امریکہ کے لیے آئی آر جی سی کے نئے میزائل کیسے مہنگے ثابت ہوئے؟

آئی آر جی سی کی ایرو اسپیس فورس کے ماہرین جنگ کے دوران اپنی تکنیکی مہارت اور عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے میزائلوں کے ڈیزائن اور پروڈکشن میں تبدیلیاں لائے جس کے نتیجے میں نئے میزائل تیار کیے گئے اور امریکی فوجی ٹارگٹس کے خلاف کارروائیوں میں ان کی اثرانداز ہونے میں اضافہ ہوا۔
خبر کا کوڈ: 6143
تاریخ اشاعت: 07 August 2026 - 22:02 - 29October 2647

دفاع پریس کے مطابق 40 روزہ جنگ کے اختتام کے بعد، جب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایران کے جنوبی علاقوں کے خلاف متعدد کارروائیاں کیں، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایرانی فوج کے ساتھ مل کر ’’جنگِ ہرمز‘‘ کے دوران امریکی فوج کے مراکز، فوجی پوزیشنز اور عسکری ساز و سامان کو شدید نقصان پہنچایا۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے اس مرحلے میں امریکی فوج کو پہنچنے والا نقصان گزشتہ مراحل کے تقابل میں کہیں زیادہ تھا۔ اسی دوران بعض غیر سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج کو اپنے میزائل اور ڈرون حملوں کی زد سے محفوظ رکھنے کے لیے کویت اور عراق کے شہر سلیمانیہ میں موجود بعض فوجی اڈوں سے انخلا پر غور کرنا پڑ رہا ہے۔

میزائل

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج، بالخصوص سپاہ کی ایرو اسپیس فورس کے میزائل حملوں سے امریکی فوج کو ہونے والے شدید نقصان کی ایک ممکنہ وجہ دشمن کی افواج اور عسکری ساز و سامان کی تعیناتی اور پھیلاؤ سے متعلق حاصل ہونے والی معلومات کے بعد میزائلوں میں کی جانے والی تبدیلیاں ہیں۔

حالیہ دنوں میں سپاہ کے میزائل لانچ کیے جانے کی جاری ہونے والی تصاویر میں ان میزائلوں کی ساخت میں بعض نمایاں تبدیلیاں دکھائی دیتی ہیں۔ بظاہر ’’حاج قاسم‘‘ میزائل گروپ کے بوسٹر کو مختلف وارہیڈز جن میں ’’خیبرشکن‘‘ اور ’’فتاح‘‘ میزائلوں کے وارہیڈز شامل ہیں، کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔

اس طریقہ کار کا مقصد نئے میزائل کی ازسرنو ڈیزائننگ اور اس سے متعلق اضافی اخراجات سے بچنا، پیداواری لاگت کو کم کرنا اور کم وقت میں بڑے پیمانے پر میزائلوں کی تیاری ممکن بنانا بتایا گیا ہے۔

حالیہ ایرانی میزائل آپریشنز کی تصاویر میں بوسٹر اور وارہیڈ کے ظاہری فرق سے اندازہ ہوتا ہے کہ حاج قاسم میزائل کے وارہیڈ پر آٹھ فنز نصب ہیں جبکہ خیبرشکن اور فتاح میزائلوں کے وارہیڈز میں چار فنز استعمال کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فتاح اور خیبرشکن میزائلوں کے وارہیڈز کو حاج قاسم میزائل کے بوسٹر کے ساتھ استعمال کرنے کی ایک ممکنہ وجہ ان میزائلوں کی تقریباً یکساں رینج اور ٹھوس ایندھن کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق حاج قاسم اور فتاح میزائلوں کی رینج تقریباً 1400 کلومیٹر جبکہ خیبرشکن میزائل کی رینج تقریباً 1450 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حاج قاسم میزائل کے بوسٹر کو فتاح اور خیبرشکن کے وارہیڈز کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ایک پیچیدہ اور حسّاس تکنیکی عمل ہے۔

خاص طور پر ایسے وقت میں جب موجودہ حالات کے باعث میزائلوں کے عملی تجربات کی گنجائش محدود ہو اور آپریشنل استعمال کے لیے بنیادی طور پر لیبارٹری سے حاصل شدہ ڈیٹا پر انحصار کرنا پڑے، اس نوعیت کی تبدیلی کو سپاہ کی ایرو اسپیس فورس کے ماہرین کی تکنیکی مہارت اور جنگ کے دوران فوری جدت اور عملی تخلیقی صلاحیت کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران دستیاب وسائل کو نئے انداز میں استعمال کرتے ہوئے میزائلوں کی ساخت میں یہ تبدیلیاں ایرانی فضائی اور میزائل ماہرین کی اعلیٰ تکنیکی اور میدانِ جنگ کی ضروریات کے مطابق فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہیں۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں