حدید 110 ڈرون؛ خلیج فارس میں سینٹکام کے لیے نیا چیلنج

حدید 110 امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے لیے خطے میں ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ سینٹکام کے بیشتر فوجی اڈے ایران کی سرحد سے تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں اور یہ ڈرون ان اڈوں کے لیے مؤثر خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ: 6127
تاریخ اشاعت: 02 August 2026 - 08:30 - 24October 2647

تحریر: محمد زرچینی (دفاعی اور سیکیورٹی گروپ، دفاع پریس)

گزشتہ چند دہائیوں کے دوران جدید جنگوں کے عسکری نظریے میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ خودکش ڈرونز یا لوئٹرنگ میونیشنز کی آمد نے جنگی توازن کو ان طاقتوں کے حق میں بدل دیا ہے جو مہنگے اور پیچیدہ ہتھیاروں کی بجائے ذہانت، تیز رفتاری اور کم لاگت پر انحصار کرتی ہیں۔

اسی تناظر میں اسلامی جمہوریہ ایران نے مقامی علم اور جدید انجینئرنگ کی بنیاد پر دفاعی خود کفالت کی سمت نمایاں پیش رفت کی ہے۔ "حدید 110" نامی خودکش ڈرون کی تیاری جو اس خاندان کی جدید ترین اور ترقی یافتہ نسل قرار دی جا رہی ہے، نہ صرف ایک تکنیکی کامیابی بلکہ خطے اور اس سے باہر بڑھتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں ایک اسٹریٹجک جواب بھی ہے۔ ایران کے تیز ترین اور ریڈارز کی زد سے بچ نکلنے والے خودکش ڈرون کے طور پر متعارف کرایا جانے والا یہ پلیٹ فارم روایتی سست رفتار پروپیلر ڈرونز کے تصور سے آگے بڑھتے ہوئے ایسے میدان میں داخل ہوا ہے جو اس سے قبل بڑی فوجی طاقتوں کی اجارہ داری سمجھا جاتا تھا۔

ٹربوجیٹ انجن، اسٹیلتھ ڈیزائن اور پریسیژن بیسڈ صلاحیت کے امتزاج نے "حدید 110" کو ایسا ہتھیار بنا دیا ہے جو دشمن کی اسٹریٹجک گہرائی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ تجزیاتی رپورٹ اس ڈرون کی تکنیکی اور آپریشنل صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ برطانوی اخبار "دی ٹیلیگراف" اور ویب سائٹ "Interesting Engineering" سمیت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اس کی بازگشت کا جائزہ پیش کرتی ہے۔

ڈرون

"حدید 110" خلیج فارس میں تیز رفتار اسٹیلتھ ڈرون

اس ڈرون کے بارے میں نمایاں بین الاقوامی رپورٹس میں برطانوی اخبار "دی ٹیلیگراف" کی تفصیلی رپورٹ شامل ہے، جس میں "حدید 110" کے جدید اور اپ گریڈ شدہ ورژن کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اس ڈرون کو بنیادی سطح پر جدید بنایا گیا ہے جس کے بعد یہ پہلے سے کم بلندی پر زیادہ رفتار کے ساتھ اور بہتر اسٹیلتھ صلاحیت کے ساتھ پرواز کرتا ہے جس کی وجہ سے دشمن کے ڈیفنس سسٹمز کے لیے اس کی شناخت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔

ٹیلیگراف نے لکھا کہ اس نئے ورژن کی تیاری کا بنیادی مقصد جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹمز اور خاص طور پر امریکی ڈیفنس سسٹمز میں نفوذ کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام اسے اپنے مہلک ترین ہتھیاروں میں شمار کرتے ہیں اور اس کی "تیز رفتار" اور "اسٹیلتھ صلاحیت" کو اس کی دو نمایاں خصوصیات قرار دیتے ہیں۔

تکنیکی خصوصیات اور کارکردگی

تکنیکی جائزوں کے مطابق "حدید 110" اپنے انجن کے اعتبار سے ایران کے سابقہ خودکش ڈرونز سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔

جہاں زیادہ تر ایرانی حملہ آور ڈرون نسبتاً کم رفتار والے پروپیلر انجن استعمال کرتے ہیں، وہیں "حدید 110" کو طاقتور ٹربوجیٹ انجن سے لیس کیا گیا ہے۔

ٹیلیگراف سے گفتگو کرنے والے ذرائع کے مطابق، یہ انجن ڈرون کی رفتار کو 300 میل فی گھنٹہ (تقریباً 510 تا 517 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک پہنچا دیتا ہے جس سے یہ ایران کے فضائی ذخیرے کا تیز ترین معلوم خودکش ڈرون بن جاتا ہے۔

یہ ڈرون سالڈ فیول بوسٹر کے ذریعے لانچ کیا جاتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں یہ بوسٹر ڈرون کو مطلوبہ رفتار اور بلندی تک پہنچاتا ہے جس کے بعد سینٹرل جیٹ انجن ایکٹیو ہو جاتا ہے۔

اس راکٹ لانچ سسٹم کی بدولت اسے زمینی پلیٹ فارم یا حتیٰ کہ آبدوز سے بھی نہایت تیزی سے فائر کیا جا سکتا ہے، جس سے مسلح افواج کو اعلیٰ درجے کی آپریشنل لچک حاصل ہوتی ہے۔

پروازی صلاحیت کے لحاظ سے "حدید 110" تقریباً 350 کلومیٹر کے آپریشنل زون میں پرواز کر سکتا ہے اور اس کی پرواز کا دورانیہ تقریباً ایک گھنٹہ بتایا جاتا ہے۔

اس کی فلائٹ کی بلندی تقریباً 9 کلومیٹر ہے جبکہ اس کی نشانہ لگانے کی صلاحیت انتہائی پریسائزڈ ہے۔

یہ ڈرون تقریباً 30 کلو گرام وزنی شدید دھماکہ خیز وارہیڈ لے جانے اور ٹارگٹ کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض ذرائع نے اس پلیٹ فارم کے ایسے بڑے اور بہتر ورژنز کا ذکر کیا ہے جو اس سے کہیں زیادہ وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے اس ڈیزائن کی مزید ترقی کی گنجائش ظاہر ہوتی ہے۔

اسٹیلتھ ڈیزائن

"حدید 110" کو ائیر ڈیفنس سسٹمز کے لیے سنگین خطرہ بنانے والی سب سے اہم خصوصیت اس کا اسٹیلتھ ڈیزائن ہے۔

ٹیلیگراف کے مطابق اس کا ڈھانچہ اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اس کا ریڈار کراس سیکشن انتہائی کم رہے اور دشمن کے ریڈار کے لیے اس کی شناخت انتہائی دشوار ہو۔

ایرانی ماہرین کے مطابق اس کی باڈی ایک مربوط اور ہموار ساخت رکھتی ہے جس میں بیرونی ابھار یا پیچ نہ ہونے کے برابر ہیں، جس سے ریڈار لہروں کی ریفلیکشن نمایاں حد تک کم ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ انجن کی S شکل کا ایئر اِن ٹیک اوپری حصے میں نصب کیا گیا ہے تا کہ انجن کے پرزے براہِ راست ریڈار کی نظر میں نہ آئیں۔

مزید برآں، اس کے بیرونی حصے پر ریڈار لہروں کو ایٹریکٹ کرنے والا خاص مواد استعمال کیا گیا ہے، جو مختلف ریڈار فریکوئنسیز پر اس کی شناخت کی صلاحیت کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے۔

ڈیفنس سسٹمز کے لیے ٹیکنیکل چیلنج

جدید ائیر ڈیفنس سسٹمز کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے شناخت، تعاقب، ریڈار لاک اور بروقت انٹرسیپٹر میزائل فائر کرنے کے مکمل سلسلے پر انحصار کرتے ہیں۔

ٹیلیگراف کے مطابق ٹارگٹ جتنا چھوٹا اور تیز رفتار ہوگا، ڈیفنس سسٹمز کے پاس ردعمل کا وقت اتنا ہی کم ہوگا۔

"حدید 110" کو اسی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

 ڈرون

رپورٹ کے مطابق 500 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار اور انتہائی ریڈار سے بچ نکلنے کی وجہ سے یہ ڈرون دشمن کے ڈیفنس سسٹمز کی مکمل شناخت اور ان کے ری ایکشن سے پہلے ہی اپنے ٹارگٹ تک پہنچ کر مشن مکمل کر سکتا ہے۔

اسی وجہ سے اسے اچانک حملوں اور دشمن کے قیمتی اور حسّاس ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کے لیے مؤثر ہتھیار قرار دیا جا رہا ہے۔

Interesting Engineering ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ "حدید 110" 510 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ ایران کا تیز ترین معلوم خودکش ڈرون ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کا کم ریڈار کراس سیکشن اور اسٹیلتھ ڈیزائن، مغربی دنیا کے بعض جدید طیاروں سے مشابہت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایران ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مسلسل اپنے ڈرون پروگرام کو بہتر بنا رہا ہے اور اس کے پائلٹ بغیر طیارے ملکی دفاعی صنعت کی اہم برآمدات میں شمار ہونے لگے ہیں۔

دفاعی صنعت کی ترقی کی علامت

رپورٹ کے مطابق "حدید 110" صرف ایک ہتھیار نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دفاعی اور فضائی صنعت کے ارتقا کی علامت بھی ہے۔

یہ کامیابی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایرانی دفاعی صنعت سادہ پلیٹ فارم بنانے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر جدید عالمی معیار کے مطابق جدید سسٹمز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔

نیٹ ورک پر مبنی جنگ، مشترکہ کارروائیوں اور ڈرون جال (Drone Swarm) پر مبنی مستقبل کی جنگی حکمت عملی میں "حدید 110" انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس ڈرون کو دیگر مانیٹرنگ اینڈ وار سسٹمز کے ساتھ مربوط کر کے دشمن کے ائیر ڈیفنس کو بیک وقت متعدد ٹارگٹس کے ذریعے مفلوج کیا جا سکتا ہے۔

جیسا کہ "دی ٹیلیگراف" نے بھی اپنی رپورٹ میں اشارہ کیا، موجودہ نازک حالات میں اس صلاحیت کی نمائش ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نہ صرف اپنی سرزمین اور قومی مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ مقامی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کسی بھی خطرے کو اپنی سرحدوں تک پہنچنے سے پہلے کم ترین لاگت اور زیادہ سے زیادہ تاثیر کے ساتھ ناکام بنانے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔

ایرانی ڈرون صنعت کی ترقی کا سفر بدستور کوالٹی اینڈ کوانٹٹی بہتری کی سمت جاری رہے گا اور "حدید 110" اس دفاعی ترقی کا صرف ایک نمایاں باب ہے۔

رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈرون خطے میں امریکی فوج کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ سینٹکام کے بیشتر فوجی اڈے ایران کی سرحد سے تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں اور "حدید 110"

سینٹکام کے کمانڈر بریڈ کوپر اور خطے میں موجود امریکی فوجی قیادت کے لیے ایک مستقل دردِ سر ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹیگس: ڈرون ، ایران ، امریکہ
آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں