مسلح افواج پوری ہوشیاری اور مکمل تیاری کے ساتھ ملک کا دفاع کر رہی ہیں، جنرل ابن الرضا
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے سربراہ جنرل سید مجید ابن الرضا نے ہفتۂِ دفاعِ مقدس کی آمد پر اپنے جاری کردہ پیغام میں ایرانی قوم کے آٹھ سالہ دفاع اور حالیہ مسلط کردہ جنگوں کو ملک کی آزادی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ولایت کی پیروی، ایمان، اتحاد اور قومی عزم کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا: دفاعِ مقدس کا ورثہ آج ملک کی خود کفیل اور مقامی سائنسی، تکنیکی اور دفاعی صلاحیتوں کی صورت میں جاری ہے۔

پیغام کا متن درج ذیل ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہفتۂِ دفاعِ مقدس، ایران کی تاریخِ حاضر کے روشن ترین ادوار میں سے ایک اور ایسی قوم کے عزم و ارادے کی علامت کی یاد دلاتا ہے جس نے ملک کی آزادی، عزت، شرافت اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں ولایت کی پیروی، ایمان، شجاعت، اتحاد اور مزاحمت پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک لازوال معرکہ رقم کیا۔
آٹھ سالہ دفاعِ مقدس صرف ایرانی قوم کی مزاحمت کا ایک تاریخی دور نہیں بلکہ یہ ایک عظیم قوم کے تجربے، خود اعتمادی، جہاد اور ذمہ داری کے احساس کا ایک بڑا مدرسہ ہے، جس کے اثرات اور کامیابیوں نے اس کے بعد آنے والی نسلوں کے لیے دفاعی میدان میں ملک کی پیش قدمی کا راستہ متعین کیا ہے۔ آج بھی ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے اسی قیمتی تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے حالیہ مسلط کردہ جنگوں کے مقابلے میں ایک بار پھر ملک کی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کی ضرورت اور ملک کے دفاع کے لیے مسلسل تیاری کی اہمیت کو ثابت کیا۔
ان تمام ادوار میں مشترک پہلو ایرانی قوم کا ملک کے وجود اور شناخت کے تحفظ اور اسلامی ایران کی آزادی اور علاقائی سالمیت پر کسی بھی قسم کی جارحیت کے مقابلے میں الٰہی، اسلامی اور قومی اقدار پر بھروسہ کرتے ہوئے ثابت قدم رہنے کا عزم اور ارادہ ہے ایسا عزم جو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوا اور آج ملک کی مقامی سائنسی، تکنیکی اور دفاعی صلاحیتوں کی صورت میں جاری ہے۔
دفاعِ مقدس کے اہم ترین ورثوں میں سے ایک، خطرے کو مقامی صلاحیتیں تشکیل دینے اور دفاعی خود کفالت حاصل کرنے کے لیے موقع میں تبدیل کرنے کے یقین اور عقیدے کا پیدا ہونا تھا۔ ملک کی دفاعی صنعت نے اس راستے میں ایرانی نوجوانوں، سائنس دانوں، ماہرین اور ممتاز افراد کی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے میدانِ جنگ کے تجربات سے ٹیکنالوجی کی ترقی، صلاحیتوں میں اضافے اور ملک کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استفادہ کیا ہے اور یہ راستہ پوری سنجیدگی کے ساتھ جاری رہے گا۔
آج اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی طاقت کسی ایک دور یا محدود مجموعے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس سرزمین کے فرزندوں کی کئی نسلوں کی برسوں کی جدوجہد، علم کے حصول، تجربہ حاصل کرنے اور مسلسل کوششوں کا ثمر ہے۔ ہماری ذمہ داری بھی یہ ہے کہ اس گراں قدر سرمائے کو محفوظ رکھیں، اسے مزید ترقی دیں اور مستقبل کے خطروں اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس صلاحیت کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے بنیاد فراہم کریں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج معزز ایرانی قوم کے شانہ بشانہ، اللہ تعالیٰ پر توکل اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی کمان میں، پوری ہوشیاری اور مکمل تیاری کے ساتھ ملک کی آزادی، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے راستے پر گامزن ہیں جبکہ ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ بھی خود کو اس بات کا پابند سمجھتی ہے کہ دفاعی سائنسی، صنعتی اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا کر اس راستے کے لیے ایک مضبوط پشت پناہی فراہم کرے۔
ہفتۂِ دفاعِ مقدس کے موقع پر ہم دفاعِ مقدس کے عظیم شہداء اور حالیہ مسلط کردہ جنگوں کے شہداء بالخصوص ہمارے شہید کمانڈر اور قائد حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای قدس اللہ نفسہ الزکیہ کی یاد اور نام کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور تمام سپاہیوں، ایثار کرنے والوں، غازیوں اور شہداء کے معزز خاندانوں کی یاد اور نام کو گرامی رکھتے ہوئے ان کے صبر، قربانی اور جہاد کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔
ہفتۂِ دفاعِ مقدس ایک پائیدار حقیقت کی یاد دلاتا ہے۔ ملک کی سلامتی اور اقتدار، ولایت کی پیروی، ایمان، اتحاد، علم، تیاری اور ایسی قوم کے عزم و ارادے کا نتیجہ ہے جو اپنی سرزمین اور آزادی کے دفاع کے لیے ہمیشہ ثابت قدم رہنے کو تیار ہے۔
