قومی اتحاد و یکجہتی کا تحفظ ضروری ہے / ہم احتیاط اور طاقت، دونوں کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہوں گے، حجت الاسلام حاجی صادقی

آئی آر جی سی میں سپریم لیڈر کے نمائندے نے کہا کہ ہمارا بنیادی اور اصل آپشن مذاکرات نہیں بلکہ میدانِ جہاد ہے اور ہم اس حوالے سے کسی قسم کی تشویش نہیں رکھتے کیونکہ ہم مجبوری یا بے بسی کے تحت مذاکرات کی طرف نہیں گئے۔ اسی لیے ہم احتیاط اور طاقت، دونوں کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہوں گے۔
خبر کا کوڈ: 5994
تاریخ اشاعت: 22 June 2026 - 18:44 - 13September 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر کے مطابق، آئی آر جی سی میں ولیِ فقیہ کے نمائندے حجت الاسلام والمسلمین عبدالله حاجی صادقی نے آج صبح (اتوار) تہران یونیورسٹی میں منعقدہ "یومِ بسیج (رضاکار) اساتذہ" کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

ہم جنگِ رمضان (تیسری مسلط کردہ جنگ) میں کامیاب ہوئے اور دشمن کو شکست دینے میں کامیاب رہے؛ لہٰذا ضروری ہے کہ اس فتح کا تذکرہ مسلسل کیا جاتا رہے۔ دشمن اپنے طریقۂ کار اور حکمتِ عملی دونوں میں ناکام ہوا ہے، اسی لیے ہماری کامیابی کی چمک مدہم نہیں پڑنی چاہیے۔ البتہ دشمن اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، اسی لیے ہمیں دشمن کی ناکامیوں کی فہرست مرتب کر کے عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔

حجت الاسلام حاجی صادقی

انہوں نے مزید کہا کہ دشمن نے دو دہائیوں پر محیط عرصے سے بھی زیادہ عرصے تک منصوبہ بندی اور سازشیں کیں تا کہ ہمیں شکست دے سکے۔ یہاں تک کہ اس نے یہ کوشش بھی کی کہ انقلابِ اسلامی کی قیادت سنبھالنے والی تیسری شخصیت، امام خمینی اور ہمارے شہید رہبر کے نظریات اور اہداف سے ہم آہنگ نہ ہو لیکن 18 رمضان کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے واقعۂ غدیر کو دوبارہ زندہ کر دیا اور "خامنہ ای" کے راستے اور نام کو دائمی بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے عوام کے دلوں میں ایک خاص تبدیلی اور بیداری پیدا کی ہے جس کی حفاظت ضروری ہے۔ البتہ ہمارا اصل آپشن مذاکرات نہیں بلکہ میدانِ جہاد ہ، اور ہم اس سے خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ ہم بے بسی کے باعث مذاکرات کی طرف نہیں گئے۔ لہٰذا ہم احتیاط اور طاقت، دونوں کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہوں گے۔

آئی آر جی سی میں سپریم لیڈر کے نمائندے نے مزید کہا کہ عوام کا رات کے وقت میدان میں آ کر اپنے مطالبات کو پیش کرنا ضروری ہے لیکن اختلافات پیدا کرنے کی کوششوں کی نسبت ہوشیار رہنا چاہیے۔ نقصانات کا ازالہ طلب کرنا اور مطالبہ کرنا عوام کا حق ہے مگر دشمن کو یہ موقع نہیں دینا چاہیے کہ وہ ہماری صفوں میں تفرقہ ڈالے۔

حجت الاسلام حاجی صادقی نے طاغوتی محاذ کے ساتھ مقابلے اور عوامی مطالبات کے حوالے سے کہا:

یہ شبانہ اجتماعات ضروری ہیں کیونکہ ان کا مقصد مطالبات کو پیش کرنا ہے، نہ کہ کسی کو مسترد کرنا یا اختلافات پیدا کرنا۔ عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ حکّام، مسلح افواج اور دیگر ذمہ داران کے سامنے اپنا مطالبہ رکھیں کہ وہ ولایت کے راستے پر چلیں؛ کیونکہ ہم جب ہر میدان اور ہر مرحلے میں ولایت کی پیروی کریں گے، تبھی کامیاب ہوں گے۔

انہوں نے تاکید کی کہ امام خمینیؒ کے بقول ولایت کا مطلب کسی شخص کی خواہشات کی حکمرانی نہیں بلکہ قانونِ الٰہی اور ارادۂ خدا کی حاکمیت ہے۔

انہوں نے رہبرِ معظم انقلاب کے حالیہ خط کے بارے میں کہا:

میری رائے میں اس خط میں بیان کردہ مطالبات اس سے کہیں زیادہ گہرے اور وسیع ہیں جتنا عام طور پر سمجھا جا رہا ہے؛ لہٰذا ہم جتنا ان مطالبات پر عمل کریں گے، اتنا ہی اپنے اہداف کے قریب ہوں گے۔ البتہ اس قومی اتحاد اور یکجہتی کو کسی بھی صورت نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ معظم انقلاب ضرورت کے مطابق ہدایات اور تنبیہات جاری کرتے ہیں اور ملکی نظام اور بناوٹ سے بھی گہری وابستگی رکھتے ہیں۔

انہوں نے مذاکراتی ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

مذاکرات کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ بھیڑیے کے ساتھ دوستی کا کوئی مفہوم نہیں بنتا کیونکہ وہ مکّار، دھوکے باز اور خطرناک ہوتا ہے، اس لیے اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ انہیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ ایک ایسی امت کی نمائندگی کر رہے ہیں جس کے امام، باپ اور معصوم بچے شہید کیے گئے ہیں۔ مذاکراتی ٹیم کو اس بات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ آیا مذاکرات واقعی موثر نتائج کے حامل ہے

ہوں گے یا نہیں۔

انہوں نے کہا:

ہم اپنا حق، تلوار کے ساتھ واپس لیں گے اور ہمارے عزیز رہبر کے وعدے کے مطابق تم نے جن امور کا وعدہ کیا ہے اور جن تمام نکات کو تحریر میں لائے اور بیان کیا ہے، ان سب پر عمل کرنا ضروری ہے۔

حجت الاسلام حاجی صادقی نے آخر میں بسیجی رضاکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

رہبرِ معظم انقلاب کے اس فرمان کو ہمیشہ یاد رکھو کہ اگر تمام طاغوتی طاقتیں اور امریکہ بھی ایک طرف جمع ہو جائیں، تب بھی مؤمن بسیجی رضاکاروں کی موجودگی میں، اس نظام کو شکست نہیں دے سکتے۔ واللہ! وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ انقلاب کا محاذِ اول اور اس کی ثقافت، عاشورا کی ثقافت میں جڑیں رکھتی ہے اور اسی لیے بسیج کا نعرہ "هیهات منّا الذلة" ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً