امریکہ کا ساتھ دینے والے ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں یقیناً مشکلات پیش آئیں گی، جنرل اکرمی‌نیا

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ جو ممالک امریکی دہشت گرد فوج کی جارحانہ اور غیرقانونی کارروائیوں میں اس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، انہیں یقیناً آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خبر کا کوڈ: 6084
تاریخ اشاعت: 20 July 2026 - 22:11 - 12October 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان جنرل محمد اکرمی‌نیا نے بری فوج کے ثقافتی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے، امت کے شہید قائد کے جنازے میں ایرانی عوام کی بھرپور شرکت اور دشمن کی سافٹ اینڈ کمبائنڈ وار کا مقابلہ کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔

جنرل اکرمی‌نیا

انہوں نے ایرانِ اسلامی کے لیے مؤثر ڈیٹرنس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا:

"عقل و علم کا تقاضا ہے کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے جب تک ایرانی قوم کے لیے مکمل ڈیٹرنس حاصل نہ ہو جائے”۔

جنرل اکرمی‌نیا نے مزید کہا:

"بصورتِ دیگر دشمن غلط اندازوں کی بنیاد پر دوبارہ عزیز ایران کی سرزمین کی نسبت جارحیت سے پیش آئے گا۔ لہٰذا مکمل ڈیٹرنس کے حصول تک جنگ کا تسلسل کسی جذباتیت یا جنگ پسندی پر مبنی نہیں بلکہ تجربے اور عقلانیت پر استوار ہے”۔

فوج کے ترجمان نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں بعض ممالک کی دشمن کے ساتھ مبینہ معاونت کا ذکر کرتے ہوئے کہا:

"خلیج فارس کے بعض جنوبی ممالک، جو برسوں سے آبنائے ہرمز کی گزرگاہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اربوں ڈالر کا تیل فروخت کرتے اور اپنی ضروریات کی اشیا درآمد کرتے رہے ہیں، آج ایران پر حملوں میں مجرم امریکہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ یہ اقدام ہرگز انصاف پر مبنی اور قابل قبول نہیں اور اس کا تسلسل ممکن نہیں”۔

انہوں نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے اور کہا:

"جو ممالک امریکی دہشت گرد فوج کی جارحانہ اور غیرقانونی کارروائیوں میں اس کے ساتھ شریک ہوئے ہیں، انہیں یقیناً آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔ یہ ہرگز قابل قبول نہیں کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ایسا ساز و سامان منتقل کیا جائے جو ملتِ ایران کے خلاف استعمال ہو”۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً