مربوط ائیر ڈیفنس نیٹ ورک نے دشمن کے ڈرونز کو بھاری نقصان پہنچایا، جنرل الہامی

ملکی مشترک فضائی دفاعی مرکز کے کمانڈر نے کہا: جارحانہ اور جدید ڈرونز کا وسیع پیمانے پر شکار اور دشمن کی ضائی اور ڈرون صلاحیت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچانا، فضائی دفاع کی مربوط نیٹ ورک کی ذہانت کا نتیجہ ہے۔
خبر کا کوڈ: 5934
تاریخ اشاعت: 04 June 2026 - 10:03 - 26August 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، ملک کے مشترکہ ائیر ڈیفنس ہیڈکوارٹر اور فوج کی ائیر ڈیفنس فورس کے کمانڈر **جنرل علیرضا الہامی** نے کہا کہ دشمن نے تیسری مسلط کردہ جنگ میں اپنے MQ-9 ڈرونز کے کھربوں ریال لاگت کے نقصان کا اعتراف کیا ہے حالانکہ یہ ڈرون اپنی خصوصی ساخت اور صلاحیتوں کے باعث اسٹریٹجک جاسوسی، الیکٹرو آپٹیکل نگرانی، سگنل انٹیلیجنس اور گائیڈڈ ہتھیاروں کے ذریعے منتخب کیے گئے مقامات پر حملوں جیسے ملٹی پرپز مشنز کے لیے تیار کیا گیا تھا اور دشمن کے فضائی آپریشنل نظریے میں معلوماتی برتری اور گہرے حملوں کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا۔

ائیر ڈیفنس نے دشمن کے منصوبے ناکام بنا دیے

جنرل الہامی نے کہاان تمام صلاحیتوں کے باوجود ایرانی ائیر ڈیفنس نے ریڈار ڈیٹا کی تیز رفتار پروسیسنگ، مختلف اقدامات اور جدید تدابیر کے ذریعے ان یک طرفہ مشنز کا رخ موڑ دیا اور سمارٹ ڈیفنس سسٹم نیٹ ورک نے فضائی جنگوں کی تاریخ میں دشمن کی فضائی طاقت کو بھاری ترین نقصانات پہنچائے”۔

انہوں نے کہا کہ تیسری مسلط کردہ جنگ میں دشمن کے جدید ڈرونز کے وسیع پیمانے پر شکار اور تباہی کو ائیر ڈیفنس کی احتیاطی تدابیر کی نئی تعریف قرار دیا جا سکتا ہے

 دشمن کی فضائی برتری کی کوشش ناکام ہوئی

ملک کے مشترکہ ائیر ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے مزید کہا:

اگرچہ دشمن نے اپنے وسیع فضائی اور ڈرون بیڑے، بھاری فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی، جن میں MQ-9 ریپر، ہرمس 900، اوربیٹر، لوکاس اور ہرمس 450 جیسے ڈرون شامل تھے، کے ذریعے ڈرون جنگ میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن ایران نے منتشر تعیناتی، الیکٹرانک فریب اور دقیق نشانہ بنانے کی ذہین حکمت عملیوں سے ان کے فضائی حملوں کی تاثیر کو شدید حد تک کم کر دیا اور دشمن کے ڈرون بازو کو کمزور بنا دیا”۔

 متعدد جدید ڈرون مار گرائے گئے

جنرل الہامی نے ائیر ڈیفنس شعبے کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی سخت حالات میں انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دشمن کا مقابلہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ:

ریپر ڈرونز کے علاوہ دشمن کے دیگر جدید ڈرونز، جن میں ہیرون، ہرمس 900، اوربیٹر، ہرمس 450 اور لوکاس شامل ہیں، بھی جنگِ رمضان کے دوران فوج اور آئی آر جی سی کے ائیر ڈیفنس نیٹ ورک کے جوانوں نے نشانہ بنا کر تباہ کیے”۔

 یہ صرف عسکری کامیابی نہیں بلکہ احتیاطی تدابیر کی نئی تعریف ہے

مشترکہ ائیر ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے عوامی تعاون، خصوصاً قبائلی برادریوں کی ذمہ داری کے احساس اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون کو سراہتے ہوئے کہا:

دشمن کے مہنگے اور جدید ڈرونز کا وسیع پیمانے پر سراغ لگانا اور ان کی تباہی صرف ایک عسکری یا تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ فضائی احتیاطی تدابیر کی نئی تعریف ہے”۔

انہوں نے وضاحت کی کہ فضائی نگرانی، شناخت، اہداف کا تعین اور حملے کی وہ زنجیر جو عموماً ڈرونز کے ذریعے انجام دی جاتی ہے، اس میں خلل ڈال کر دشمن کی فوری فیصلہ سازی کی صلاحیت کو مؤثر معلوماتی برتری کے بغیر متاثر کیا گیا۔

دفاعی صلاحیتوں کی مسلسل ترقی ضروری ہے

جنرل الہامی نے کہا کہ اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے ریڈار انفراسٹرکچر، الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں اور ڈرون انٹرسیپٹرز کی مسلسل اپگریڈیشن ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا:

جنگ کے اس مختصر عرصے میں ہم نے اس شعبے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ہم ان کامیابیوں اور ترقیوں پر ہرگز مطمئن نہیں ہیں۔ جنگ بندی کے بعد بھی ہمیں ہمیشہ اپنی ائیر ڈیفنس صلاحیتوں میں اضافے کے بارے میں سوچتے رہنا چاہیے”۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں