آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال سے ایران کے ٹارگٹس مزید درست ہو گئے، حجۃ الاسلام والمسلمین حسین طائب
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین حسین طائب نے جمعرات، ۲۳ مہر کو کرمان میں "حاج قاسم کے ٹیکنالوجی کے ماہر نوجوان" کے عنوان سے منعقدہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکورٹی کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: شہید حاج قاسم سلیمانی کا نام اس ولایت پسند اور انقلابی صوبے کے افق پر ایک روشن سورج کی مانند چمک رہا ہے۔

انہوں نے کہا: حاج قاسم اگرچہ اسی عظیم اور قابلِ فخر صوبے میں پیدا ہوئے لیکن ان کی تربیت حضرت روح اللہ کے مکتب میں ہوئی۔ وہ امامِ راحل اور شہید رہبر کے مخلص سپاہی تھے۔ اگر وہ ایک قومی شخصیت بنے تو اس کی وجہ اپنے ولی کے سامنے ان کی عاجزی اور اخلاص تھا۔
طائب نے مزید کہا: آج ہم اس نسل کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور وہ مستقبل میں ایران کا ایک مضبوط مقام بنانا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی ممالک کی طاقت کا ایک اہم حصہ تشکیل دیتے ہیں۔ اسی لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکیورٹی کا یہ پروگرام جسے "حاج قاسم کے نوجوانوں" کے نام سے مزین کیا گیا ہے، خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
انہوں نے "حاج قاسم کے ٹیکنالوجی کے ماہر نوجوانوں" کے اجلاس کے انعقاد میں شریک افراد کی قدردانی کرتے ہوئے کہا: اگر آج ہم اس اقدام کی نمائش کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں تو یہ نوجوانوں کی کئی سالہ محنت اور ان تمام عزیزوں کی معاونت کا نتیجہ ہے جن کی کوششوں سے ایسا پروگرام وجود میں آیا۔
بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے سربراہ نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکیورٹی کے اجلاس کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اگر ہم دشمن کے منصوبے اور ۱۲ روزہ جنگ اور جنگِ رمضان میں اس کے منصوبے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی منصوبہ بندی یہ تھی کہ پہلے مرحلے میں ہم داخل ہوں گے اور ملک کے ائیر ڈیفنس نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ کمانڈرز اور سائنس دانوں کو بھی نشانہ بنائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: کمانڈرز اور سائنس دانوں کو بیک وقت نشانہ بنانے کا مقصد یہ تھا کہ جو ملک اور قوم اپنی خود مختاری کا اعلان کرنا اور ترقی کی بلند ترین منزل تک پہنچنا چاہتی ہے، پہلے اس کی دفاعی اور سیکیورٹی دیوار کو کمزور کیا جائے اور اس کی سائنسی بنیاد کو تباہ کر دیا جائے کیونکہ یہی بنیاد، ترقی کا سبب بنتی ہے۔
طائب نے کہا: صیہونیوں نے ۱۲ روزہ جنگ کے دوران کہا تھا کہ ہم بمباری کریں گے، سائنس دانوں کو نشانہ بنائیں گے اور جوہری سائنسدانوں کو ختم کر دیں گے تا کہ ایران میں کئی سال تک جوہری سائنس موجود ہی نہ رہے۔
دشمن کی ایک خفیہ دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم سائنس دانوں کو ختم بھی کر دیں تو ہم ایران میں اس سائنس کو ختم نہیں کر سکے اور نہ ہی کر سکیں گے۔ اسی لیے ۴۰ روزہ جنگ میں انہوں نے دیگر سائنسز کو بھی نشانہ بنایا جس کی مثال شہید عرب نژاد اور دوسرے سائنس دان ہیں۔
طائب نے کہا: دشمن کا مقصد دفاعی دیوار کو توڑنا، امن و امان کو درہم برہم کرنا اور ملک کی ترقی کی بنیاد یعنی اس کے سائنس دانوں کو ختم کرنا ہے لیکن جس طرح ملک بھر میں "جان فدایان" کی فوجی مشق دفاعی اور سیکیورٹی میدان میں مسلسل موجودگی کی علامت تھی، اسی طرح "حاج قاسم کے ٹیکنالوجی کے ماہر نوجوانوں" کے عنوان سے اس پروگرام کا انعقاد بھی دشمن کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر تم ہمارے ایک سائنس دان کو نشانہ بناؤ گے تو اس کی جگہ پانچ ہزار افراد تیار ہو جائیں گے۔
بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے سربراہ نے کہا: یہ قوم ڈٹ کر کھڑی ہے۔ جس طرح دفاعی میدان میں ہمارے ایک کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا تو کئی دوسرے کمانڈر اس کی جگہ لینے کے لیے تیار ہو گئے، اسی طرح اگر ہمارے کسی جنگجو کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو لاکھوں جنگجو سڑکوں پر نکل کر کہتے ہیں کہ ہم تیار ہیں اور اپنی جان قربان کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ سائنس اور ترقی کے میدان میں بھی "حاج قاسم کے ٹیکنالوجی کے ماہر نوجوانوں" کا اجلاس اسی جذبۂ جانثاری کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا: اگر آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور اس میں سرمایہ کاری عالمی طاقتوں کے درمیان مسابقت کا سبب بن چکی ہے اور اسے برتر طاقت کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے تو ہمارا دشمن دیکھے گا کہ یہ قوم اس میدان میں بھی قیادت کرے گی اور اپنی طاقت کے ایک اہم پیمانے کا مظاہرہ کرے گی۔
طائب نے مزید کہا: جس طرح ہم نے ابتدا میں بہت کم وسائل سے کام شروع کیا اور اس مقام تک پہنچے کہ اب ہمارے پاس جوہری توانائی کی تنظیم موجود ہے، سائنس دان، لیبارٹریز اور طب سمیت مختلف شعبوں میں متعدد مصنوعات ہیں۔ اسی طرح اللہ کے فضل، ہمارے نوجوانوں کی کوششوں اور حکّام کی معاونت سے آپ دیکھیں گے کہ ملک میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا ایک طاقت ور ادارہ قائم ہوگا۔
بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے سربراہ نے کہا: اگر ہم ایک مضبوط ایران اور اس سے بھی زیادہ طاقت ور مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں قوم کے مسئلے کو سمجھنے، علم پیدا کرنے، اپنے راستے کو برقرار رکھنے اور اپنی خود مختاری اور طاقت کے تحفظ کی صلاحیت کو اہمیت دینا ہوگی۔
حجۃ الاسلام طائب نے کہا: ہمیں ملک کی معاشی طاقت میں اضافہ کرنا، سیکیورٹی کو زیادہ پائیدار بنانا، حکمرانی کو زیادہ مؤثر بنانا اور عوام کی زندگی کو بہتر بنانا ہوگا جبکہ ایرانی اقدار اور جدید اسلامی تہذیب کو بھی محفوظ رکھنا ہوگا۔ یہ سب اسلامی انقلاب کے دوسرے مرحلے میں ہونا چاہیے جو ہمیں ہمارے شہید رہبر سے ورثے میں ملا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: دنیا بھر میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ سائنس دان تربیت کرتے ہیں، علم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ساتھ ہی آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر بھی کام ہو رہا ہے لیکن ہمارے اور ان کے درمیان فرق یہ ہے کہ ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو خالق سے جوڑنے کی بات کرتے ہیں۔
طائب نے کہا: جب امریکیوں نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تو ان کے پاس ایک ٹریلین اور ۴۰ ملین ڈالر کا فوجی بجٹ تھا جبکہ وہ مزید ۱۱۵ ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی منظوری کے لیے کانگریس میں بھی گئے۔ اسرائیلیوں نے بھی اپنے بجٹ کے علاوہ ایران کے خلاف جنگ کے لیے امریکہ سے ۲۲ ارب ڈالر کی امداد حاصل کی۔ اس کے برعکس ایران کا دفاعی بجٹ زرِ مبادلہ کے لحاظ سے ایک ہندسے پر مشتمل ہے لیکن اس کے باوجود ایران ایک ٹریلین ڈالر کی طاقت کے سامنے ڈٹا رہا اور اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ ہمیں سائنس کے میدان میں بھی اسی طرح آگے بڑھنا چاہیے۔
بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے سربراہ نے کہا: آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکیورٹی کے میدان میں داخل ہونا ایران کے مستقبل کے حوالے سے ایک ٹیکٹیکل فیصلہ ہے جسے حکومتی ذمہ داران اور اس شعبے کے ممتاز ماہرین کے عملی منصوبے میں تبدیل ہونا چاہیے۔
انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں تبدیلی کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہم نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر الگ الگ اور منتشر انداز میں کام کیا ہے۔ اب ان تمام کوششوں کو باہم مربوط کرتے ہوئے تبدیلی کے ایک جامع منصوبے کے تحت کام شروع کرنا ہوگا۔
طائب نے کہا: ہر وہ نوجوان جسے درست تربیت دی جائے، ہر وہ لیبارٹری جسے مؤثر تحقیق کے مواقع حاصل ہوں اور ہر وہ مسئلہ جو ایرانی علم کے ذریعے حل کیا جائے، اس مقام کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔
انہوں نے شہید رہبر کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ ایران کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں دنیا کے دس برتر ممالک میں شامل ہونا چاہیے اور کہا: ضروری ہے کہ ملک میں موجود صلاحیتوں کو پہچانا جائے، انہیں عملی طور پر بروئے کار لایا جائے، ماہرین تیار کیے جائیں اور تحقیق سے مصنوعات کی تیاری تک، پھر مصنوعات سے معیشت اور عوامی زندگی میں مؤثر کردار تک کا سفر طے کیا جائے۔
بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے سربراہ نے کہا: سائنس کو پیداوار کا حصہ بننا چاہیے تا کہ پیداوار عوام کے لیے معیشت اور روزگار کے مواقع پیدا کرے۔ ترقی کے یہ مواقع ایک زیادہ مضبوط ایران کی بنیاد بنیں۔ پانی، توانائی، زراعت، صنعت، کان کنی، سیکیورٹی اور دیگر شعبوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے منصوبے حقیقی مسائل کی بنیاد پر متعین کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا: ہم نے دفاعی شعبے میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ثمرات دیکھے ہیں۔ انٹیلیجنس معلومات پر نظر رکھنے اور صورتِ حال کا جائزہ لینے میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس استعمال کی، جس سے ہمارے ٹارگٹس مزید درست ہو گئے۔
طائب نے مزید کہا: سپاہ کی بحریہ، ایرو سپیس فورس اور دیگر مسلح افواج میں بھی آرٹیفیشل انٹیلیجنس شہید رہبر کی تدبیر اور رہنمائی کے تحت متعارف کرائی گئی اور آپ اس کے اثرات دیکھ رہے ہیں کہ اس نے امریکی فوج میں کس قدر خوف پیدا کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: امریکہ نے اپنے بحری بیڑوں اور دنیا بھر میں اپنے مضبوط ترین ائیر ڈیفنس سسٹمز اور دفاعی صلاحیتوں کو اس خطے میں لا کر تعینات کیا ہے۔ اس کا ایک جنگی جہاز آبنائے ہرمز کے قریب آتا ہے تو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے اس کی شناخت ہو جاتی ہے جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال سے ہمارے میزائلوں کی درستگی بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس سے امریکہ میں یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے اور اپنے بحری جہازوں کو مزید دور رکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا: اگر ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان میں آگے بڑھیں گے تو ہمیں سائبر سیکیورٹی کی بھی ضرورت ہوگی کیونکہ گزشتہ دو جنگوں میں ہم نے دیکھا کہ کمانڈرز اور سائنس دانوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ہمارے سائبر کے بنیادی ڈھانچے پر بھی حملے کیے گئے۔ اس لیے ٹیکنالوجی کی ترقی اور سائبر سیکیورٹی کو بیک وقت آگے بڑھنا چاہیے۔
بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے سربراہ نے کہا: عوامی خدمات کا تسلسل برقرار رکھنے، عوام کے معلوماتی ڈیٹا کی حفاظت اور ملک کے بنیادی ڈھانچے میں مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے لیے ماہرین کی جانب سے ذمہ دارانہ فیصلوں اور مسلسل تیاری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے دشمن کے خطرات کا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی بنیادوں پر مقابلہ کرنے سے متعلق بسیج آرگنائزیشن کے مشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ایسے میدان میں ہماری ذمہ داری ملک کی تکنیکی ترقی کے لیے عوامی صلاحیتوں کو متحرک کرنا، استعداد اور وسائل کو پہچاننا، مختلف صلاحیتوں کو آپس میں جوڑنا اور ایسے تعاون کے قیام میں مدد دینا ہے جو ان شاء اللہ نتیجہ خیز ثابت ہو۔
طائب نے کہا: اس ذمہ داری کو ملک کے مختلف شعبوں کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھانا چاہیے، خواہ وہ ممتاز ماہرین ہوں یا علمی، انتظامی اور حکومتی ادارے۔
بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے سربراہ نے کہا: یونیورسٹیز میں تحقیق اور ماہرین کی تربیت کی صلاحیت موجود ہے، صنعت کے پاس مسائل اور عملی کام کے مؤثر مواقع ہیں جبکہ حکومت پالیسی بنانے اور سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ بسیج جیسے عوامی ادارے عوامی شرکت اور رسائی کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے رابطے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا: بسیج میں اکائیوں کی طاقت اور فکر ان صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتی ہے اور لانی چاہیے نیز ان کے تعاون کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ایران کی ترقی کے لیے پُرعزم اور انقلاب کے نظریات پر ایمان رکھنے والے افراد پر اس راستے میں واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
طائب نے مزید کہا: ملک کی ضروریات کی بر وقت تشخیص، پہل کرنا، گہرا علم حاصل کرنا، کام کی دشواریوں کو برداشت کرنا، نتائج کے بارے میں جواب دہ ہونا اور انقلابی جذبہ—یہ سب کام کے آغاز کے لیے سازگار بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ہمارے پُر عزم نوجوان کو اپنے کام کے معیار کے ذریعے اعتماد پیدا کرنے اور اپنی صلاحیت کے بل پر ملک کی کسی ذمہ داری کو سنبھالنے کے قابل ہونا چاہیے۔ جدید بسیج بھی ٹیکنالوجی پر مبنی، علم پر استوار اور مسائل پر مرکوز ہے۔ یہ صلاحیتوں کی نشوونما، ملک کے مسائل اور ان کے حل کے امکانات کے لیے راستہ فراہم کرتا ہے۔
بسیج آرگنائزیشن کے سربراہ نے کہا: ہم اس راستے میں پوری قوت اور طاقت کے ساتھ داخل ہوں گے اور معاونت کریں گے۔ اللہ کے فضل سے طلبہ بسیج، طلبہ و طالبات کی یونیورسٹی بسیج، اساتذہ کی بسیج اور علمی بسیج سمیت تمام شعبوں کو سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمیں بنیادی ڈھانچے کی فراہمی میں مدد دینی ہوگی اور یونیورسٹیز، تھنک ٹینکس اور تحقیقی مراکز کے تعاون سے مختلف پیشہ ورانہ شعبوں کے ماہرین کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہوگا۔
طائب نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا: ہمیں امید ہے کہ کرمان صوبے میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکیورٹی کے اس اجلاس کو، جس کا آغاز ہم نے حاج قاسم کے نام سے کیا ہے اور جس کی بھاری ذمہ داری ہم نے قبول کی ہے، اللہ کی مدد، ایمان، علم اور اجتماعی کوشش کے ذریعے آگے بڑھانے میں کامیاب ہوں گے۔
