضرت آیت‌الله امام سیدمجتبیٰ خامنہ ای کے مطالبے کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا: ان جرائم کی سماعت عوام کا مطالبہ بھی ہے اور موجودہ ولی امر اور امام شہید کے فرمان پر عمل درآمد بھی ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ معاملہ نتیجے تک پہنچے گا۔

اس کے بعد انہوں نے پارلیمنٹ میں بین الاقوامی سزاؤں کے قانون اور اس سلسلے میں سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی کوآرڈینیشن کے اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بین الاقوامی جرائم کی سماعت سے متعلق قانون اور اس کے موجودہ

مرحلے کے بارے میں کہا: ان قوانین کا مطالبہ کرنے والے اداروں میں سے ایک جو عوام کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے کی سماعت کے دائرۂ اختیار سے متعلق ہیں، سپاہ ہے۔

جنرل شمخانی نے یاد دلایا: موجودہ قوانین میں ان میں سے بعض معاملات کی سماعت کا امکان موجود ہے؛ تاہم بین الاقوامی قوانین کے مطابق کچھ نقائص اور کمزوریاں موجود تھیں۔ عدلیہ کے عزیزوں نے اس معاملے کا مسودہ تیار کیا اور یہ عمل بھی طویل المدت رہا ہے۔

سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے کہا: جہاں تک مجھے اطلاع ہے، اس بل کا ایک حصہ منظور ہو چکا ہے اور ان‌شاءاللہ اس کی منظوری کے مراحل مکمل ہو جائیں گے۔

جنرل شمخانی

انہوں نے اس بل کے مندرجات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: یہ بل جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم، دونوں شعبوں کا احاطہ کرتا ہے؛ لہٰذا اگر صیہونی حکومت یا کوئی بھی ملک ان جرائم کا ارتکاب کرے تو اس کے خلاف عدالتی کارروائی ممکن ہوگی۔

جنرل شمخانی نے مزید کہا: اس کے علاوہ ان جرائم کی سماعت کے لیے ملک کے دائرۂ اختیار میں بھی توسیع ہوگی اور ماضی کے مقابلے میں ان مقدمات کی سماعت کے لیے ہمارے اختیارات مزید وسیع ہوں گے۔

سپاہ کے قانونی اور پارلیمانی معاون نے مزید کہا: ہماری تجویز یہ بھی تھی کہ اس معاملے کو «عطف بہ ماسبق» یعنی گزشتہ واقعات پر بھی لاگو کیا جائے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی میں، حتیٰ کہ انقلاب سے کئی سال قبل، امریکیوں اور دیگر افراد کی جانب سے ملک میں کیے گئے جرائم کی بھی اس قانون کے تحت سماعت کی جا سکے۔

انہوں نے کہا: الحمدللہ، پارلیمنٹ کے معزز نمائندوں نے بھی اس معاملے پر توجہ دی ہے اور اس کا ایک حصہ منظور ہو چکا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق یہ بل حتمی شکل اختیار کرنے کے مرحلے میں ہے اور ان‌شاءاللہ ان عدالتوں میں، جو منعقد ہونے والی ہیں، اس قانون کو استعمال کیا جا سکے گا اور یہ ماضی کے معاملات کا بھی احاطہ کرے گا۔

جنرل شمخانی نے آخر میں ان واقعات کے شہدا کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: ہمارے عزیز شہدا مختلف طبقات سے تعلق رکھتے تھے؛ بچوں، کھلاڑیوں اور معاشرے کے تمام طبقات کے افراد شہدا میں شامل تھے۔ میں ان سب کے لیے رحمتِ الٰہی اور عوام اور ملک کے لیے سلامتی اور کامیابی کی دعا کرتا ہوں کیونکہ اسلام کی فتح اللہ کا وعدہ ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں