میزائل انڈسٹری میں خود کفیل ہونا؛ امریکہ کے مقابل ڈٹے رہنے کی بنیادی وجہ

اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے ملک میں تیار کیے جانے والے اعلیٰ معیار کے میزائلوں اور خودکش ڈرونز کی بدولت حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں میں امریکی۔صیہونی جارح دشمن کو مؤثر اور کاری ضربیں پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
خبر کا کوڈ: 6130
تاریخ اشاعت: 03 August 2026 - 07:56 - 25October 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، رحیم محمدی نے اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک، بالخصوص سعودی عرب، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات، گزشتہ برسوں کے دوران خطے اور دنیا میں اسلحے کے سب سے بڑے درآمد کرنے والوں میں سے رہے ہیں۔ ان کی درآمدات میں زیادہ تر جنگی طیارے اور ائیر ڈیفنس کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائل شامل ہیں۔

میزائل

صیہونی حکومت بھی اسی زمرے میں آتی ہے کیونکہ اگرچہ اس کے پاس اسلحہ سازی کے بڑے کارخانے موجود ہیں لیکن جنگی طیاروں، ان سے متعلقہ ساز و سامان اور ائیر ڈیفنس سسٹمز کے شعبے میں وہ بڑی حد تک امریکی اسلحہ ساز کمپنیز پر انحصار کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں کا ایک بڑا شراکت دار تصور کیا جاتا ہے۔

اگرچہ صیہونی حکومت اپنے دفاعی ساز و سامان کا بڑا حصہ امریکی کمپنیز سے حاصل کرتی ہے، تاہم وہ جرمنی اور اٹلی سمیت بعض یورپی ممالک پر بھی نظر رکھتی ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ کے بعد جرمنی کو اس حکومت کا دوسرا بڑا دفاعی شراکت دار قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال تک جرمنی کی اسلحہ برآمدات کے 31 فیصد معاہدے صیہونی حکومت کے ساتھ طے پائے تھے۔

خطے میں مختلف اقسام کے اسلحے اور گولہ بارود کی یہ وسیع منتقلی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران دنیا میں اسلحے کی درآمد کرنے والے ممالک میں سب سے کم شرح رکھنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ ایران پر عائد پابندیاں تھیں جبکہ دوسری وجہ مقامی سطح پر دفاعی ساز و سامان کی تیاری کی پالیسی اختیار کرنا تھی۔

آٹھ سالہ دفاعِ مقدس کے دوران حاصل ہونے والے تجربات نے ایرانی ماہرین کو میزائل صنعت میں خود کفیل ہونے کی راہ پر گامزن کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر مسلط کردہ دوسری اور تیسری جنگ، خاص طور پر حالیہ کارروائیوں میں امریکہ کے علاقائی اڈوں کے خلاف ایران، جارح طاقتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو سکا اور انہیں بھاری نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوا، تو اس کی بنیاد انہی تجربات سے حاصل ہونے والی صلاحیت تھی۔

ایسے حالات میں جب مسلط کردہ دوسری جنگ کے دوران ایران اپنے ائیر ڈیفنس سسٹمز کا ایک بڑا حصہ کھو چکا تھا، اس نے مقامی طور پر تیار کردہ ڈیفنس سسٹمز جیسے "مجید" اور دفاعی صنعت کے تیار کردہ کندھے سے فائر کیے جانے والے میزائلوں کی مدد سے تقریباً 40 جدید امریکی MQ-9 جاسوس اور جنگی ڈرون مار گرائے جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 30 ملین امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے حالانکہ ایک زمانے میں ایران خود خطے میں اسلحے کے بڑے درآمد کرنے والوں میں شمار ہوتا تھا۔

لہٰذا اسلامی جمہوریہ ایران ایک ایسے وقت میں خطے اور دنیا کے جدید ترین اسلحے کے بڑے ایجاد اور درآمد کرنے والے ممالک کے مقابلے میں کھڑا ہوا جب خطے میں اس کے اسلحہ درآمدات کا حصہ صرف 0.2 فیصد تھا۔ تاہم ملک میں تیار کیے جانے والے اعلیٰ معیار کے میزائلوں اور خودکش ڈرونز کی بدولت ایران حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں میں امریکی۔صیہونی جارح دشمن کو مؤثر اور کاری ضربیں پہنچانے میں کامیاب رہا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں