آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار دیو ہیکل بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا/ خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اپنے اعلامیہ نمبر ۱۸ میں بتایا ہے کہ ایل پی جی گیس بردار ایک دیو ہیکل بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا جو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں غیر قانونی راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس اعلامیے کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ایران کی اسلامی سرزمین کی بہادر اور سر بکف قوم!
آپ کی جانب سے ۲۲۰ راتوں تک لاکھوں افراد کی بھرپور موجودگی، ثابت قدمی اور استقامت کے ذریعے حق و انصاف کے دفاع میں جو معرکہ رقم کیا گیا ہے، اس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے، اقوام کو دنیا کی صورتِ حال کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دی ہے اور یہ اسلام کے مجاہدین کے لیے اللہ کی جانب سے سب سے اہم پشت پناہی اور حوصلے کا باعث ہے۔
سپاہ کی بحریہ کے جانباز، سپریم کمانڈرِ انچیف کے حکم اور ایرانی عوام کی عمومی خواہش کے مطابق آبنائے ہرمز پر حاکمیت نافذ کرنے کے لیے اس آبنائے کا انتظام اپنے اختیار میں رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس علاقے میں جارح افواج کو موجودگی کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی آئندہ دیں گے جبکہ اس انتظام میں خلل ڈالنے کے لیے دشمن کی شرارتوں کا پوری سختی سے مقابلہ کریں گے۔
اس مشن کی انجام دہی کے دوران چند گھنٹے قبل این وی سن شائن (NV Sunshine) نامی ایل پی جی گیس بردار ایک دیو ہیکل بحری جہازجو ناٹ وِٹ (NatWit) کمپنی کی ملکیت ہے اور آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں غیر قانونی راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، نشانہ بنا۔ اس کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم اور انٹرنل سسٹم میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ اعلان کرتی ہے:
۱۔ سب جان لیں کہ ان واقعات اور خطے میں بحری نقل و حمل کے دوران کشیدگی بڑھانے کی براہِ راست ذمہ داری امریکہ کی جارح فوج پر عائد ہوتی ہے جو جہاز رانی کی کمپنیوں اور بیمہ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے انتظامی معاملات میں مداخلت، انہیں دھوکہ دینے اور بھاری رشوتیں ادا کرنے کے ذریعے ایسے واقعات کا سبب بنتی ہے۔ ان مداخلتوں کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں ایسے ناخوشگوار واقعات روز بروز بڑھتے جائیں گے۔
۲۔ جو کمپنیاں امریکی جارحین کے دھوکے میں آئیں گی، انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے تمام بحری جہازوں کے خلاف ضروری تأدیبی اقدامات کیے جائیں گے۔
۳۔ آئندہ خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی۔ جو بھی جہاز غیر مجاز گزرگاہ سے گزرے گا، اس کا پورے خطے میں تعاقب کیا جائے گا اور اسے سزا دینے کو یقینی بنایا جائے گا۔
وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ
