آبنائے ہرمز میں امریکی MQM-170 ڈرون کو الیکٹرانک طریقے سے قبضے میں لے لیا گیا/ ڈرون بحفاظت اتار لیا گیا
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے ایک اعلامیے میں کہا کہ اس فورس کے الیکٹرانک جنگی یونٹ نے ایک جارحانہ کارروائی کے دوران امریکی MQM-170 ڈرون کو دریافت اور شناخت کرنے کے بعد آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں اس کے گائیڈنگ اینڈ کنٹرول سسٹم پر قبضہ کر لیا اور اسے بحفاظت زمین پر اتارنے میں کامیابی حاصل کی۔

جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس ڈرون کا مشن خلیج فارس کے ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز میں ایران کے ائیر ڈیفنس سسٹمز کی نشاندہی کرنا تھا۔
مزید برآں، اس ڈرون سے بازیاب ہونے والی معلومات کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی پرواز کا نقطۂ آغاز خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع کسی ایک ملک میں تھا۔ اس کارروائی کی اہمیت یہ ہے کہ ڈرون کی باڈی تباہ کیے بغیر ایرانی فورسز نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا جس سے اس کے آلات، محفوظ شدہ ڈیٹا اور مشن کی تفصیلات کا جائزہ لینے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
امریکی کمپنی "گریفون ایرو سپیس" کا تیار کردہ MQM-170 آؤٹ لا (Outlaw) ڈرون بنیادی طور پر فضائی خطروں کی نقل تیار کرنے، ائیر ڈیفنس سسٹمز کی آزمائش اور ائیر ڈیفنس اہلکاروں کی ٹریننگ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ڈرونز کے اس قبیلے بالخصوص MQM-170C آؤٹ لا G2 ماڈل میں کیمروں، سینسرز اور مختلف آلات کی تنصیب کی گنجائش موجود ہے۔ یہ ڈرون پرواز کرنے والے ٹارگٹ کا کردار ادا کرنے کے علاوہ ائیر ڈیفنس سسٹمز کے ردِعمل کی آزمائش اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس نوعیت کے مشنز میں مقصد صرف فوجی ٹھکانوں کی تصاویر حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ ائیر ڈیفنس کے ردِعمل کے طریقۂ کار کا مطالعہ، ٹارگٹس کا سراغ لگانے کی صلاحیت کو سمجھنا اور ائیر ڈیفنس سسٹمز کی کارکردگی کا جائزہ لینا بھی اہمیت رکھ سکتا ہے۔ اس تناظر میں کسی ڈرون کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے کر اسے بحفاظت زمین پر اتارنا محض ایک ائیر ٹارگٹ کا مقابلہ کرنے سے کہیں بڑھ کر ہے اور اس کے ذریعے مخالف فریق کے آلات اور مشنز کی انجام دہی کے طریقۂ کار کو سمجھنے میں انٹیلیجنس سے متعلق اہم کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔
