ایران پر کی جانے والی ہر جارحیت کا جواب امریکہ کے لیے تباہ کُن ہوگا
دفاع پریس کے دفاعی اور سیاسی امور کے گروپ کے مطابق، اسلامی پارلیمنٹ کے رکن اسماعیل کوثری نے خطے کی تازہ ترین صورتحال اور ایران کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ٹرمپ حکومت کی حالیہ دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امریکہ کی جانب سے ملک کے اہم اور حیاتیاتی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر مبنی موجودہ پالیسی، ایرانی قوم کے عزم کو دباؤ میں لانے کے لیے ’’نفسیاتی جنگ‘‘ کے سوا کچھ نہیں ہے۔

پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن نے حالیہ کشیدگی کے وسیع تر پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس طرزِ عمل کو ’’تیسری مسلط کردہ جنگ‘‘ کے منظرنامے کا حصہ قرار دیا اور کہا: امریکہ نے اس مرحلے پر اپنی تمام فوجی اور سیاسی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اسلامی جمہوری نظام کو گرانے کے مقصد سے اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے مزید کہا: اس راستے میں دشمن نے ابتدا میں نظام کی قیادت کو شہید کرنے اور اس کے بعد فوجی اور میزائل مراکز کو نشانہ بنا کر ایک اسٹریٹجک صدمہ پہنچانے کی کوشش کی لیکن اپنے ان مقاصد کے حصول میں ناکامی کے بعد اسے ثالث پارٹیز کے ذریعے جنگ بندی کے حصول کے لیے کوشش کرنا پڑی۔
انہوں نے واشنگٹن کی عہد شکنیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ایک او یو پر دستخط اور اس کی امریکہ کی جانب سے مسلسل خلاف ورزی نے ایک بار پھر دنیا پر ثابت کر دیا کہ اس حکومت کی معاہدوں کے حوالے سے کوئی پاسداری نہیں ہے اور عہد شکنی امریکی خارجہ پالیسی کا ناقابلِ جدا حصہ ہے۔
کوثری نے رہبرِ معظم انقلاب کی تدفین کی تقریب میں عوام کی بھرپور شرکت پر دشمن کے حالیہ ردِعمل کا تجزیہ کرتے ہوئے مزید کہا: رہبرِ معظم انقلاب کی شاندار تدفین میں ایرانی عوام اور عالمِ اسلام خاص طور پر عراق کی سرزمین پر لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوئے، جس نے امریکیوں پر لرزہ طاری کر دیا۔
انہوں نے کہا: دشمن اس غیر معمولی ثابت قدمی سے خوفزدہ ہو گیا تھا اور اس نے کوشش کی کہ تدفین کی تقریب کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوشش کرے لیکن مدافع طاقتوں کی ہوشیاری اور تیاری کے سامنے اسے ایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلامی پارلیمنٹ میں تہران، شہر رے، شمیرانات، اسلام شہر اور مضافات کی عوام کے نمائندے نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے سے متعلق ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں حضرت خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کی جانب سے امریکہ اور خطے میں اس کے اتحادیوں کو دی گئی دوٹوک تنبیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ہم نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ایران کی سرزمین کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں ہم کئی گنا زیادہ اور تباہ کُن جواب دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: یہ جوابی کارروائی صرف امریکہ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ان تمام ممالک کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جنہوں نے اپنی سرزمین کو امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کی اجازت دی ہے اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا: اس تصادم کی آگ ہر اس ملک تک پہنچے گی جس نے اپنی سلامتی امریکہ کے سپرد کر رکھی ہے کیونکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکہ نہ صرف سیکیورٹی کا ضامن نہیں بلکہ خطے میں عدمِ تحفظ کا بنیادی عامل ہے۔
پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن نے زور دے کر کہا: ایران کے دوٹوک اور ڈیٹرنٹ مؤقف کے باعث امریکی صدر اپنے سخت مؤقف سے پیچھے ہٹنے اور اپنی باتیں واپس لینے پر مجبور ہوا۔
انہوں نے مزید کہا: اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ ۴۸ برسوں کے دوران سازشوں کا مقابلہ کرنے کے بے شمار تجربات حاصل کیے ہیں۔ دشمن نے جب بھی نظام کو گرانے کی کوشش کی، اسے عوام کے ایمان کی چٹان کے سامنے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
کوثری نے خطے میں امریکہ کی طاقت کے زوال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکہ تیسری مسلط کردہ جنگ میں براہِ راست ایران کے ساتھ جنگ میں داخل ہوا اور ہم نے فیصلہ کُن کارروائی کے ذریعے اسے اس کی حدود میں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔
بارہویں پارلیمنٹ کے اس رکن نے آخر میں دشمن کے مقابلے میں قومی اتحاد برقرار رکھنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا: آج ضروری ہے کہ وہ عوام، جنہوں نے ۱۵۴ راتیں میدان میں موجود رہ کر دشمن کے دل میں مایوسی پیدا کی، اپنی اسی ثابت قدمی کو برقرار رکھیں تا کہ یقینی فتح حاصل ہو اور امریکہ کو مکمل طور پر مغربی ایشیا کے خطے سے باہر نکال دیا جائے۔
