سوئٹزرلینڈ کی خیانت؛ جنگی جرائم پر خاموشی کے ذریعے انسانی حقوق کی امانت داری سے انحراف

ایران کے خلاف علاقائی جنگ میں امریکہ کے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کے مقابلے میں سوئٹزرلینڈ کی بے عملی اور بے حسی نے جنیوا کے چاروں کنونشنز کے امانت دار کی حیثیت سے اس ملک کی اہلیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
خبر کا کوڈ: 6295
تاریخ اشاعت: 30 September 2026 - 19:50 - 21December 2647

دفاع پریس کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق، ۱۲ روزہ اور ۴۰ روزہ جنگ کے دوران ایران کے بنیادی ڈھانچے اور غیر فوجی اہداف کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی جارحیت کے نتیجے میں بین الاقوامی انسانی قانون کا پورا ڈھانچہ موجودہ دور کے سخت ترین امتحانات میں سے ایک سے دوچار ہوا۔ اس چیلنج کے مرکز میں سوئس کنفیڈریشن کی کارکردگی ہے۔ وہ ملک جسے ۱۹۴۹ء کے جنیوا کے چاروں کنونشنز کا امانت دار اور باضابطہ نگہبان سمجھا جاتا ہے۔ انسانی قانون کے اصولوں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب نے مجرمانہ اقدامات کے ذریعے اقوام متحدہ کے منشور اور اضافی پروٹوکولز کے بنیادی ڈھانچوں کو پامال کیا جبکہ جنیوا نے ایک محتاط طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے علامتی امن پسندانہ کرداروں کو ترجیح دی اور معاہدوں کے امانت دار کی حیثیت سے اپنی فطری صلاحیتوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور نفاذ کی ذمہ داری سے گریز کیا۔

تہران میں سوئس سفارتخانہ

تہران میں سوئس سفارتخانہ

بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور جنیوا کے چاروں کنونشنز کی مشترکہ شق ۱ کے متن کی بنیاد پر، تمام رکن ممالک اور بالخصوص معاہدوں کے نگہبان ملک پر لازم ہے کہ وہ ہر صورتِ حال میں انسانی قانون کا احترام کریں اور اس کے نفاذ کی ضمانت فراہم کریں۔ قانونی نقطۂ نظر سے یہ لازمی اصول کسی نتیجے کی ضمانت دینے کی ذمہ داری نہیں بلکہ اقدامات کرنے کی ذمہ داری ہے یعنی معاہدوں کے نگہبان ملک پر لازم ہے کہ وہ انسانی قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی اور معاہداتی ذرائع اور صلاحیتیں بروئے کار لائے۔

اگرچہ امانت دار ملک کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد یا رکن ممالک کے اتفاقِ رائے کے بغیر یکطرفہ طور پر فریق ریاستوں کی ہنگامی کانفرنس بلانے کا قانونی اختیار حاصل نہیں اور پہلے پروٹوکول کی شق ۹۰ کے تحت ’’بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن‘‘ کو ایکٹیو کرنے کے لیے جنگ کے فریقین کی واضح رضامندی درکار ہے، تاہم سوئٹزرلینڈ معاہدوں کے سہولت کار اور رابطے کے ذریعے کے طور پر اپنی قانونی حدود میں کہیں زیادہ ایکٹیو کردار ادا کر سکتا تھا۔

میدانی حالات اور رونما ہونے والے جرائم کا دوبارہ جائزہ بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کے چونکا دینے والے پہلوؤں کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکہ اور صیہونی حکومت نے اپنے حملوں کے دوران ’’امتیاز‘‘ اور ’’تناسب‘‘ کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ میناب میں ایک تعلیمی مرکز اور پرائمری سکول پر براہِ راست بمباری، سیریک میں شہری اجتماعات اور روایتی شادی کی تقریبات کو دانستہ طور پر تباہ کرنا نیز رہائشی علاقوں اور لامِرد کے سپورٹس ہال پر کلسٹر بموں جیسے خطرناک ہتھیاروں کا اندھا دھند اور غیر انسانی استعمال، پہلے پروٹوکول کی شق ۵۱ اور چوتھے جنیوا کنونشن کی بنیاد پر جنگی جرائم کی واضح اور ناقابلِ تردید مثالیں شمار ہوتے ہیں۔ یہ مجرمانہ اقدامات کوئی حربی غلطی نہیں تھے بلکہ آبادی اور شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف اندھا دھند حملوں کی حکمتِ عملی کا حصہ تھے۔

جنیوا کنونشن

اگرچہ سوئس حکومت نے مفادات کے محافظ دفتر کے ذریعے سفارتی رابطے کے ذرائع برقرار رکھنے، بعض مذاکرات کی میزبانی کرنے، غیر جانب داری کے اصول کی پاسداری کے لیے امریکہ کی بیشتر فوجی پروازوں کی درخواستیں مسترد کرنے اور برداشت کرنے کی تعریف میں عمومی بیانات جاری کرنے جیسے اقدامات کیے، تاہم انسانی قانون کے نقطۂ نظر سے یہ اقدامات رونما ہونے والے سانحے کے مقابلے میں کسی بھی صورت کافی یا متناسب نہیں تھے۔

سوئٹزرلینڈ کا طرزِ عمل کم لاگت والی سفارتی اور فارمل کارروائیوں تک محدود رہا جو جنیوا کے چاروں کنونشنز کی مشترکہ شق ۱ کے لازمی تقاضوں پر عمل کرنے کی بجائے ایک غیر جانب دار میزبان کی حیثیت سے اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی سمت زیادہ متعین دکھائی دیتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے یہاں تک کہ اپنے معمول کے انتظامی اختیارات، مثلاً تمام رکن ممالک کے درمیان معاہدے کی خلاف ورزیوں سے متعلق درج شدہ رپورٹس کی باضابطہ اور فوری ترسیل، میناب اور سیریک کے متاثرہ علاقوں تک بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کریسنٹ کی میدانی رسائی کو آسان بنانے کے لیے سفارتی بنیاد فراہم کرنا اور مشاورتی اجلاسوں کے انعقاد کے لیے ارکان کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ایکٹیو کوششوں سے بھی گریز کیا۔

آخرکار، امریکہ اور صیہونی حکومت کے جنگی جرائم کے مقابلے میں سوئس کنفیڈریشن کی کارکردگی نے انسانی تباہ کاریوں کے سامنے غیر جانب دار امانت داری کے تصور کے پیشِ نظر درپیش گہرے چیلنجز کو نمایاں کر دیا۔ کم از کم ذمہ داریوں پر اکتفا کرنا اور فیصلہ کُن معاہداتی مشاورت کی بجائے سفارتی مصلحتوں کو ترجیح دینا، جنیوا کنونشنز کے باضابطہ نگہبان کو ایک ایکٹیو فریق سے ایک محتاط نگران تک محدود کر چکا ہے۔ بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر جب تک شہریوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ شق ۱ میں موجود صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار نہیں لایا جاتا، جنگی جرائم کے مقابلے میں بے عملی سے پیدا ہونے والی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری معاہدوں کے نگہبان ممالک اور ان کی غیر جانب داری کے دعوے پر بدستور عائد رہے گی۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں