مغربی ایشیاء میں دشمن کو نیا علاقائی نظام قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے/ پروپیگنڈا پر مبنی جنگ، زمینی حقائق کو نہیں بدل سکتی، جنرل شکارچی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، مسلح افواج کے سینیئر ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے ایک پیغام میں تاکید کرتے ہوئے کہا: "ہم مغربی ایشیاء میں دشمن کو اپنا علاقائی نظام ازسرِ نو قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ خطے کے ممالک کو امریکہ کے ناکام سیکیورٹی حصار سے نکل جانا چاہیے۔"

اس پیغام کا متن درج ذیل ہے:
امریکہ مغربی ایشیاء میں اپنے ہی پیدا کردہ دلدل سے نکلنے کے لیے، جس میں وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دھنستا جا رہا ہے، ایندھن کی اسمگلنگ کا سہارا لے رہا ہے۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا بحری قزاقی، چوری اور ایندھن کی اسمگلنگ امریکہ کی یقینی شکست کو روک سکتی ہے؟ ہرگز نہیں!
آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے حوالے سے امریکی حکّام کی پروپیگنڈا پر مبنی جنگ اور مسلسل جھوٹ، زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ نہ نفسیاتی کارروائیاں اور نہ ہی ذرائع ابلاغ میں کیے جانے والے دعوے واشنگٹن کو اس کی ناکام حکمتِ عملیوں کے نتائج سے بچا سکتے ہیں۔
شکست کو پروپیگنڈے اور نفسیاتی جنگ کے ذریعے چھپایا نہیں جا سکتا اور زمینی حقائق کو شور و غوغا سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تہذیب، تاریخ اور ایرانی قوم کے بارے میں امریکہ کے متوہم اور بے فکر حکام کی حالیہ توہین آمیز باتیں نہ صرف ان کی بے بسی کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ ایرانی عوام کے پختہ عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
ہم متعدد بار اپنے امریکی اور صیہونی دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کو اپنی طاقت اور عزم دکھا چکے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج آج ماضی کے مقابلے میں زیادہ تیاری اور صلاحیتوں کے ساتھ قومی مفادات، ملکی سلامتی اور اسلامی ایران کے وجود اور شناخت کا بھرپور دفاع کر رہی ہیں اور پوری طاقت سے حملہ کرتے ہوئے دشمنوں پر شکست مسلط کریں گی۔
خطے کے ممالک کو امریکہ کے ناکام سیکیورٹی حصار سے نکل جانا چاہیے۔ واشنگٹن خطے میں اپنی سلامتی یقینی بنانے سے بھی عاجز ہے، چہ جائیکہ وہ دوسروں کی سلامتی فراہم کر سکے۔ امریکہ کے نام نہاد سیکیورٹی حصار پر انحصار جاری رکھنے کا نتیجہ ایک غلط اندازے اور فیصلے کی بھاری قیمت ادا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
خطے کے ممالک عملی میدان میں امریکہ کے نام نہاد سیکیورٹی حصار کی ناکارآمد ہونے کا تجربہ کر چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اس تجربے سے سبق سیکھیں اور ٹرمپ اور نیتنیاہو کی بوسیدہ رسی کے سہارے خود کو موت کے کنویں میں نہ دھکیلیں۔ ہم مغربی ایشیاء میں امریکہ اور صہیثونی حکومت کے مطلوبہ علاقائی نظام کو ازسرِنو قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
