شہید نصیرزادہ؛ دور اندیش کمانڈر

شہید لیفٹیننٹ جنرل پائلٹ عزیز نصیرزادہ محض ایک وزیر یا کمانڈر نہیں تھے؛ وہ ایسے مستقبل کے بارے میں سوچتے تھے جہاں ایران کی سلامتی علم، اپنی ذات پر اتکا، مقامی ٹیکنالوجی اور باصلاحیت نوجوانوں کے مضبوط سہارے پر استوار ہو۔
خبر کا کوڈ: 6145
تاریخ اشاعت: 08 August 2026 - 21:15 - 30October 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے نائب سربراہ بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابن الرضا نے کہا: ہفتۂ حکومت ہمارے لیے صرف ذمہ داری پوری کرنے اور خدمت انجام دینے کی یاددہانی ہی نہیں بلکہ ان مردانِ عمل کی یاد بھی ہے جو ذمہ داری کو محض ایک منصب نہیں بلکہ الٰہی امانت سمجھتے تھے اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اس سرزمین کی عزت اور سلامتی کے لیے وقف کر دیتے تھے۔ ان شخصیات میں شہید لیفٹیننٹ جنرل پائلٹ عزیز نصیرزادہ کا نام وزارت دفاع اور اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صنعت کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہے گا۔

جنرل ابن‌الرضا

ہم انہیں برسوں سے ایک بہادر پائلٹ، تجربہ کار کمانڈر اور عملی میدان کے ماہر منتظم کے طور پر جانتے تھے؛ وہ ایک محنتی وزیر، سادہ طبع، تکلفات اور غیر ضروری پروٹوکول سے دور، قومی خزانے کے انتہائی محافظ، ولایت فقیہ کے وفادار اور صاحبِ ایمان انسان تھے۔ تاہم ان تمام نمایاں خصوصیات سے قطع نظر، ان کی دور اندیشی ہی ان کی سب سے نمایاں امتیازی خصوصیت تھی۔ شہید نصیرزادہ وزارت دفاع کو محض دفاعی ساز و سامان تیار کرنے والے ادارے کے طور پر نہیں دیکھتے تھے؛ وہ اس وزارت کو اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے طاقت، اقتدار اور مستقبل کی تعمیر کے انجن کی حیثیت دیتے تھے۔

خصوصی اجلاسوں میں وہ ہمیشہ ایک نکتے پر تاکید کیا کرتے تھے کہ مستقبل کے خطرات ماضی کے خطرات جیسے نہیں ہوں گے اور دفاعی صنعت کو بھی ماضی کی سوچ کے ساتھ آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ان کا یقین تھا کہ اگر ہمیں پائیدار سلامتی حاصل کرنی ہے تو ہمیں ضرورت سے زیادہ تیزی کے ساتھ میدانِ جنگ کے لیے تیار ہونا ہوگا؛ کسی بھی ٹیکنالوجی کے میدانِ جنگ میں پہنچنے سے پہلے ہی ہمیں اسے اپنے اختیار میں لینا ہوگا اور دشمن سے پہلے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

وہ بخوبی جانتے تھے کہ ڈیٹرنس محض اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر کا نتیجہ نہیں بلکہ فکر، ٹیکنالوجی، جدت اور قومی عزم کا ثمر ہے۔ اسی لیے وہ میزائل، دفاعی ڈرونز، خلائی اور الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ سسٹمز کو سمارٹ بنانے، جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال اور ماہر انسانی سرمائے کی ٹریننگ پر بھی مسلسل تاکید کیا کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ دفاعی ساز و سامان کی ہر نئی نسل ماضی کی دہرائی ہوئی نہیں بلکہ ایک تکنیکی جست کا نتیجہ ہونی چاہیے۔

ان کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک، انسان اور ٹیکنالوجی پر بیک وقت توجہ دینا تھی۔ ان کا یقین تھا کہ جدید ترین دفاعی ساز و سامان بھی مومن، ماہر اور پُرجوش انسانی قوت کے بغیر حقیقی طاقت میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے وہ انسانی سرمائے کی ترقی، ڈھانچے میں اصلاحات، کارکردگی میں اضافے اور جہادی جذبے کے فروغ کو ٹیکنالوجی کی ترقی کے برابر اہمیت دیتے تھے۔ انہوں نے فضائیہ میں پہلے سے نافذ کیے گئے «نجوا» منصوبے کے ذریعے، جس کا مقصد انقلابی اور ولایت فقیہ کے وفادار نوجوان ماہرین کی شناخت تھا، باایمان، پر یقین اور ولایت سے وابستہ صلاحیتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور امید رکھتے تھے کہ دفاع اور دفاعی صنعت کا مستقبل انہی افراد کی بنیاد پر استوار کیا جائے گا۔

حالیہ مسلط کردہ جنگ نے ان کے بہت سے نظریات کو عملی طور پر ثابت کر دیا۔ دشمن اچھی طرح جان چکا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی طاقت کئی دہائیوں کی سائنسی، صنعتی اور تکنیکی جدوجہد کا نتیجہ ہے؛ اسی لیے اس نے دفاعی صنعت کے بنیادی ڈھانچوں کو اپنے اہم اہداف میں شامل کیا۔ تاہم، جیسا کہ شہید نصیرزادہ بارہا کہا کرتے تھے، جب علم، تجربہ اور عزم کسی قوم میں رچ بس جائیں تو کوئی بھی حملہ اس کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتا۔

آج جب ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے دفاعی صنعت کے انقلاب کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ہم ایک فکری بنیاد کے انداز میں تبدیلی کی بات کر رہے ہیں؛ ایسی تبدیلی جس نے دفاعی صنعت کو آج کی ضروریات پوری کرنے سے آگے بڑھا کر کل کی طاقت تعمیر کرنے کے مرحلے تک پہنچایا۔ شہید نصیرزادہ اس سوچ کے معماروں میں شامل تھے؛ ایسی سوچ جو چاہتی تھی کہ دفاعی صنعت ہمیشہ پیش آنے والے خطرات سے ایک قدم آگے رہے۔

بلاشبہ، شہید کمانڈر ہم میں موجود نہیں رہے لیکن ان کی فکر زندہ ہے۔ انہوں نے جس راستے کا آغاز کیا، اسے سائنس دانوں، ماہرین، انجینئرز اور دفاعی صنعت سے وابستہ کارکنان کی محنت کے ذریعے جاری رکھا جائے گا اور اسلامی جمہوریہ ایران، اللہ تعالیٰ پر توکل اور اپنے عظیم انسانی سرمائے کے سہارے، اس راستے پر مزید طاقت اور تیزی کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا۔

شہید لیفٹیننٹ جنرل پائلٹ عزیز نصیرزادہ محض ایک وزیر یا کمانڈر نہیں تھے؛ وہ ایسے مستقبل کے بارے میں سوچتے تھے جہاں ایران کی سلامتی علم، اپنی ذات پر اتکا، مقامی ٹیکنالوجی اور باصلاحیت نوجوانوں کے مضبوط سہارے پر استوار ہو۔ یہی فکر ان کا ایسا ورثہ ہے جو ہمیشہ باقی رہے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے راستہ روشن کرتا رہے گا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں