امریکہ پر نئے ڈرونز کے ذریعے حملے

حملوں کے باوجود جنگ بندی سے فائدہ اٹھا کر نئے ڈرون تیار کیے، امریکہ پر نئے ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے، فوج کے ترجمان
خبر کا کوڈ: 6126
تاریخ اشاعت: 02 August 2026 - 00:00 - 24October 2647

دفاعی اور سیکیورٹی گروپ، دفاع پریس اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان جنرل محمد اکرمی نیا نے ایک ٹیلیویژن انٹرویو میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف فضائیہ کے ایک فضائی آپریشن کی تفصیلات بیان کیں۔

برگیڈیر جنرل اکرمى‌نیا:

جنرل محمد اکرمی نیا نے 28 فروری کے دن امریکہ اور صیہونی حکومت کی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ نے پہلے سے کی گئی تیاریوں اور طویل عرصے سے تیار شدہ آپریشنل منصوبوں کی بنیاد پر اس جارحیت کے صرف دو روز بعد ہی خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں میں سے ایک F-5 جنگی طیاروں کے ذریعے کویت کے العدیری اڈے پر کی گئی جبکہ دوسری کارروائی فضائیہ کے سوخو جنگی طیاروں نے قطر کے العدید فضائی اڈے کے خلاف انجام دی۔

فوج کے ترجمان نے کہا کہ العدید اڈے کے خلاف سوخو طیاروں کی کارروائی، منصوبہ بندی اور نافذ ہونے کے اعتبار سے نہایت پیچیدہ تھی۔ خطے میں دشمن کے ائیر ڈیفنس سسٹمز کی وسیع موجودگی کے باعث اس نوعیت کا مشن انتہائی دشوار تھا، تاہم نہایت موثر منصوبہ بندی کے بعد یہ ذمہ داری فضائیہ کے چار بہادر پائلٹس کو سونپی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ شہید بریگیڈیئر سیکنڈ پائلٹ مجید کاظمی انہی چار پائلٹس میں شامل تھے جنہوں نے اس مشن میں حصہ لیا۔

انتہائی دشوار فلائٹ

جنرل اکرمی نیا نے کہا کہ پرواز کا ایک بڑا حصہ خلیج فارس کے اوپر انجام دیا گیا۔ خشکی کے برعکس سمندر کے اوپر پرواز میں زمینی رکاوٹیں موجود نہیں ہوتیں، اس لیے طیاروں کے پکڑے جانے کا امکان کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوخو جنگی طیاروں کا حجم نسبتاً بڑا ہونے کے باعث ان کا ریڈار کراس سیکشن بھی زیادہ ہے، جس سے دشمن کی جانب سے ان کی نشاندہی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے باوجود تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بنایا گیا اور پائلٹ کامیابی سے ٹارگٹ تک پہنچے، نشانہ بنایا اور پھر واپسی کی فلائٹ شروع کی۔

ان کے بقول یہ کارروائی مکمل کامیابی سے انجام پائی اور ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کی صلاحیت، جرأت اور آپریشنل تیاری کا مظاہرہ ہوا۔

ایسا مشن جو ہر پائلٹ کے بس کی بات نہیں

فوج کے ترجمان نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران دشمن کے ائیر ڈیفنس سسٹمز سے بچنے کے لیے پائلٹس کو سمندر کی سطح سے صرف 30 سے 40 میٹر اور بعض مقامات پر زمین کے انتہائی قریب پرواز کرنا پڑی۔ ایسا مشن ہر پائلٹ انجام نہیں دے سکتا بلکہ اس کے لیے غیر معمولی مہارت، جرأت اور عملی تجربہ درکار ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فضائیہ کے بہادر پائلٹس نے ان تمام صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی سے ٹارگٹ کو نشانہ بنایا۔

جنرل اکرمی نیا نے بتایا کہ واپسی کے دوران دشمن کے جنگی طیاروں نے ہمارے طیارے کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ شہید بریگیڈیئر سیکنڈ پائلٹ مجید کاظمی کا جسدِ خاکی کئی ماہ بعد شناخت کر کے وطن واپس لایا گیا اور گزشتہ روز شیراز میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔

العدیری اور العدید کی اہمیت

انہوں نے کہا کہ العدیری اور العدید دونوں امریکہ کے اہم ترین فوجی اڈوں میں شمار ہوتے تھے۔

العدیری اڈے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ امریکی فوج کے ہیلی کاپٹرز کا سینٹرل مرکز تھا، جہاں 250 سے زائد ہیلی کاپٹر تعینات تھے۔

ان کے مطابق اس کارروائی میں اس اڈے کو شدید نقصان پہنچا، متعدد امریکی ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں دیگر ہیلی کاپٹر نقصان کے باعث آپریشنل صلاحیت سے محروم ہو گئے۔

العدید، امریکہ کا فضائی کمانڈ سینٹر

انہوں نے کہا کہ قطر کا العدید فضائی اڈہ برسوں سے مغربی ایشیا میں امریکہ کا اہم ترین فوجی اور ائیر کمانڈ مرکز رہا ہے۔

ان کے مطابق عراق پر 2003 کے حملے کے بعد امریکہ نے اس اڈے پر بھاری سرمایہ کاری کی اور اسے اپنے سب سے بڑے فضائی اڈوں میں تبدیل کیا، جہاں سے ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں کی بھی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ دشمن کی جارحیت شروع ہونے کے صرف 48 گھنٹے بعد ایران نے اس اڈے پر مؤثر حملہ کیا جبکہ بعد میں بھی یہ اڈہ متعدد ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنتا رہا اور اسے نمایاں نقصان پہنچا۔

تین دیگر پائلٹس کی تلاش جاری

ایک سوال کے جواب میں جنرل اکرمی نیا نے کہا کہ اس آپریشن میں شریک دیگر تین پائلٹس کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم قطری حکام نے اب تک ان کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے قطر کی حکومت اور فوج سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ان تینوں پائلٹس کی صورتحال واضح کرنے میں سنجیدہ تعاون کرے۔

ایم او یو

انہوں نے کہا کہ 18 جون کو ایران اور امریکہ کے درمیان ایم او یو طے پایا، جس کے تحت آبنائے ہرمز میں ایرانی سیکیورٹی انتظامات کے حق کو تسلیم کیا گیا تھا۔

تاہم ان کے بقول امریکہ، بالخصوص اس کے صدر نے ماضی کی طرح عہد شکنی کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کے صرف 20 روز بعد ہی اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کیا اور عمان پر دباؤ ڈال کر آبنائے ہرمز میں ایک جعلی اور غیر قانونی راستہ کھولنے کی کوشش کی۔

امریکی اڈوں پر جوابی حملے

فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے آبنائے ہرمز میں مسلح افواج کی کارروائیاں شروع کر دیں جبکہ اس کے بعد امریکہ نے تقریباً دو ہفتوں تک، بالخصوص ملک کے جنوبی علاقوں میں، اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران ایران نے متعدد جوابی کارروائیاں کیں، جن میں سے بڑی تعداد اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف انجام دی۔

بحرین، کویت اور اردن میں کارروائیاں

جنرل اکرمی نیا نے کہا کہ بحرین میں امریکی اڈہ امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے اور آبنائے ہرمز، بحیرۂ عمان، خلیج فارس اور شمالی بحرِ ہند کے کنٹرول کا اہم ترین مرکز تھا۔ ان کے مطابق اس اڈے پر حملہ انتہائی مؤثر ثابت ہوا اور دستیاب شواہد کے مطابق اس کی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد کویت میں امریکی اڈے جو فضائی اور لاجسٹک مرکز بھی تھا، متعدد ڈرون حملوں کا نشانہ بنا اور اسے بھی شدید نقصان پہنچا۔

اردن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اپنے فوجی ساز و سامان کا بڑا حصہ وہاں منتقل کیا تھا تا کہ وہ ایرانی مسلح افواج کی پہنچ سے باہر رہے، تاہم اردن میں بھی امریکی اڈے فوج کے ڈرون حملوں اور سپاہ پاسداران کے میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنے اور انہیں نمایاں نقصان اٹھانا پڑا۔

امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا

جنرل اکرمی نیا نے کہا کہ ان حملوں کے اثرات آج خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں واضح کمی کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً چھ ماہ گزرنے کے باوجود امریکہ نہ اپنے فوجی، نہ سیاسی اور نہ ہی اقتصادی اہداف حاصل کر سکا اور اس کی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات نے اس کی پوزیشن کو کمزور کر دیا ہے۔

جنگ بندی سے فائدہ اٹھا کر نئی صلاحیتیں حاصل کیں

فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی ڈرونز طویل فاصلے تک کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور مقبوضہ علاقوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 40 روزہ جنگ کے دوران انہی ڈرونز کے ذریعے مقبوضہ علاقوں میں ٹارگٹس کو نشانہ بنایا گیا لہٰذا امریکی اڈوں کو اردن میں نشانہ بنانا ان کے لیے زیادہ مشکل نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی بدعہدی کے پیش نظر ایران نے ابتدا ہی سے جنگ بندی پر مکمل اعتماد نہیں کیا تھا، اس لیے جنگ بندی کے دوران ہر لمحے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلح افواج کی تیاری میں اضافہ کیا گیا۔

ان کے مطابق اس عرصے میں افواج کے لیے نہ صرف نئے ہتھیار اور سسٹمز شامل کیے گئے بلکہ متاثرہ سسٹمز کی مرمت، بحالی اور نئے دفاعی آلات کی تیاری بھی جاری رکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ کارروائیوں میں نئی نسل کے ڈرونز استعمال کیے گئے ہیں، جن کی خصوصیات آئندہ دنوں میں عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

 

اربعین زائرین کے لیے خدمات

جنرل اکرمی نیا نے بتایا کہ اربعین کے موقع پر فوج مختلف شعبوں میں زائرین کی خدمت کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی اہلکار ذاتی، خاندانی اورمعاشرتی سطح پر مواکب قائم کر کے زائرین کی خدمت انجام دے رہے ہیں جبکہ مغربی سرحدوں تک مختلف فوجی یونٹس نے بھی مواکب اور سبیلیں قائم کی ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بری فوج کی 123ویں بریگیڈ نے تہران–ساوہ موٹر وے کے ٹول پلازہ کے قریب مفت اسٹیشن قائم کیا ہے، جبکہ یہ سلسلہ سرحدی راہداریوں تک جاری ہے۔

پانچ سرحدی مقامات پر طبی سہولیات

فوج کے ترجمان نے کہا کہ فوج نے تمرچین، خسروی، مہران، چذابہ اور شلمچہ کے بارڈرز پر پانچ جدید فیلڈ ہسپتال اور طبی مراکز قائم کیے ہیں، جہاں ماہر طبی عملہ اور جدید طبی آلات کے ذریعے زائرین کو خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ ائیر فورس کا ہیلی کاپٹر یونٹ بھی اربعین کے دوران سرحدی علاقوں میں فضائی ایمرجنسی خدمات اور ممکنہ زخمیوں اور مریضوں کی منتقلی کی خدمات انجام دے رہا ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں