جنرل بلالی: اسلحہ سازی کے لیے سپلائی چین برقرار ہے
دفاع پریس کے دفاعی و سیکیورٹی گروپ کے مطابق، سپاہ کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر کے مشیر جنرل علی بلالی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میزائلوں کی تیاری کے لیے درکار تمام ساز و سامان ملک کے اندر تیار کیا جاتا ہے اور اسے برآمد بھی کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنے تجربات کا استعمال کرتے ہوئے ہم نے ائیر ڈیفنس، ڈرونز کی تیاری اور خلائی شعبے میں بھی اپنی ترقی کے لیے سرگرمیاں انجام دی ہیں۔
سپاہ کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر کے اعلیٰ مشیر کے مطابق، امریکہ نے ایران کے شاہد 136 ڈرون کی نقل تیار کی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اپنے تمام تھنک ٹینکس اور تحقیقی مراکز کے باوجود اس نوعیت کا ڈرون تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
جنرل بلالی نے میزائل تیار کرنے کے شعبے میں عالمی جدید ٹیکنالوجی کی صفِ اول میں پیش رفت کرنے کی ایرانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کی کہ ایران کی تمام مسلح افواج اپنے فرائض کی انجام دہی میں نہایت باریک بینی سے کام لیتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کی سرگرمیوں کے نتائج سامنے آ جائیں گے۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جنہیں پہلے سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔
سپاہ کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر کے اعلیٰ مشیر نے اسلحے اور میزائلوں کی تیاری کے لیے سپلائی چین برقرار ہونے کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بلاوقفہ کام کر رہے ہیں۔ سپلائی چین سے متعلق تمام اجزاء کے درمیان تسلسل موجود ہے اور ہمیں اپنی تمام ضروریات کے شعبوں میں کوئی تشویش لاحق نہیں ہے۔
جنرل بلالی نے مزید کہا کہ امریکیوں کی جانب سے اینٹی میزائل انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر کی فراہمی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن ہماری صورتِ حال ایسی نہیں ہے۔ ہم ضرورت پڑنے تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
