امریکی عوام کے نام سپاہ کے خط کا متن منتشر کر دیا گیا
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کے عوام کے نام خط کا متن جاری کر دیا گیا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے امریکی عوام کے نام خط کے بعض حصوں میں آیا ہے:
’’وہ لوگ جو اس سیاہ انجام کو تبدیل کر سکتے ہیں، وہ خود آپ امریکی عوام ہیں۔ فلسطین پر قابضین سے خود کو الگ کر لیں جو بالآخر وہاں سے نکلنے اور اپنے ممالک کو واپس جانے پر مجبور ہوں گے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ پُر امن باہمی بقا اختیار کر سکتے ہیں۔
اس بدمعاش، طفل کُش، شہوت پرست اور بے عقل حکومت کو ہٹا دیں۔ اپنے امور غنڈوں کی بجائے مفکرین کے سپرد کریں اور انہیں یاد دلائیں کہ دنیا بدل چکی ہے۔
دنیا کے لوگ بیدار ہو چکے ہیں۔ نیزوں کی نوک کے زور پر قوموں کی دولت لوٹنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ یہ صدی قوموں کی مرضی کی بالادستی کی صدی ہے۔ اس غیر انسانی راستے کا تسلسل امریکہ کے لیے ایک دردناک انجام رقم کرے گا کیونکہ ’مظلوم کا ظالم کے خلاف دن، ظالم کے مظلوم کے خلاف دن سے کہیں زیادہ سخت ہوگا‘۔
سات ماہ قبل یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کی جارح فوج نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک جنگی جرم کے ارتکاب میں میناب کے ایک پرائمری سکول پر حملہ کر کے 168 بچوں اور طالب علموں کا قتل کیا اور اسی وقت اسلامی انقلاب کے رہنما امام سید علی خامنہ ای کے دفتر پر بھی حملہ کیا اور معظم رہنما اور ان کے اہل خانہ جن میں ان کی 14 ماہ کی نواسی بھی شامل تھی، کو شہید کر کے ایران کے خلاف جنگ شروع کی۔ اس جنگ کے دوران اب تک 3600 سے زائد افراد جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی، جن میں 400 بچے بھی شامل تھے، شہید ہو چکے ہیں اور 8 یونیورسٹیز، 3 ہسپتال اور 8 سکول بمباری کا نشانہ بنائے گئے لیکن اس جنگ میں بے رحمیوں اور بے مثال جرائم کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کو سخت شکست ہوئی اور اسلامی انقلاب نے فیصلہ ک6ن فتح حاصل کی۔
امریکہ کی نہ ختم ہونے والی جنگوں کی تاریخ میں حقیقت سب سے پہلا شکار رہی ہے اور امریکی عوام ان جنگوں کے مستقل شکار رہے ہیں۔ ان جنگوں کے اخراجات امریکی ٹیکس دہندگان ادا کرتے ہیں لہٰذا انہیں ان حقائق سے آگاہ ہونے کا حق ہے جو ان سے پوشیدہ رکھے جاتے ہیں۔ آئیے چند سوالات سے آغاز کرتے ہیں۔
ایران کیوں کامیاب ہوا اور امریکی فوج جس کا سالانہ بجٹ ایرانی مسلح افواج کے بجٹ سے سو گنا زیادہ ہے اور جس کے ہتھیار اور ساز و سامان سینکڑوں گنا زیادہ ہیں، اسلامی جمہوریہ کے ساتھ جنگ میں کیوں شکست کھا گئی؟ کیا ایرانی عوام کو امریکی عوام سے دشمنی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ایرانی عوام ’مردہ باد امریکہ‘ کا نعرہ کیوں لگاتی ہے؟ کیا سپاہ کو دہشت گرد قرار دینے کے حوالے سے امریکی حکومت کا دعویٰ درست ہے؟ ایرانی عوام پر دوبارہ تسلط قائم کرنے کی امریکی حکومت کی 48 سالہ وسیع کوششیں مسلسل ناکام کیوں ہو رہی ہیں؟ موجودہ صورتحال جاری رہنے کی صورت میں امریکی حکومت تیزی سے زوال کی طرف کیوں بڑھ رہی ہے؟ اس جنگ کا مستقبل کیا ہوگا؟ امریکی عوام کس طرح ظالمانہ جارحیت کے اثرات سے خود کو بچا سکتی ہے اور آنے والی تباہی سے نجات حاصل کر سکتی ہے؟
یہ وہ مسائل ہیں جنہیں ہم اس مخلصانہ خط میں آپ کے ساتھ زیرِ بحث لانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کو ہماری صداقت پر شک ہے تو آپ مختصر سفر کر کے ایران میں اپنی پسند کی کسی بھی جگہ حتیٰ کہ آبنائے ہرمز کا دورہ کر سکتے ہیں اور ہمارے بیانات کی صداقت کو خود جانچ سکتے ہیں۔‘‘
دفاع پریس کے مطابق، اس خط کا مکمل متن درج ذیل لنکس کے ذریعے پڑھا جا سکتا ہے:
