حالیہ مسلط کردہ جنگوں میں دشمن اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل نہیں کر سکا، جنرل طلائی نیک

وزارتِ دفاع کے ترجمان نے 8 سالہ جنگ اور حالیہ مسلط کردہ جنگوں کے درمیان نمایاں فرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگرچہ دشمن ان جنگوں میں نئے اہداف اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ میدان میں اترا لیکن وہ اپنے کسی بھی اسٹریٹجک ہدف میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
خبر کا کوڈ: 6281
تاریخ اشاعت: 26 September 2026 - 20:48 - 17December 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے ترجمان جنرل رضا طلائی نیک نے صوبہ البرز کے علماء اور سیاسی رہنماؤں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بانی انقلاب امام خمینیؒ، 8 سالہ دفاعِ مقدس کے شہداء اور 12 روزہ دفاعِ مقدس کے شہداء کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا: آج پہلی مسلط کردہ جنگ کے آغاز کی سالگرہ ہے اور اس جنگ کا دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں سے موازنہ نئی نسل کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دشمن کے طریقۂ کار، اہداف اور مقابلے کے انداز میں موجود فرق کو واضح کر سکتا ہے۔

جنرل طلائی نیک

انہوں نے تینوں مسلط کردہ جنگوں میں دشمن کے مشترکہ اہداف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: تینوں ادوار میں دشمن کا ایک اہم ہدف اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کا تختہ الٹنا تھا۔ دوسرا ہدف ایران کی تقسیم تھا۔ اگرچہ مختلف ادوار میں دشمن کے ٹارگٹ بنائے جانے والے جغرافیائی علاقوں میں فرق تھا لیکن تینوں جنگوں میں ان کا بنیادی ہدف برقرار رہا۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان نے اسلامی انقلاب کو محدود کرنا دشمن کے دیگر مشترکہ اہداف میں شمار کرتے ہوئے کہا: اسلامی انقلاب کے آغاز ہی سے دشمنوں کو اس انقلاب کی دوسری قوموں میں تحریک ایجاد کرنے والی طاقت اور خطے میں ایک آزاد اور خودمختار ماڈل کے قیام سے خطرہ محسوس ہوتا تھا اور حالیہ جنگوں میں بھی انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران اور محاذِ مزاحمت کی علاقائی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔

جنرل طلائی نیک نے مزید کہا: جغرافیائی سیاسی اہداف اور خطے میں ایران کی اسٹریٹجک پوزیشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش بالخصوص توانائی، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی اہمیت کے پیش نظر، ان جنگوں کے دیگر مشترکہ محور بھی رہے ہیں۔

انہوں نے حالیہ جنگوں کے اہداف اور 8 سالہ مسلط کردہ جنگ کے درمیان فرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں میں گزشتہ اہداف کے ساتھ کچھ نئے اہداف بھی شامل کیے گئے جن میں اسلامی جمہوریہ ایران کی پُر امن جوہری صلاحیت، میزائل طاقت، علاقائی طاقت اور بحری صلاحیت کو کمزور کرنا شامل تھا۔

جنرل طلائی نیک نے کہا کہ دشمن اپنے کسی بھی اسٹریٹجک ہدف میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اگرچہ جنگ نے ملک کے لیے اخراجات اور نقصانات پیدا کیے لیکن دشمن اپنے بنیادی اور اسٹریٹجک اہداف حاصل نہیں کر سکا اور اس کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی دشمن پر اخراجات مسلط کیے۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان نے 8 سالہ جنگ میں دشمن کو حاصل بیرونی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پہلی مسلط کردہ جنگ میں بعثی عراق کو خطے کے ممالک، مغرب اور مشرق کی وسیع حمایت حاصل تھی اور بعض اندازوں کے مطابق درجنوں ممالک نے براہِ راست یا بالواسطہ بعثی حکومت کی حمایت کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا: حالیہ جنگوں میں دشمن کی حمایت کی نوعیت اور وسعت تبدیل ہو گئی ہے۔ اس طرح کہ دو بڑے دشمنوں کی براہِ راست موجودگی کے علاوہ بعض علاقائی اور مغربی ممالک کی سرزمین اور سہولیات بھی ان کے اختیار میں دی گئیں۔

جنرل طلائی نیک نے دونوں ادوار میں دشمن کے اندازوں کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: 8 سالہ مسلط کردہ جنگ کے آغاز میں دشمن نے اسلامی جمہوریہ کے نوزائیدہ سیاسی نظام کی کمزوری، اندرون ملک اختلافات، مسلح افواج کی غیر مناسب صورتحال اور ملک کے فوجی انحصار پر توجہ مرکوز کی تھی اور اسے یقین تھا کہ ایران مختصر مدت میں شکست کھا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا: حالیہ جنگوں میں بھی دشمن نے عوام اور حکومتی نظام کے درمیان خلیج، بعض اقتصادی اور سماجی عدم اطمینان، اندرون ملک کمزوریوں اور ادراکی جنگ کے اثرات پر توجہ مرکوز کی لیکن اپنے اندازوں میں ایمان، ولایت و قیادت، مسلح افواج کے جہادی جذبے اور عوامی مزاحمت کے کردار کو درست طور پر شامل نہیں کیا۔

حالیہ جنگ؛ ٹیکنالوجی اور ماہرین کی جنگ تھی

وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران جنگ کا انداز بھی تبدیل ہوا ہے۔ 8 سالہ جنگ زیادہ تر بری اور روایتی نوعیت کی تھی اور انسانی طاقت اور سپاہی، میدان کے بنیادی محور تھے لیکن حالیہ جنگوں میں ٹیکنالوجی اور پروفیشنلزن نے فیصلہ کُن کردار ادا کیا۔

جنرل طلائی نیک نے مزید کہا: حالیہ جنگیں ٹیکنالوجی کی جنگ، ماہرین کی جنگ اور ہائبرڈ جنگیں تھیں۔ اس طرح کہ فوجی میدان کے علاوہ سماجی، معاشی، میڈیا اور ادراکی شعبے بھی مقابلے کے بنیادی میدان بن گئے۔

انہوں نے حالیہ جنگوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی مقدار اور نوعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حالیہ جنگوں میں فائر پاور کی شدت، آپریشن کی رفتار، جنگ کے جغرافیائی دائرے، ہتھیاروں کی نوعیت اور نئی ٹیکنالوجیز کا استعمال 8 سالہ جنگ کے ساتھ قابلِ موازنہ نہیں ہے۔

جنرل طلائی نیک نے واضح کیا: حالیہ جنگوں میں دشمن نے فوجی دباؤ کے ساتھ بیک وقت معاشی دباؤ اور ادراکی جنگ بھی ایکٹیویٹ کرنے کی کوشش کی اور عدم اطمینان پیدا کر کے اور ملک کے انتظام میں خلل ڈال کر معاشرے کو اندر سے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان نے ملک کی دفاعی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مسلح افواج کی بعض اسٹریٹجک صلاحیتیں گزشتہ برسوں کے دوران محفوظ مقامات اور انڈر گراؤنڈ بنیادی ڈھانچے میں تعینات کی گئی ہیں اور اسی وجہ سے دشمن کے اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صلاحیت اور ہتھیاروں کی پیداواری استعداد سے متعلق بعض اندازے درست ثابت نہیں ہو سکے۔

جنرل طلائی نیک نے دفاعی طاقت اور ملک کی اندرونی صلاحیت کو بیک وقت مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنی ڈیٹرنس برقرار رکھنے کے لیے مختلف شعبوں میں ثابت قدمی بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا: فوجی طاقت اس وقت زیادہ مؤثر ہوگی جب اس کے ساتھ معیشت، بنیادی ڈھانچہ، توانائی، ثقافت، میڈیا اور سماجی سرمایہ بھی مناسب استقامت کے حامل ہوں۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان نے اس شعبے میں علماء اور سیاسی رہنماؤں کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج میدان کی حقیقتوں کو واضح کرنا، معاشرے میں آگاہی بڑھانا، امید کو مضبوط کرنا، کامیابیوں کی وضاحت کرنا اور ساتھ ہی کمزوریوں کی درست شناخت کرنا ملک کے ثقافتی، تبلیغی اور میڈیا اداروں کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

جنرل طلائی نیک نے زور دیا: مسلط کردہ جنگوں کے تجربے نے ظاہر کیا ہے کہ دشمن اس وقت اپنے اندازوں میں غلطی کرتا ہے جب وہ ایمان، قیادت، قومی اتحاد، علمی صلاحیت اور عوامی مزاحمت کی طاقت کو نظرانداز کرتا ہے۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان نے 8 سالہ جنگ اور حالیہ مسلط کردہ جنگوں کے درمیان نمایاں فرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگرچہ دشمن ان جنگوں میں نئے اہداف اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ میدان میں اترا لیکن وہ اپنے کسی بھی اسٹریٹجک ہدف میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اسلامی جمہوریہ ایران نے ایمان، مقامی دفاعی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کی استعداد پر انحصار کرتے ہوئے اس آزمائش سے بھی سرخرو ہو کر کامیابی حاصل کی۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں