ایران کی میزائل اور ڈرون طاقت نے دنیا کو حیران کر دیا/ ایران کا اقتدار دفاعی صلاحیت، قومی اتحاد اور قیادت کی بنیاد پر قائم ہے، حجۃ الاسلام سعیدی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر کے مطابق، رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی کے عقیدتی اور سیاسی دفتر کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین علی سعیدی نے اسلامی انقلاب اور مقدس دفاع اقر مزاحمت کے قومی عجائب گھر میں منعقدہ تحفظِ آثار و نشرِ اقدارِ دفاع مقدس اور مزاحمت آرگنائزیشن کے معاونین، تنظیموں کے سربراہان اور ڈائریکٹر جنرلز کے دسویں تربیتی اور بصیرتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایثار اور شہادت کی ثقافت کے فروغ کی اہمیت پر کہا کہ شہادت ایک عظیم توفیق ہے جو مخصوص اور خداوندِ متعال کی خصوصی توجہ کے حامل افراد کو نصیب ہوتی ہے۔

حجۃ الاسلام سعیدی نے ایران کے خلاف امریکہ کی سازشوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ امریکیوں نے برسوں تک ایران کے خلاف اپنی تمام سازشیں اور حربے آزمائے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ اسی لیے گزشتہ سال وہ خود میدان میں اترے تا کہ معاملے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں، تاہم وہ فوجی میدان میں کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے اور انہیں بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی کے عقیدتی اور سیاسی دفتر کے سربراہ نے مزید کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ دو جوہری طاقتیں بیک وقت ایران کے ساتھ جنگ میں ملوث ہوئیں اور یہ بھی پہلی بار واقع ہوا ہے کہ ایران نے متحدہ عرب امارات سے لے کر اردن تک امریکی فوجی اڈوں کو براہِ راست نشانہ بنایا۔
انہوں نے ایران کے خلاف امریکی جنگی بحری جہازوں کی صف بندی اور جنگ میں ان کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے امریکہ کے 15 فوجی اڈوں پر تقریباً 300 اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی بالادستی قائم کر کے عالمی سامراج اور اس کے اتحادیوں کو سینکشنز کا تلخ ذائقہ چکھایا۔ آج آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات ان تمام ممالک کے ہر شہری کے دسترخوان تک پہنچ چکے ہیں جنہوں نے ایران کے خلاف کارروائی کی۔
حجۃ الاسلام سعیدی نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ ایران نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی ناقابلِ شکست ہونے کی ساکھ کا طلسم توڑا ہے اور اب دو اہم ٹیکٹیکل آبنائے، ہرمز اور باب المندب، محاذِ مزاحمت کے کنٹرول میں ہیں۔
رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی کے عقیدتی اور سیاسی دفتر کے سربراہ نے ایرانی قوم کی بیداری اور میدان میں آنے کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ ایرانی عوام نے سڑکوں پر نکل کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے انقلاب اور ملک کا دفاع کریں گے۔
انہوں نے ایران کی طاقت کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح پر یورینیم اِنریچمنٹ کی صلاحیت، وافر تیل اور گیس کے ذخائر، ایران کی غیر معمولی اور حیران کن دفاعی طاقت، اس کا ٹیکٹیکل عمق، آبنائے ہرمز پر اس کا اختیار، مضبوط قیادت اور قومی اتحاد، یہ تمام عوامل ایران کی طاقت کی عکاسی کرتے ہیں۔
حجۃ الاسلام سعیدی نے ایران کی اعلیٰ فوجی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران غیر معمولی میزائل اور ڈرون طاقت رکھتا ہے۔ اس نے امریکہ کے ساتھ جنگ میں اپنی اس صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا، جس پر دنیا حیران رہ گئی۔
رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی کے عقیدتی اقر سیاسی دفتر کے سربراہ نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں یاد دلایا کہ جنگِ رمضان کے بعد ایرانی قوم کے مقام و مرتبے میں واضح طور پر اضافہ سامنے آیا ہے اور دنیا کے ممالک اب ایران کی صلاحیتوں کو خصوصی اہمیت دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگِ رمضان کے بعد امریکی فوج اور صیہونی حکومت کی فوج کو ایک طاقتور فوج سمجھنے کا تصور بدل گیا ہے اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان کی افواج میں بہت سی کمزوریاں موجود ہیں۔
حجۃ الاسلام سعیدی نے کہا کہ آج جنگِ رمضان کے بعد امریکہ کے بہت سے شہریوں اور نوجوانوں کی اسرائیل کے بارے میں سوچ بدل چکی ہے اور اب اسرائیل کے حوالے سے پہلے جیسا تصور باقی نہیں رہا۔ اسی طرح جنگِ رمضان کے بعد امریکہ کی طاقت کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور مغربی ایشیاء کے خطے کے حوالے سے سابقہ سیکیورٹی سسٹم میں بھی تبدیلی آ گئی ہے۔
رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی کے عقیدتی و سیاسی دفتر کے سربراہ نے کہا کہ جنگِ رمضان کے نتیجے میں ایران کی فوجی طاقت کا مظاہرہ ہوا اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایران کی عسکری ساز و سامان سے متعلق صلاحیتیں دنیا کے سامنے آشکار ہو چکی ہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ ایران غیر متوازن جنگی صلاحیتوں کے ذریعے دشمن کو شکست دے کر جنگ میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
حجۃ الاسلام سعیدی نے جنگِ رمضان میں موجود متعدد اسباق اور عبرتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم تشویش اور مصنوعی ڈائے پولر تقسیم پیدا کرنا ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ، قیادت کی اطاعت کرتے ہوئے ہر قسم کی ڈائے پولر تقسیم سے گریز کریں۔
