ایران کی جانب سے ہر مہم جوئی کا جواب نئے سرپرائزز اور پہلے سے زیادہ سخت ضرب کی صورت میں دیا جائے گا، بریگیڈیئر جنرل سنائی راد

سپریم کمانڈر کے عقیدتی اور سیاسی دفتر کے سیاسی معاون نے کہا ہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت نے اگر دوبارہ کوئی حماقت کی تو اس بار انہیں نئے سرپرائزز اور زیادہ دردناک جواب کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایران سابقہ مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ دے گا۔
خبر کا کوڈ: 6373
تاریخ اشاعت: 27 October 2026 - 23:44 - 17January 2648

سپریم کمانڈر کے عقیدتی اور سیاسی دفتر کے سیاسی معاون بریگیڈیئر جنرل رسول سنائی راد نے دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی اور صیہونی دشمن کی نئی دھمکیوں کے جواب میں ایران کے ردعمل کے بارے میں کہا: "دشمن نے دوبارہ حملہ کیا تو اس کا انجام وہی ہوگا جو دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں میں ہوا تھا۔ اس کا مطلب ہمارے شہید امام کے الفاظ میں یہ ہے کہ دشمن مار کھا کر واپس لوٹے گا اور وہ اپنے اعلان کردہ کسی بھی ٹیکٹیکل ہدف کو حاصل نہیں کر سکے گا۔"

جنرل سنائی‌راد

بریگیڈیئر جنرل سنائی راد نے مزید کہا: "ہم نے خود کو ہر ممکنہ صورتِ حال کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ اگر دشمن نے کوئی حماقت کی تو اس بار اسے نئے سرپرائزز کا سامنا کرنا پڑے گا اور پہلے سے زیادہ سخت اور کاری ضرب لگائی جائے گی۔ نتیجہ بھی وہی ہوگا جو ماضی میں سامنے آیا تھا یعنی اس کو اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا ہوگا۔"

سپریم کمانڈر کے عقیدتی اور سیاسی دفتر کے سیاسی معاون نے مزید کہا: "بارہ روزہ مسلط کردہ جنگ سے لے کر اب تک ان مہم جوئیوں کے پیچھے صیہونی لابی موجود ہے جو کشیدگی میں اضافے کو اپنی بقا کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ یہ کشیدگی خطے اور عالمی معیشت، دونوں کے لیے بھاری اخراجات کا باعث بن سکتی ہے اور آج پوری دنیا اس مجرمانہ اور بدنام گروہ کی بے مقصد مہم جوئی اور کشیدگی پیدا کرنے کی پالیسی کی قیمت ادا کر رہی ہے۔"

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا: "آئندہ جنگ میں ایران یقیناً سابقہ مصلحتوں کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھے گا اور اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گا تا کہ ایک طرف لگائی جانے والی ضربیں زیادہ دردناک ہوں اور دوسری طرف ممکنہ طور پر ماضی کی سطح سے مزید آگے بڑھ کر جنگ کا منظرنامہ سامنے آئے۔"

بریگیڈیئر جنرل سنائی راد نے واضح کیا: "اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اسلامی جمہوریہ ایران دشمن کو سبق سکھانے اور اس کی آئندہ مہم جوئیوں کی دہرائی کو روکنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کرے گا۔"

دفاع پریس کی رپورٹ کے مطابق، آج مسلح افواج کی جس سو فیصد تیاری کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ برسوں کی علمی اور عسکری جدوجہد کا نتیجہ ہے ایسے میزائلوں سے جو دشمن کے ائیر ڈیفنس حصاروں کو چکمہ دے کر گزر جاتے ہیں، ان ڈرونز تک جنہوں نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی نیندیں اڑا رکھی ہیں اور ایسے الیکٹرانک سسٹمز تک جو دشمن کی آنکھیں اندھی کر دیتے ہیں۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں